وزیراعظم جن کے کندھوں پر بیٹھ کر آئے ہیں کوئٹہ جانے کے لئے ان کی اجازت کے منتظر ہیں، عطاء الرحمان

اسلام آباد:جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سینٹرز نے شہداء مچھ کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے وزیراعظم کی جانب سے کوئٹہ جانے میں پیس و پیش پر ان پر خوب تنقید کی نشتر چلائے۔
سینیٹر عثمان کاکڑ سینیٹ اجلاس کے دوران حکومت پر برس پڑے، کہا کہ مسلط کردہ حکومت اور وزیر اعظم آئین، جمہوریت اور عدالتوں کی بات کرتے ہیں لیکن اپوزیشن وزیر اعظم کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں آئین اور قانون کی نہیں ، ڈنڈے کی حکمرانی ہے، آپ لوگوں کو بغاوت پر مجبور کر رہے ہیں، یہاں بندوق اٹھانا منع نہیں، جمہوری احتجاج کرنا منع ہے، ملک میں سویلین اتھارٹی نہیں۔
سینیٹر مولانا عطا الرحمان بولے کہ ہمارے وزیر اعظم کو اجازت ملے گی تو مچھ جائیں گے، جن کے کندھوں پر بیٹھ کر وزیر اعظم آئے ہیں ، ان کے حکم کے منتظر ہیں، اس ملک کو بچانا ہے تو پھر ان کٹھ پتلیوں ، چاپلوسوں سے جان چھڑانا ہوگی۔
سینٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ شہدائے مچھ کی تدفین میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ خود وزیراعظم ہیں۔
خیال رہے کہ کوئٹہ میں مچھ سانحے کے متاثرہ خاندان وزیراعظم کے کوئٹہ آنے تک تدفین نہ کرنے کے مطالبے پر قائم ہیں اور منفی دس ڈگری کی سردی میں دھرنا آج ساتویں روز بھی جاری ہے۔