بجلی گیس کنکشنز بحالی تحریک اجلاس ،تنظیم سازی تیز کرنے کے عمل کا اعادہ ،سپریم کورٹ جانے سمیت دیگر آپشنز پر بھی غور


اسلام آباد(نیوزرپورٹر)بجلی گیس کنکشنز بحالی تحریک کے چیئر مین جاوید انتظار، صدر ملک زاہد محمود کی زیر قیادت عہدیداران کے مشاورتی اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ جن میں بجلی گیس کنکشنز بحالی کے ساتھ پانی کی قلت کے مسئلے کو تحریک کا حصہ بنا دیا گیا۔ تحریک کے نام میں ردوبدل کر کے پانی بجلی گیس بحالی تحریک رکھ دیا گیا۔ 28 فروری تک متاثرہ علاقوں میں تنظیمیں مکمل کرنے سمیت غیر متحرک عہدیداران سے وضاحت طلب کر لی گئی۔ سی ڈی اے کی طرف سے کئی سوسائٹیز کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کو مسترد کر دیا گیا۔ بجلی گیس کنکشنز بحالی سے متعلق ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ جاری ہونے کے بعد لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ چیئر مین پانی بجلی گیس بحالی تحریک جاوید انتظار نے کہا کہ ڈی سی آفس اور سی ڈی اے کے طرز عمل اور فیصلوں میں تضاد پایا جاتا ہے۔ ایک طرف متاثرہ علاقوں کے لوگ زمین کی رجسٹری اور انتقال کے ذریعے حکومت کے خزانے میں ٹیکس جمع کروا رہے ہیں۔ دوسری طرف سی ڈی اے ایسے علاقوں کی سوسائٹیز کو غیر قانونی قرار دے رہا ہے۔ دونوں محکموں کی باہمی چپقلش اور غیر سنجیدہ طرز عمل سے عام آدمی بنیادی آئینی حق سے محروم ہے۔ سی ڈی اے زمین کی رجسٹری اور انتقال کی بنیاد پر وزیراعظم کے بنی گالا میں گھر کی طرح متاثرین کے گھروں کو بھی ریگولر ائز کرے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت کا دیرینہ مسئلہ محض حکومت کی بیڈ گورننس کیوجہ سے ہے۔ اسلام آباد کے دونوں ڈیمز کی صفائی کئی سالوں سے نہیں ہوئی۔ نہ ہی پانی کو سٹوریج کرنے کا کوئی بندوبست کیا جاتا ہے۔ جسکی وجہ سے اسلام آباد کے دیہی اور نواحی علاقوں میں لوگ بجلی گیس پانی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ تحریک کے صدر ملک زاہد محمود، ڈپٹی جنرل سیکریٹری ملک اورنگزیب خان، نائب صدر عبدالبادشاہ خان، شریف آباد ترلائی خرد کے نو منتخب صدر مولانامحمودالحسن، جنرل سیکریٹری ملک غلام مصطفی، ملک اسلم، ملک ارشد ہزاروی و دیگر عہدیداران نے تنظیم سازی تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کے تینوں اراکین اسمبلی اسلام آباد کے بنیادی مسائل کو نظر انداز کر کے بنیادی آئینی اور جمہوری حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ پانی بجلی گیس بحالی تحریک میں لوگ جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں۔ عہدیداران نے یوتھ ونگ، وکلا ونگ، ٹریڈرز ونگ اور خواتین ونگ بنانے پر زور دیتے ہوئے مذید کہا کہ سی ڈی اے کے وجود میں کرپشن سرایت کر چکی ہے۔ جس کو ٹھیک کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کی ضرورت ہے۔ مافیاز ایک منصوبے کے تحت متاثرہ علاقوں میں بجلی گیس کنکشنز نہیں لگنے دیتے۔ تحریک میں متاثرین چپ کا روزہ توڑ کر اپنے بنیادی آئینی حق کے لیے گھروں سے نکل پڑے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں نے عوامی مطالبے کو پورا نہ کیا تو متاثرین راست اقدام کرنے پر مجبورہو جائیں گے۔ اجلاس میں صدر تحریک ملک زاہد محمود نے غیر متحرک عہدیداران سے اپنے علاقوں میں تنظیمیں مکمل نہ کرنے کی 28 فروری تک وضاحت طلب کر لی۔ اجلاس میں سپریم کورٹ میں جانے کے آپشن پر بھی باہمی رضامندی ظاہر کی گئی۔ تحریک میں سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو شامل کرنے کی دعوت دی گئی۔