فیض حمید چلے گئے نئے ڈی جی آئی ایس آئی کا تقرر کر دیاگیا وزیراعظم نے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا

اسلام آبا(خصوصی رپورٹ) وزیراعظم ہائوس سے انٹر سروسز انٹیلی جنس(آئی ایس آئی)کے ڈائریکٹر جنرل(ڈی جی) کے طور پر لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی تعنیاتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔یہ نوٹیفکیشن آئی ایس پی آر کے اعلان کے 20 روز کے بعد جاری کیا گیا ہے اور نوٹیفکیشن کا اطلاق 20 نومبر 2021 سے ہوگا۔وزارت دفاع کی سمری میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم ، چیف آف لاجسٹک اسٹاف جی ایچ کیو لیفٹیننٹ جنرل ثاقب محمود ملک اور کمانڈر سدرن لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کے نام آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی کے لیے تجویز کیے گئے تھے۔واضح رہے کہ اس سے قبل میڈیا پر یہ خبریں گردش کررہی تھیں کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر سے متعلق وزارت دفاع کی جانب سے سمری وزیر اعظم ہاس پہنچ چکی ہے اور اس ضمن میں سرکاری سطح پر باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری ہونے کا انتظار ہے۔واضح رہے کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)ی تعنیاتی وزیراعظم کی صوابدید پر ہوتی ہے لیکن وزیراعظم، ملک کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کی تعیناتی آرمی چیف کے ساتھ مشاورت سے کرتے ہیں۔6 اکتوبر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ‘آئی ایس پی آر’ نے ایک جاری بیان میں کہا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو آئی ایس آئی کا نیا ڈائریکٹر جنرل تعینات کردیا گیا ہے۔اس سے قبل آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور تعینات کردیا گیا ہے۔تاہم وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے آئی ایس آئی کے نئے ڈائریکٹر جنرل کے تقرر کا نوٹی فکیشن جاری ہونے میں تاخیر کے باعث ابہام پیدا ہوا۔بعد ازاں نوٹیفکیشن کے اجرا میں تاخیر کے باعث سوشل میڈیا پر سول اور عسکری قیادت کے درمیان اس معاملے پر اتفاق رائے نہ ہونے کی خبریں گردش کرنے لگی تھیں تاہم حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔