پاکستان اور یوکرین کی تیس سالہ دوستی کا سفر


پاکستان اور یوکرین کے درمیان سفارتی تعلقات کا رشتہ تین دہائیوں سے قائم ہے پاکستان اور یوکرین کے درمیا ت سیاسی و سفارتی تعلقات کی ابتدا 16مارچ 1992سے شروع ہوئی اس وقت یو ایس ایس آر کی حکومت تھی جس میں زیادہ تر یوکرین کے ماہرین تھے انھوں نے 1960-70کے درمیان پاکستان میں صنعت کاری کا سلسلہ شروع کرنے میں مدد فراہم کی جس سے قومی معیشت کاپہیہ چلنا شروع ہوا اسی عرصہ کے دوران کراچی سٹیل مل لگائی گئی جو پاکستان کاسب سے بڑا صنعتی کارخانہ مانا جاتا ہے۔یوکرین میں پاکستان نے اکتوبر 1977میں کیو میں اپنی ایمبیسی قائم کی جبکہ یوکرین نے اسلام آباد میں جنوری 1998میں سفارت خانہ قائم کیا۔
پاکستان اور یوکرین کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں سے بہترین دوطرفہ تعلقات قائم ہیں جن میں وقت گزرنے کیساتھ مزید بہتری آرہی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور یوکرین کے درمیان دفاعی پیداوار، انفارمیشن ٹیکنالوجی،شعبہ تعلیم، کھیلوںکا سامان، مشینری و جری آلات کی تجارت کا سلسلہ جاری ہے جس میں وقت کے ساتھ مزید وسعت آرہی ہے پاکستان اور یوکرین کے صدور کے درمیان 1993,1997,2003کے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ملاقات ہوچکی ہے جس سے سفارتی اور سیاسی تعلقات میں مضبوطی آئی جبکہ دونوں ممالک کے وزراء اعظم کے مابین ڈائو س میں 2008کے ہونیو الے ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ملاقات ہو چکی ہے۔اسی طرح 1994میں پاکستان کے وزیر خارجہ نے یوکرین کا دورہ کیا جس دوران دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کی ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔اسی طرح مئی 2016میں چین میں ہونے والے انٹرنیشنل فورم کے دوران پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور یوکرین کے وزیر خارجہ امور پائولو کلمکن کے مابین ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔نومبر 2016میں یوکرین کے وزیر دفاع نے پاکستان کا دورہ کیا دونوں ممالک کے ڈپٹی وزراء خارجہ کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا جس کا آخری سیشن 6جون2016کو یوکرین کے دار الحکومت کیو میں ہوا۔بین الاقوامی تنازعات کے حل میں پاکستان کے کردار کو یوکرین بہت قدر کی نظر سے دیکھتا ہے جس کی اہم مثال یوکرین کے خلاف روسی جارحیت اور مختار جمہوریہ کریمہ پر قبضے کے خلاف پاکستان کا کردار اہم غیر جانبدار رہا ہے ۔پاکستان اور یوکرین کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں دفاعی تکنیکی تعاون کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے پاکستان اور یوکرین کے درمیان دفاعی تعاون کا پہلا معاہد ہ 1996میں ہوا جو بین الاقوامی شہرت یافتہ ٹینک بنانے کا معاہدہ ہے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں یوکرین میں افسران کی تربیت ، انٹرنشپ، تکنیکی مہارت شامل ہے جس میں بری بحری اور فضائی افواج کے افسران شامل ہیں۔
یوکرین نے پاکستان کو دفاعی شعبہ میں بہت سپورٹ دی ہے جس کی ایک اہم مثال الخالد ٹینک ہے جو یوکرین کے تعاون سے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں تیار کیا جاتا ہے اور مختلف اسلامی ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔موجودہ وقت کے تقاضے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پاکستان اور یوکرین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لئے دنوں ممالک کے درمیان سفارتی و سیاسی گفتگو کا سلسلہ شروع ہونا چاہے جس کی اشد ضرورت ہے۔دونوں ممالک کے درماین سیاسی و سفارتی تعلقات کے وسعت دینے کے لئے نومبر 2009کو کراچی میں یوکرین پاکستان انفارمیشن سینٹر بنایا گیا جس کا مقصد دونوں ممالک کی مختلف شعبہ جات میں مہارت کے بارے میں معلومات عام لوگوں ، کاروباری حضرات و سرکاری لوگوں تک پہنچائی جائیں تاکہ ان کو دونوں ممالک کے بارے میں آگاہی مل سکے۔یوکرین کی بین الاقوامی اتھارٹی کی وجہ سے پاکستان ملک میں امن کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے سمیت افغانستان میں حالات کو بہتر کرنے میں یوکرین کے کردار کو سراہتا ہے جس سے جنوبی ایشیا کا یوکرین پر اعتماد مزید بڑھا ہے۔یوکرین اور پاکستان کے درمیان سیاسی و سفارتی تعلقات اپنے عروج پر ہیں جس کو ابھی مزید وسعت بھی دینی ہے ۔دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبہ میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لئے پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حال ہی میں یوکرین کا دورہ کیا جس کے دوران انھوں نے یوکرین کی کابینہ کے وزراء سے ملاقات کرنے سمیت یوکرین کے وزیرا عظم شمائیل ڈینیز اور ڈپٹی وزیر اعظم و وزیر سٹریٹیجک انڈسٹریز اورسکی اولی سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی ۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرنے سمیت خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور افغانستان میں امن کی صورتحال میں ہونیو الی نے تبدیلی سمیت دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور دیگر شعبہ میں تعلقات مزید بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ پاکستان اپنے دوست ملک یوکرین کے ساتھ طویل دوطرفہ تعلقات کا خواہاں ہے اور یوکرین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے دونوں سربراہان نے پاکستان کی خطے میں امن کے لئے کی جانے والی کوششوں اور خاص طور پر افغانستان میں امن کی بحالی میں کردار کی تعریف بھی کی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوکرین کے وزیر دفاعی پیداوار سری کارنیچک اور یوکرین کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اواکون آرسن سے بھی تفصیلی ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا یوکرین میں 100فیصد شرح خواندگی ہے یوکرین کی یونیورسٹیوں میں بہت سے پاکستانی طلباء وطالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں اگست میں یوکرین ایمبیسی یوم آزادی کے موقع پر ایک اہم تقریب کا انعقاد کرنے جارہی ہے جس میں یوکرین کی ثقافت کو پاکستانی کمیونٹی کیساتھ متعارف کرایا جائے گا دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی طور پر بھی ہم آہنگی پائی جاتی ہے سیاحت کے شعبہ کو فروغ دینے کے لئے بھی ہنگامی طور پر یوکرین حکومت کام کررہی ہے جس سے سیاحت کو فروغ مل رہا ہے ہزاروں پاکستانی یوکرین سیاحت کے لئے جارہے ہیں جبکہ یوکرین سے بھی سیاح پاکستان کے شمالی علاقوں کی خوبصورت دیکھنے آتے ہیں عنقریب ہی یوکرین ایمبیسی ایک کلچرل ایونٹ کا بھی انعقاد کرے گی جس میں پاکستانی اور یوکرین کے کلچر کو پروموٹ کیا جائے گا ۔