روشن خیالی میں ایک قدم اور آگے ، بالغ سعودی خواتین سرپرست کی اجازت کے بغیر اپنا نام بدل سکیں گی

جدہ (نامہ نگار)سعودی عرب کے محکمہ شہری امور (احوال المدنیہ) نے کہا ہے کہ 18 برس سے زائد عمر کی سعودی خواتین بغیر سرپرست کی اجازت کے اپنا نام تبدیل کرا سکیں گی۔عربی جریدے عکاظ نے محکمہ سول افیئرز کے حوالے سے مزید کہا ہے کہ قبل ازیں شناختی کارڈ میں نام تبدیل کرانے کا مرحلہ کافی طویل ہوتا تھا جسے اب انتہائی مختصر کر دیا گیا ہے۔دریں اثنا سعودی ٹی وی الاخباریہ سے گفتگو کرتے ہوئے محکمہ سول افیئرز کے ترجمان محمد الجاسر کا کہنا تھا کہ 18 برس سے کم عمروں کے لیے نام میں تبدیلی کیلیے لازمی ہے کہ وہ اپنے سرپرست کے ساتھ آئیں یا ان کی جانب سے مصدقہ این اوسی پیش کریں جس کے بعد ہی نام میں تبدیلی کی جا سکے گی۔ اگر کوئی اپنے نام میں سے آل یا بن کو ہٹانا یا ان کا اضافہ کرانا چاہتا ہے تو اسے خاندان کی جانب سے این اوسی جمع کرانا ہوگا ۔