بریگزٹ: بورس جانسن کو اپوزیشن نے پہلے مرحلے میں شکست دے دی

وزیر اعظم بورس جانسن

برطانیہ کی حکمران کنزرویٹیو پارٹی کے کچھ باغی ارکان اور حزب اختلاف کے ارکان نے حکومت کی جانب سے برطانیہ کی 31 اکتوبر کو بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین سے علیحدگی کو روکنے کے لیے بل منظور کروانے کے پہلے مرحلے میں حکومت کو شکست دے دی ہے۔

ارکان پارلیمان نے اس بل کے حق میں 301 کے مقابلے میں 328 ووٹ ڈالے۔

جس کے جواب میں وزیر اعظم بورس جونسن کا کہنا تھا کہ وہ قبل از وقت عام انتخابات کی قرارداد پیش کریں گے۔ جبکہ جیرمی کوربن کا کہنا تھا کہ یہ بل انتخابات کے انعقاد سے پہلے منظور ہو جانا چایے۔

حکومت کو ووٹنگ میں شکست دینے کے لیے حمکران جماعت سے سابق کابینہ وزرا سمیت 21 ارکان پارلیمان نے اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دیا۔

یہ بھی پڑھیے

بریگزٹ یا نیا وزیراعظم؟

بریگزٹ اکتوبر تک موخر کرنے پر اتفاق

بریگزٹ سے غیرملکیوں کے لیے کیا بدلے گا؟

سونیا خان کی برطرفی، برطانوی حکومت کا نیا تنازع

بریگزٹ

واضح رہے کہ حکومت نے پہلے ہی انتباہ کیا تھا کہ وہ کسی بھی حکومتی رکن پارلیمان کی جانب سے خلاف ووٹ دینے پر سختی سے نمٹتے ہوئے اسے پارٹی سے بے دخل کر دے گی۔

برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کا بل بریگزیٹ مذاکرات پر اثر ڈالے گا اور ‘مزید دوری ، زیادہ تاخیر اور الجھن’ پیدا کرے گا۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم ہاؤس 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے حکام نے متنبہ کیا تھا کہ ناکامی کی صورت میں وزیر اعظم 14 اکتوبر کو ملک میں عام انتخابات کا فیصلہ کر دیں گے۔

جبکہ حزب اختلاف کے بِل کے تحت یورپی یونین سے علیحدگی یا بریگزٹ کا عمل مکمل ہونے کی تاریخ 31 اکتوبر سے بڑھ کر 31 جنوری 2020 ہو جائے گی۔ یہ بِل وزیر اعظم کو پابند کرے گا کہ وہ یورپی یونین سے تاریخ بڑھوانے کی درخواست کریں۔

اس سے بچنے کی دو صورتیں ہیں کہ ارکان پارلیمان 19 اکتوبر سے پہلے بغیر کسی معاہدے کے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دے دیں یا پھر وہ کوئی نیا معاہدہ منظور کر لیں۔

برطانوی وزیر اعظم اپنا موقف واضح کر چکے ہیں کہ یورپی یونین سے کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو 31 اکتوبر کو برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہو جائے گا۔

بریگزٹ

وزیر اعظم بورس جانسن نے پیر کو ٹی وی پر ایک اعلان میں کہا تھا کہ وہ 17 اکتوبر کو یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں علیحدگی کے موجودہ معاہدے میں تبدیلیاں منظور کروا سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ارکان پارلیمان بغیر کسی معاہدے کے الگ ہونے کے امکان کو رد کر دیں گے تو اس سے ان کی یورپی یونین میں مذاکرات کے دوران پوزیشن کمزور ہو جائے گی۔

وزیر اعظم نے پیر کو 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر کہا تھا کہ وہ کسی صورت میں بریگزٹ میں مزید ’کسی بے مقصد التوا‘ کا مطالبہ نہیں کریں گے۔

بورس جانسن کہہ چکے ہیں کہ وہ نئے انتخابات نہیں چاہتے لیکن وزیر اعظم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق اگر منگل کو ارکان پارلیمان نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے تو 14 اکتوبر کو نئے انتخابات کا فیصلہ کیا جائے گا۔

وزیر اعظم بورس جانسن پہلے ہی ملک کی پارلیمان کو معطل کرنے کا اعلان کر چکے ہیں جس پر اگلے ہفتے سے عمل درآمد ہو گا اور یہ معطلی 14 اکتوبر تک ہو گی۔

بریگزٹ

پارلیمان کی معطلی اور عدالتیں

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے میں عدالتیں بھی اب شامل ہو چکی ہیں۔ سکاٹ لینڈ کی سب سے اعلیٰ سول عدالت میں منگل کو پارلیمان کو معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت ہو گی۔ درخواست سکاٹش نیشنل پارٹی کی رکن پارلیمان جو اینا چیری اور 47 دیگر ارکان کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ بورس جانسن کا فیصلہ غیر قانونی ہے کیونکہ پارلیمان کی معطلی حقیقت میں سیاسی جوابدہی یا احتساب کے عمل میں رکاوٹ ہے اور اس سے بریگزٹ پر بحث اور مختلف امکانات کا جائزہ لینے کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔

برطانوی حکومت کے مطابق اس کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے۔ منگل کی کارروائی پر فیصلہ بدھ کو سنایا جائے گا۔

بریگزٹ

برطانوی پاؤنڈ بمقابلہ ڈالر

برطانوی پاؤنڈ منگل کو تین سال میں ڈالر کے مقابلے میں اپنی سب سے کم قیمت پر پہنچ گیا۔ ڈالر کے مقابلے میں اس کی قیمت 1.20 اور یورو کے مقابلے میں ایک اعشاریہ دس سے کم تھی۔

برطانوی کرنسیتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionبرطانوی پاؤنڈ منگل کو تین سال میں ڈالر کے مقابلے میں اپنی سب سے کم قیمت پر پہنچ گیا

رابوبینک کی تجزیہ کار جین فولی نے بی بی سی کو بتایا کہ بغیر کسی معاہدے کے بریگزٹ کے امکانات کم ہونے سے پاؤنڈ کی قیمت اوپر جاتی ہے لیکن الیکشن کا رد عمل بالکل مختلف ہو گا۔

بشکریہ :بی بی سی