قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں عبدالقادر پٹیل اور رانا تنویر نے میلہ لوٹ لیا


تاک تاک پر حکومت پر نشانے ،سپیکر اور وزراء بے بسی کی تصویر بنے نظر آئے


قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رانا تنویر حسین اور پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل حکومت کیلئے کافی بھاری ثابت ہوئے ۔عبدالقادر پٹیل تو تاک تاک پر حکومت پر نشانے لگانے کے حوالے سے پہلے ہی کافی شہرت رکھتے ہیں۔تاہم حالیہ بجٹ اجلاس میں رانا تنویر نے بھی حکومتی بنچوں کو کافی زچک کیا۔عبدالقادر پٹیل کا کہناتھا کہ
جب کوئی وزیرایک وزارت میں گڑبڑ کرتا ہے تو اس کو دوسری وزارت کیوں دے دی جاتی ہے کیا تبدیلی اسی کا نام ہے انہوں نے کہا کہ جو ممالک 1992 کا ورلڈ کپ ہار گئے وہ خوش نصیب تھے،اتنا نقصان پاکستان کو کسی نے نہیں پہنچایا جتنا اس شیشے کے مرتبان نے پہنچایا۔ قادر پٹیل نے کہا کہ وزیراعظم نے گھروں کی قرعہ اندازی کی تو پانچوں نام سامنے بیٹھے لوگوں کے کیسے نکل آئے۔ پشاورمیں لوگوں کو 66 لاکھ کا گھر اس علاقے میں دیا جارہا ہے جہاں ا ب بھی 5 لاکھ روپے کا گھر مل جاتا ہے۔ قادر پٹیل نے دعوی کیا کہ ان کے پاس ثبوت ہیں کہ چیئرمین نیب بلیک میل ہو رہے ہیں۔ کابینہ کے آدھے وزیروں کی وزارت نااہلی پر تبدیل کی گئی اورجس وزیر نے ایک وزارت میں گڑبڑ کی تو اس کو دوسری وزارت کیوں دے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی رہنما نے یہ بھی کہا کہ جس وزیراطلاعات پرکمیشن کا الزام لگایا اس کوپنجاب میں پھروزارت دے دی۔ حکومت کے اتنے اسکینڈلز سامنے آئے لیکن کسی کے خلاف کاروائی نہیں ہوئی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کرپشن میں ملوث سب لوگ بھاگ جائیں گے،اس لیے ایسے وزیروں کوپارلیمنٹ پیسے کیوں دے۔ حکومت نے 3 برس میں کچھ نہیں کیا اور باقی 2 برس بھی کچھ نہیں کریں گے۔ حکومت کے 120 لوگوں کا صرف یہ کام ہے کہ پچھلی حکومتوں کو برا کہتی ہے۔ اس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے ہدایت کی کہ صرف ایجنڈے پر بات کی جائے۔قادر پٹیل نے جواب دیا کہ میرا ایجنڈا ہی حکومتی ناکامی بیان کرنا ہے۔ کرونا سے متعلق قادر پٹیل نے کہا کہ کرونا کے آڈٹ میں اربوں روپے کی ہیرپھیر کی گئی ہے۔


بجٹ اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ( ن )کے سینئر رہنما رانا تنویرنے بھی اپنے خطاب کے دوران خوب دل کی بھڑاس نکالی ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ترجمان صرف گالم گلوچ بریگیڈ ہے، یہ وزرا حکومت میں ایسے ہیں جیسے شیشے کے گھر میں ہاتھی کھڑا ہو اور شیشے کا گھر توڑ دے۔اس پر وفاقی وزیر
علی امین گنڈا پور نے حکومتی دفاع کیلئے میدان میں آنے کی کوشش کی لیکن حکومت کا دفاع کیا کرتے اپنی عزت بھی گنوا بیٹھے جب کچھ نہ بن پڑا تو علی امین گنڈا پور نے کہا تم مجھے جانتے نہیں ہو اس پر جواب دیتے ہوئے لیگی رہنما نے کہا کہ تم وہی ہو نا شہدکی بوتل والے ہو، ان کی غصے سے بھرائی ہوئی آواز پر رانا تنویر نے کہا پہلے اپنے گلے کا علاج کرائو آواز ٹھیک کرکے آئو، جب سے آئے ہو، کشمیر بھی جا رہا ہے،رانا تنویر کا کہنا تھا کہ اس حکومت کے درجنوں
ترجمان ہیں، پہلے صرف وزیر اطلاعات ہوتا تھا، کئی حکومتی ترجمان وقتی لوگ ہیں، آئندہ انتخابات میں دوسری جماعتوں میں ہوں گے۔سپیکر نے معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے علی امین کو مزید بولنے کی اجازت نہ دی ۔