
لاہور:لاہور میں گریٹراقبال کیس کی مرکزی کردار عائشہ اور ریمبو کی ملزمان کی رہائی کے بدلے رقم لینے کی منصوبہ بندی کی آڈیو ٹیپ سامنے آگئی ہے۔ مینار پاکستان کیس میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے اور درجنوں افراد کی دست درازی کا شکار عائشہ اکرم سے متعلق ایک مبینہ آڈیو ٹیپ منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ اور ریمبو ملزمان کی رہائی کے بدلے رقم لینے کی پلاننگ کر رہے ہیں،پولیس حکام نے آڈیو ٹیپ کو کیس کا حصہ بنالیا ہے ۔
مبینہ آڈیوٹیپ میں عائشہ اور ریمبو کا مکالمہ اس طرح ہے کہ ریمبو عائشہ سے پوچھتا ہے مجرم 6 ہیں یا 7، جس پر عائشہ ریمبو کو بتاتی ہے کہ 6مجرم ہیں جنہیں شناخت کیا ہے۔آڈیوٹیپ میں ریمبو کہتا ہے کہ فی مجرم کتنے پیسے لیے جائیں، زیادہ تر غریب ہیں، اس پر عائشہ ریمبو کو جواب دیتی ہے کہ مشکل سے ان لوگوں نے 5،5 لاکھ کرنے ہیں۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال کا مبینہ آڈیو ٹیپ سے متعلق کہنا ہے کہ کال کا جائزہ لے رہے ہیں،ریمبو کا فون قبضے میں لے لیا گیا ہے،فون کال کی ریکارڈنگ کو کیس کا حصہ بنا رہے ہیں۔شارق جمال نے مزید کہاکہ ریمبو 4 روز کے جسمانی ریمانڈ پر ہے،کافی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملزم ریمبو نے ٹیلی فون پر گفتگو کی تصدیق کی ہے اور اب اس کال کو کیس کا حصہ بنا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ عائشہ اکرم کے بلیک میلنگ کے الزام پر ریمبو 4 روز کے جسمانی ریمانڈ پر جیل میں ہے۔
خاتون ٹک ٹاکر اور ان کے ساتھی کے درمیان فون پر جیل میں شناخت ہونے والے ملزمان سے رقم لینے کی گفتگو 25سیکنڈ پر مشتمل ہے۔
خیال رہے کہ لاہور پولیس نے تین روزقبل خاتون ٹک ٹاکر کے تحریری بیان کی روشنی میں ریمبو کر گرفتار کرکے عدالت سے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا تھا۔اس سے قبل ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال نے کہا تھا کہ گریٹر اقبال پارک کی متاثرہ ٹک ٹاکر خاتون نے اپنے بیان میں 13 افراد کو نامزد کیا تھا جس کے بعد مرکزی ملزم عامر سہیل عرف ریمبو سمیت 8 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ نامزد دیگر افراد کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا اور مقدمے کی تفتیش قانون کے مطابق کی جائے گی۔پولیس کے مطابق متاثرہ ٹک ٹاکر خاتون نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کو دیے گئے تحریری بیان میں واقعے کا ذمہ دار اپنے ساتھی ریمبو کو ٹھہرایا تھا۔
خاتون ٹک ٹاکرنے بتایا تھا کہ گریٹر اقبال پارک جانے کا منصوبہ ریمبو نے ہی بنایا تھا اور ریمبو نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میری نازیبا ویڈیوز بنا رکھی ہیں۔عائشہ نے الزام عائد کیا کہ ویڈیوز کی وجہ سے ریمبو مجھے بلیک میل کرتا رہا ہے، ریمبو مجھے بلیک میل کرکے دس لاکھ روپے لے چکا ہے۔ میں اپنی تنخواہ میں سے آدھے پیسے ریمبو کو دیتی تھی، ریمبو اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر ٹک ٹاک گینگ چلاتا ہے۔
واقعہ کا مقدمہ خاتون کی مدعیت میں 17 اگست کو لاہور کے لاری اڈہ تھانے میں درج کیا گیا۔
واقعے پر وزیر اعظم عمران خان نے نوٹس بھی لیا تھا اور انسپکٹر جنرل(آئی جی)پولیس پنجاب سے رابطہ کیا تھا۔
وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی برائے سمندرپار پاکستانی زلفی بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا کہ وزیراعظم عمران ان نے لاہور میں خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ ہونے والے معاملے پر آئی جی پنجاب سے بات کی ہے۔بعدازاں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت واقعے پر اعلی سطح کا اجلاس ہوا تھا جس کے بعد آئی جی پنجاب نے سینئر پولیس افسران کو واقعے میں غفلت برتنے اور تاخیر سے ردعمل دینے پر معطل کردیا تھا۔


