
کراچی :پاکستان کے صوبہ سند ھ کے علاقے گھوٹکی سے تعلق رکھنے والی باہمت فرزانہ نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان میں بھی خواتین اگر ٹھان لیں تو وہ کچھ بھی کر سکتی ہیں اور ان کے لئے بھی مواقع موجود ہیںاصل بات آگے بڑھ کر ان سے فائدہ اٹھانے کی ہے۔
ماضی کے مقابلے آج خواتین تقریبا ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کر رہی ہیں۔پاکستانی معاشرہ
جہاں آج بھی عورت کو صنف نازک سمجھا جاتا ہے فرزانہ شر معاشرے کی اس سوچ کو غلط ثابت کر رہی ہیں۔فرزانہ شر روزانہ کے گھریلو کام کاج میں ہمت کے ساتھ اپنے والدین کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔
فرزانہ کی ہمت کو بہت سے صارفین داد دے رہے ہیں
گذشتہ چند روز سے پاکستانی سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں۔ جن میں فرزانہ شر کو موٹر بائیک پر اپنے والد کے ہمراہ دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ موٹر بائیک فرزانہ چلا رہی ہیں۔ جبکہ ان کے والد ان کے پیچھے ایک بچے کو گود میں لیے بیٹھے ہیں۔ دوسری تصویر میں فرزانہ گھر میں موجود جانوروں کا چارہ بھی موٹر بائیک پر لاد کر لا رہی ہیں۔
صارفین کی جانب سے تصاویر اور ان میں موجود فرزانہ کو ہمت و حوصلے کا نشان سمجھتے ہوئے مختلف تبصروں کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔

ٹوئٹر صارف صائمہ ماہین معاشرے کی سوچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے لکھتی ہین کہ سندھ کے شمالی ضلع گھوٹکی سے یہ حیران کن تصویر جس میں فرزانہ اپنے والد کے ہمراہ گھر کے کام کاج کے لیے انہیں موٹر بائیک پر لے جا رہی ہیں۔ ان کے والد معاشرے کی دقیانوسی سوچ کو بندلنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔
آصف علی وائرل ہونے والی تصاویر جن میں فرزانہ اپنے والد کو لے کر جا رہی ہیں، پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ گھوٹکی سندھ ہے۔ یہ ایک امید ہے جو ہمیں ایک بہتر کل کی جانب لے کر جا رہی ہے۔ دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والی فرزانہ شر، میل ڈومیننٹ سوسائٹی سے ایک نایاب منظر۔
عورتوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صارف مبشر لکھتے ہیں کہ آپ وومن امپاورمنٹ کی بات کرتے ہیں؟ یہ ہے وومن امپاورمنٹ۔ ملیں گھوٹکی کی فرزانہ شر سے جو بیٹوں کی طرح ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر فرزانہ کے اس عمل کو سراہا جا رہا ہے۔ صارفین معاشرے کی سوچ میں تبدیلی پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ تبصروں کے سلسلے کو بڑھاتے ہوئے ٹوئٹر صارف حسن عباس سومرو لکھتے ہیں کہ ضلع گھوٹکی کے گاوں سے تعلق رکھنے والی مس فرزانہ نے اس سوچ کوختم کر دیا کہ موٹر بائیک صرف مرد چلا سکتے ہیں۔ انہوں با اختیار خواتین کے لیے ایک مثال قائم کر دی۔ پیچھے بیٹھے والد اور بچہ زیادہ با ہمت ہیں۔ اس یقین پر تمام باپ دادا کو عمل پیرا ہونا چاہیے۔
صارفین فرزانہ کے اس طرح سے کام کرنے کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں کہ معاشرے کے سوچ میں تبدیلی آرہی ہے۔ فرزانہ کے با ہمت طریقے سے کام کاج کرنے پر معاشرے کا ایسا ردعمل آنا بھی ایک مثبت معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔



