
اسلام آبا( ایس خان ) پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ)،ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان، اسکیلنگ اپ نیوٹریشن سول سوسائٹی الائنس، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، بچوں کے حقوق سے متعلق قومی کمیشن، چائلڈ رائٹس موومنٹ، پاکستان فیملی فزیشنز، سینئر فزیشن ڈاکٹرز، پاکستان کڈنی پیشنٹ ایسوسی ایشن اور دیگر صحت عامہ کے حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پرزورسفارش کی گئی تھی کہ بجٹ 2021-22 میں میٹھے مشروبات (ایس ایس بی) پرکم ازکم 20فیصدفیڈرل ایکسائزڈیوٹی (ایف ای ڈی)نافذکیا جائے،کیوں کہ میٹھے مشروبات کاکثرت سے استعمال موٹاپا،غیرمواصلاتی امراض (این سی ڈیز) کی ایک بڑی وجہ ہے،جن میں دل،کینسر،ذیابیطس،معدہ،جگر،فالج،موٹاپا،دانتوں ودیگرامراض شامل ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سمیت بین الاقومی صحت کے اداروں کی واضح سفارش ہے کہ ایس ایس بی پر ٹیکس بڑھانا اس کی کھپت کو کم کرنے کاموثرذریعہ ہیں۔لیکن حکومت نے عوامی مفاد کی بجائے انڈسٹری مافیا کے مفادکوترجیح دی۔ پناہ کی طرف سے وزیراعظم پاکستان عمران خان، چیف جسٹس آف پاکستان ،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی،قائد حزب اختلاف یوسف رضاگیلانی،اے این پی کے صدر اسفندیارولی خان،پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری،چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو،کو خصوصی خطوط لکھے گئے ہیں کہ عوامی مفاد کے تحفظ کیلئے آ پ بھی اسمبلیوں میں ہماری آواز بنیں اورضروری اشیا مثلا بجلی اورپیٹرول کومہنگاکرنے کے بجائے بیماریاں پیدا کرنے والی غیرضروری اشیا پرٹیکس لگاکرریونیواکھٹاکیاجائے۔




