اسلام آباد(نیوزرپورٹر) بلوچستان کے سابق وزیر اعلی نواب غوث بخش باروزئی نے آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان سے کشمیر ہائوس اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ بلوچستان میں کشمیریوں کے سفیر کی حیثیت سے کام کریں گے۔ صدر آزادکشمیر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر 1947میں بھی پاکستان کا حصہ تھا اور وہ آج بھی پاکستان کا حصہ ہے۔ کشمیر صرف ہماری شہ رگ ہی نہیں بلکہ دکھتی رگ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ہمارا ہے اور ہم کشمیریوں کے لئے ہیں جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ خون کارشتہ ہے ان کے جسموں پر جو زخم لگ رہے ہیں ان کی ٹیس بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں بسنے والے بلوچ بھی پوری شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔ جناب غوث بخش باروزئی نے کہا کہ اقوام متحدہ کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہونے والے مظالم کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ وہاں جاری آگ و خون کا کھیل پورے خطے کے امن و استحکام کو تباہ کر سکتا ہے۔ بلوچ رہنما نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم نے کشمیر پر واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کیاجس سے مسئلہ کشمیر کے حل کی امید پیدا ہوئی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے نواب غوث بخش باروزئی نے کہا کہ سی پیک بلوچستان کی معاشی قسمت بدل سکتا ہے اگر ہمارے نوجوان نوکریاں مانگنے کے بجائے ہنر اور مہارتیں سیکھیں اور اپنے صوبے کے وسیع وسائل سے استفادہ حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیں۔ آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے نواب غوث بخش باروزئی کے جموں وکشمیر کے بارے میں خیالات و جذبات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا بلوچستان، آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان نہ صرف آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی ضرورت ہے بلکہ ہندوستان کے مسلمانوں اور پورے عالم اسلام کی نظریں بھی پاکستان پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے بلوچستان میں ترقی و خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہو گاکیونکہ چند سال پہلے تک بلوچستان اور گلگت بلتستان دنیا کی نظروں سے اوجھل تھے لیکن سی پیک شروع ہونے کے بعد دونوں خطوں پر دنیا کی نظریں جم گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک طرح سے سی پیک کا داخلی دروازہ ہے اوربلوچستان خارجی دروازہ ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ سی پیک صرف ایک سڑک کا منصوبہ نہیں ہے بلکہ یہ تعمیر و ترقی کا ایک وسیع منصوبہ ہے جس سے پاکستان کے تمام علاقوں خاص طور پر بلوچستان کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ بلوچستان اور آزادکشمیر کے عوام کے درمیان محبت، اخوت اور باہمی تعاون کے رشتے مزید مضبوط ہوں کیونکہ دونوں خطے قدرتی و سائل سے مالا مال ہیں اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
Related Posts

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور کرکٹر شاہد آفرید ی بھی کرونا کا شکار ہوگئے
- Rizwan Malik
- جون 13, 2020
- 0
سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی اور معروف کرکٹر اور سابق کپتان شاہد خان آفرید ی بھی مہلک وبا […]

برطانیہ کی مشہور ”برٹش بیک پیکر سوسائٹی” نے ” زمین پر موجود تمام ممالک میں سے انتہائی دوستانہ ملک، جہاں پہاڑوں کے وہ حیرت ناک مناظر ہیں جو کسی کے بھی تصور سے ماورا ہیں ” کے الفاظ کے ساتھ 2018 میں پاکستان کو دنیا کی سب سے بڑی سیاحتی منڈی قرار دیا تھا
- Rizwan Malik
- اکتوبر 7, 2019
- 0
موریطانیہ مغربی افریقہ کا ایک غریب مسلمان ملک ہے جس کے دو تہائی سے بھی زیادہ حِصے پر صحرا کا راج ہے۔ یہاں صرف […]
میانوالی شہبازخیل فیڈرکی لوڈشیڈنگ کی لمبی اڑان
- Rizwan Malik
- اکتوبر 24, 2017
- 0
میانوالی عبدالقیوم خان نیازی میانوالی شہبازخیل فیڈرکی لوڈشیڈنگ کی لمبی اڑان کاریکارڈ برقرار میانوالی۔۔۔شہبازخیل فیڈر کےصارفیں رل گئے میانوالی۔۔۔صبح 7بجے سے تاحال بجلی بند […]
