سراج الحق، بیرسٹر سیف، عبدالغفور حیدری کا جذباتی خطاب،حکومتی کشمیر پالیسی پر تحفظات کا اظہار
شیری رحمان،رضا ربانی، فاروق نائیک کا مدلل خطاب ،ارکان کی سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شرکت
اسلام آباد(محمدرضوان ملک )پانچ اگست کو یوم استحصال کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے بلایا گیا سینٹ کا سلوگن تھا کشمیر ہمارا ہے ۔ خصوصی اجلاس کئی حوالوں سے ایک اہم اجلاس تھا ۔ 32 سال بعد کسی صدر نے سینٹ کے اجلاس سے خطاب کیا۔ بڑی تعداد میں غیر ملکی سفراء نے بھی سینٹ کے اس خصوصی اجلاس کی کاروائی دیکھی ۔سینٹر سراج الحق، سینٹر بیرسٹر سیف اور عبدالغفوری حیدری نے کمشیر کے حوالے سے کافی جذباتی خطاب کیا اور حکومت کی کمشیر پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ۔شیری رحمان، رضا ربانی اور فاروق ایچ نائیک کا خطاب مدلل تھا۔سینٹرز نے جہاں حکومتی اقدامات کو ناکافی قراردیتے ہوئے ان پر تنقید کی وہیں بعض نے کافی مثبت تجاویز بھی دیں۔ارکان سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے۔ بیرسٹر سیف نے پٹی نہیں باندھی تھی اور انہوں نے اپنے خطاب کے دوران اس کی وجہ بھی بتائی۔ یوم استحصال کے حوالے سے بحث میں حصہ لیتے ہوئے قریبا تمام سینٹرز نے چئیرمین کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے اس اہم موقع پر یہ اہم اجلاس بلایا۔
جماعت اسلامی کے امیر سینٹر سراج الحق نے حکومتی پالیسی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں تقریر تو کافی اچھی کی۔ لیکن جب عمل کا وقت آیا تو کچھ نہ کیا حتیٰ کہ یہ کہ دیا کہ جو مظلوم کشمیریوں کی مدد کے لئے مقبوضہ کشمیر کی جانب جائے گا وہ پاکستان سے غداری کرے گا۔ انہوںنے یاد دلایا کہ 1947 ء میں بھی جنرل گریسی نے یہی کہا تھا کہ جو کشمیر کی طرف جائے گا وہ پاکستان کا غدار ہوگا۔آج بہتر سالوں بعد اس حکومت نے بھی کشمیر کے حوالے سے جنرل گریسی کی پیروی کی۔
اراکین سینٹ نے تجویز کیا کہ کشمیر کے حوالے سے ہر فیصلے سے قبل حکومت کشمیریوں، پارلیمنٹ اور حریت قیادت کو اعتماد میں لے ، جب تک بھار ت پانچ اگست کا فیصلہ واپس نہیں لیتا اس سے ہر طرح کی تجارت بند کرنے کیلے ساتھ ساتھ اس کے لئے پاکستان کی فضائی حدود بھی بند کی جائے۔ مئوثر سفارت کاری کیلئے بیرون ملک وفود بھیجے جس میں حریت قیادت بھی ہو۔سراج الحق نے کہا کہ حریت قیادت اس پر خوش نہیں ہے کہ کشمیر ہائی وے کا نام تبدیل کر کے سری نگر ہائی وے رکھا جائے کیونکہ صر ف سری نگر نہیں پورا کشمیر ہمارا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صدر آزاد کشمیر نے بھی تسلیم کیا ہے کہ جہا د کے علاوہ کشمیر کی آزاد ی کا کوئی حل نہیں ہے۔ اذان ہونے کے باوجود بھی انہوں نے اپنا جذباتی خطاب جاری رکھا چئیرمین کے تیسری بار یاد دلانے پر کہ اذان ہورہی ہے انہوں نے اپنا خطاب ختم کیا۔ سینٹر فاروق ایچ نائیک نے بھی کافی مدلل دلائل دئیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیری رہنماں کو دنیا سے رابطے کی آزادی دی جائے، تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ بیرسٹر سیف نے تجویز کیا کہ پارلیمان کی سطح پر تمام دنیا کی پارلیمان سے رابطے کئے جائیں کیونکہ وہاں عوامی نمائندے ہوتے ہیں۔ عیسائیوں اور ہندوں کے مذہبی رہنمائوں سے ملا جائے۔ انہوں نے کہا کالی پٹیاں پہننے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا قوموں کو عزت اس وقت ملتی ہے جب وہ اپنے حقوق کے لئے لڑتی ہیں۔ اب اگر ہم نے کشمیر کو سنجیدہ نہ لیا تو بہت دیر ہو جائے گی۔
رضا ربانی نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کشمیر کے ساتھ ساتھ کسی بھی معاملے پر پارلیمان کو اہمیت نہیں دے رہی نقشہ تبدیل کرتے ہوئے پارلیمان سے مشاورت ہوئی اور نہ کشمیر ہائی وے کا نام تبدیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان احتجاجا او آئی سے اپنی ممبر شپ معطل کرے۔ سینٹر عثمان کاکٹر نے کہا کشمیر کی آزادی کیلئے خلوص اور ایمان کی ضرورت ہے جو ہماری حکومت میں نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے کشمیر کا سودا کر دیا ہے ۔اپوزیشن بھی اس معاملے پر اس کی حمایت کر رہی ہے ۔ اب یہ سب بیکار کی بحثیں ہیں۔ سینٹر جاوید عباسی نے کہا اب وقت آگیا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتیں ملٹری اور کشمیری قیادت مل کر ایسی پالیسی بنائیں جو قابل عمل ہو۔
بدھ کو سینٹ کے اجلاس کی ایک اہم بات یہ تھی بڑی تعداد میں مختلف ممالک کے سفراء نے بھی ایوان بالا کی کاروائی دیکھی امید ہے کہ وہ اپنی حکومتوں کو کشمیر پر ہونے والے بھارتی مظالم سے آگاہ کریں گے۔
جن ممالک کے سفراء اس وقت موجود تھے ان میں یورپی یونین کی سفیر افغانستان، اٹلی، اردن، شام، لبنان، ترکی، رومانیہ، پرتگال، بوسنیا ہرزگوینہ، انڈونیشیائ، ایران، قطر، پولینڈ، آذربائیجان، یونان مالدیپ، جمہوریہ چیک، سوڈان، عراق، جرمنی، چائنہ، سوئٹزرلینڈ، مصر، نیپال، سپین، ہنگری اور جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے ہائی کمشنر بھی موجود تھے۔
بشکریہ:نوائے وقت



