پنجاب یونیورسٹی میں رکشوں کے داخلے پر پابندی، طلبا کا احتجاج کا اعلان.

پنجاب یونیورسٹی میں رکشے داخل ہونے پر پاپندی عائد کر دی گئی۔ یونیورسٹی کے تمام مرکزی داخلی و خارجی دروازوں سے رکشے داخل نہیں ہوسکیں گے۔ شٹل سروس بند ہونے سے طلبا اپنے ڈیپارٹمنٹ تک پہنچنے کے لیے 4 کلو میٹر تک کا فاصلہ پیدل چلنے پر مجبور ہوگئے۔
عبوری وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین ناصر کے حکم پر یونیورسٹی میں رکشوں کے داخلے پرپابندی لگائی گئی ہے۔ ہاسٹل گیٹ سے بھی رکشے داخل نہیں ہوسکیں گے۔ رکشوں پر پاپندی لگنے سے طلبہ وطالبات کو اپنے ڈیپارٹمنٹ تک بروقت پہنچنے میں شدید مشکلات و پریشانی کا سامنا ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی میں پرائمری سے میٹرک تک کے بچوں کے لیے قائم لیبارٹری سکول کے طلبا کو بھی رکشے پر یونیورسٹی آنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ طلبا نے انتظامیہ کے اس فیصلے پر احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامی افسر اور پروفیسرز اپنی ذاتی گاڑیوں پر یونیورسٹی پہنچتے ہیں۔ طلبا دشمن فیصلے پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پابندی لگائی گئی۔ رکشا ڈرائیورز نے بھی پابندی کی مخالفت کی ہے