کورونا مرض کی موجودگی میں سکول میں سو فیصد حاضری خطرے کا باعث ہو سکتا ہے والدین پریشان

اساتذہ اور دیگر سٹاف کو تاحال ویکسین نہیں لگی ہے ا یسے میں ایک بچہ متاثر ہوا تو سینکڑوں اس کی زد میں آ سکتے ہیں

کلاس روم میں ساٹھ سے ستر بچے بیٹھتے ہیں اور حفاظتی انتظامات ابھی تک ناقص ہیں حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے والدین کا مطالبہ

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )این سی او سی نے کورونا وباء میں کمی کو غلط رنگ دیتے ہوئے سکولوں میں حاضری سو فیصد کر دی ہے جس سے مرض کی شدت میں ایک بار پھر اضافے کا خطرہ پایا ہے۔ اسد عمر کی زیرصدارت اجلاس میں میں عجلت میں بغیر کسی پلاننگ کے تمام سکولز عام حالات کے مطابق کھولنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے اور پیر تمام سکول پچاس فیصد کی بجائے سو فیصد حاضری کے ساتھ کھلیں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ویکسین کا عمل مکمل ہوئے بغیر کس طرح سکول کھولے گئے ہیں بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک مکمل سکول یا کالج سٹاف کو ویکسین نہیں لگائی گئی ہے ۔ عام طور پر ایک کلاس روم میں ساٹھ سے ستر بچے بیٹھتے ہیں اور کسی قسم کے حفاظتی انتظامات عام سکولوں میں نہیں ہوتے ہیں ۔ایک بچہ متاثر ہوا تو پورا سکول متاثر ہو سکتا ہے پچھلے دنوں ہی اسلام آباد کا ایک کالج کورونا کیسز نکلنے کی وجہ سے بند کرنا پڑا والدین این سی او سی کے اعلان پر انتہائی نالاں ہیں اور مطالبہ کیا ہے جب تک بچوں اور ٹیچرز اور دیگر عملہ میں ویکسین کا عمل مکمل نہیں ہوتا ہے اس وقت تک تعلیمی ادارے پچاس فیصد حاضری کے ساتھ کھولے جائیں ۔