فواد چودھری سے پنگا مہنگا پڑا،رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب  عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے

مولانا کے کئی ساتھی بھی فارغ، مولانا عبدالخبیر آزاد رویت ہلال کمیٹی کے نئے چئیرمین ہوں گے

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کرتے ہوئے ایک طویل عرصے سے رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین چلے آرہے مفتی منیب الرحمان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
وفاقی وزرات مذہبی امور کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی چیئرمین سمیت 19 ارکان پر مشتمل ہو گی جبکہ مولانا عبدالخبیر آزاد کو چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔
کمیٹی میں ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، علامہ محمد حسین اکبر، مولانا فضل الرحیم، ڈاکٹر یاسین ظفر، مفتی محمد اقبال چشتی ڈاکٹر مفتی علی اصغر مفتی فیصل احمد، سید علی قرار نقوی اور مفتی یوسف کشمیری شامل ہوں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق حافظ عبدالغفور، مفتی فضل جمیل رضوی، قاری میر اللہ، صاحبزادہ حبیب اللہ چشتی اور مفتی ضمیر ساجد بھی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی میں سپارکو، محکمہ موسمیات کے نمائندے بھی شامل ہوں گے جبکہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارت مذہبی امور کے نمائندے بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

مفتی منیب الرحمان کو سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں رویت ہلال کمیٹی کا چیئرمین تعینات کیا گیا تھا اور وہ طویل عرصے پر تعینات چلے آرہے تھے۔ ان کے دور میں رمضان اور عید کے چاند پر تنازعات کا سلسلہ چلتا رہا۔ پشاور میں مسجد قاسم علی خان کے امام مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے ساتھ ان کا اختلاف رہا جبکہ فواد چوہدری کے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی بننے کے بعد ان کے ساتھ بھی مفتی منیب الرحمان کا ہلال رمضان اور عید کے حوالے سے تنازع رہا۔
وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے سالانہ کیلنڈر متعارف کروایا تھا جس کی مفتی منیب الرحمان نے شدید مخالفت کی تھی۔
مولانا خبیر آزاد 22 سال سے لاہور کی بادشاہی مسجد کے امام ہیں۔ ان کے والد مولانا عبدالقادر آزاد بھی بادشاہی مسجد کے امام رہے۔ آزاد خاندان گذشتہ 50 سال سے بادشاہی مسجد کی امامت سے منسلک ہے۔
مولانا خبیر آزاد نے عربی اور اسلامیات میں ایم اے کیا ہے جبکہ گذشتہ 15 برسوں سے وہ رویت ہلال کمیٹی کے رکن بھی ہیں اور اب انہیں کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔