تحریک لبیک کے لوگ ہمارے دوست اور بھائی ہیں ،علی محمد خان


ناموس رسالتۖ کا مطالبہ تحریک لبیک اور وزیر اعظم کا مشترکہ ہے،آزادی اظہار کے نام پر مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، بہت حساس معاملہ ہے اس پر صحافت بھی احتیاط سے ہونی چاہیے


اسلام آباد ( نامہ نگار )وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہاہے کہ ناموس رسالتۖ اور حرمت رسولۖ کے حوالے سے جو مطالبہ کالعدم تحریک لبیک کا ہے وہی وزیراعظم عمران خان کا ہے ،آزادی اظہار کے نام پر مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ناموس رسالت بہت حساس معاملہ ہے اس پر صحافت بھی احتیاط سے ہونی چاہیے ،وزیر اعظم عمران خان سے جو ملاقات ہوئی اس میں جومیرا موقف میڈیا میں آرہا ہے اس پر کوئی بات نہیں ہوئی ،وزیر اعظم نے حرمت رسول پر ایک واضح موقف لیا ہوا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جب حضورنبی کریمۖ کی شان میں گستاخی ہوئی تو پوری دنیا میں صرف وزیر اعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان ہی دو ایسے لیڈر تھے جنہوں نے اس ایشو کو بھر پور انداز میں اجاگر کیا اور دو ٹوک موقف اختیار کیا اس طرح کے ایشو پر بغیر تصدیق خبر چلانا نامناسب ہے ،ہمارے وزیر اعظم اقوام متحدہ میں گئے ،دنیا کے فورمز سے بھی خطاب کیا ،اسلامی ممالک کے سربراہان کو بھی خطوط لکھے اور او ایس سی کے پلیٹ فارم سے مطالبہ کیا کہ فرانس کی جانب سے نبی کریمۖ کی شان میں گستاخی پر دنیا سے بات چیت کی جائے ،ان کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک کے لوگ ہمارے دوست اور بھائی ہیں ،حرمت عشق رسول ۖ ان کا مطالبہ تھا ہم بھی پرتشدد کارروائی نہیں چاہتے کیونکہ پولیس والا پاکستانی ہے اور تحریک لبیک والا بھی پاکستانی ہے ،ہمیں اس وقت متحد ہو نے کی ضرورت ہے تا کہ دشمن کامیاب نہ ہو۔