جون 2021سے مدت ٹھیکہ پبلک پارکنگ ختم ہوتے ہی مبینہ غیرقانونی طور پرلاکھوں روپے روزانہ کی بنیاد پر دیہاڑیوں کا سلسلہ شروع کررکھاہے

اسلام آباد(خصوصی پورٹ) ایم سی آئی ڈائریکٹریٹ ڈی ایم اے کی کرپشن من مانی اور پوائینٹس پر روزانہ لاکھوں روپے کی کرپشن کی وجہ سے ادارے کو ہر ماہ کروڑوں روپے مالی طور پر خسارہ کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ڈی ایم اے کی مبینہ کرپشن پر انتظامیہ نے ا پنی آنکھیں مکمل طور پر بند کر رکھی ہیں جبکہ ایم سی آئی کے چیف آفیسر نے ڈائریکٹر ڈی ایم اے سے پوشیدہ طور پراور اکائونٹ افسر کی ملی بھگت سے پبلک پارکس اور مشہور پوائنٹس کار پارکنگ انڈر ہینڈ پر غیرقانونی پرچی وصولیوں کا سلسلہ رواں سال جون سے رواں ماہ تک مسلسل جاری رکھاہے اس دوران کوئی انکوائری نہ نوٹس عمل میں لایا گیا جبکہ مجاز اتھارٹی اس دھندے سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود سب اچھے کی رپورٹ پر استفادہ حاصل کر رہی ہے۔ عوامی اطلاعات اور شکایات کیمطابق اسلام آباد کے مختلف ایریاز کے مشہور ترین پوائنٹس سے ڈی ایم اے افسران نے جون 2021سے مدت ٹھیکہ پبلک پارکنگ ختم ہوتے ہی مبینہ غیرقانونی طور پرلاکھوں روپے روزانہ کی بنیاد پر دیہاڑیوں کا سلسلہ شروع کررکھاہے، عوامی ذرائع کیمطابق ڈی ایم اے کے اکاونٹ برانچ کے افسران نے یہ سرکاری ٹھیکہ ا پنے خاص رشتہ دار اور دیگر گروپ کو مکمل اختیار دیکر مختلف پبلک پارکس جہاں سرے فہرست شکرپڑیاں،مونومنٹ جی نائن اڈہ ویگن سٹیشن فیصل مسجد پارکنگ دامن کہو پارکنگ سینٹورس مال پارکنگ اور سبزی منڈی تک جہاں ڈی ایم اے کیسرکاری اہلکاران ہونے چاہیئں واہاں اکانٹ برانچ ڈی ایم اے کیافسر نے مبینہ غیرقانونی اختیار سے پرائیویٹ اہلکاران جنکی سرپرستی خود اکانٹ افسر ڈی ایم اے کا قریبی رشتہ دار (شاہد)نامی شخص سریعام کررہاہے، جہاں متعلقہ تمام پارکنگ سے روزانہ دس لاکھ سے زائد رقم کی وصولی انڈر ہینڈ مبینہ ساز باز کیعوض بغیرسرکاری ریکارڈ کیخرد برد ہونیلگی، ڈی ایم اے کے متعلقہ اکانٹ افسر نے مو قف اختیار کیاکیصرف 3 پارکنگ شکرپڑیاں مونومنٹ، سینٹورس مال اور دامن کہو تک کی ذمہ داری ہمارے پاس ہے جہاں اہلکاران بھی ہمارے پرچی وصول کرتے ہیں جبکہ زیر بحث متعلقہ ہرپارکنگ میں پرائیویٹ اہلکاران ہی دیکھائی دئیے گئے جہاں روزانہ لاکھوں روپے سرکاری پرچی وصولی جوکہ عوام سے وصول کی جارہی ہے کتنے فیصد سرکاری خزانے میں جمع ہوتاہے روزانہ لاکھوں روپے پرائیویٹ اہلکاران کو دیئے جاتے ہیں سرکاری افسران کی جانب سے کسی حوالے سے معقول موقف طلب نہ ہوسکا بلکہ متعلقہ اکانٹ افسر نے کہاکے میں کسی میڈیا کے نمائندے کو یہ نہیں بتا سکتا کیسرکاری ٹیکس میں کس حدتک روزانہ دس لاکھ روپے کی رقم سے کتنی رقم جمع کرتاہوں، عوامی نمائندگان اور دیگر مختلف ذرائع کے مطابق ڈی ایم اے کے اکائونٹ افسر اور انکے خاص عزیز شاھد مرزا سے روزانہ لاکھوں روپے سرکاری پرچی وصولی کے حوالے سے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے فوری طور پرائیویٹ اہلکاران کو مختلف پارکنگ سے ہٹا کر ڈی ایم اے کیسرکاری اہلکاران کی ذمہ داری میں پارکنگ کاکنٹرول دیاجائے اور جون 2021 سے رواں ماہ تک لاکھوں روپے روزانہ پرچی وصولی کی انکوائری کی جائے۔
اسلام آباد(خصوصی پورٹ) ایم سی آئی ڈائریکٹریٹ ڈی ایم اے کی کرپشن من مانی اور پوائینٹس پر روزانہ لاکھوں روپے کی کرپشن کی وجہ سے ادارے کو ہر ماہ کروڑوں روپے مالی طور پر خسارہ کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ڈی ایم اے کی مبینہ کرپشن پر انتظامیہ نے ا پنی آنکھیں مکمل طور پر بند کر رکھی ہیں جبکہ ایم سی آئی کے چیف آفیسر نے ڈائریکٹر ڈی ایم اے سے پوشیدہ طور پراور اکائونٹ افسر کی ملی بھگت سے پبلک پارکس اور مشہور پوائنٹس کار پارکنگ انڈر ہینڈ پر غیرقانونی پرچی وصولیوں کا سلسلہ رواں سال جون سے رواں ماہ تک مسلسل جاری رکھاہے اس دوران کوئی انکوائری نہ نوٹس عمل میں لایا گیا جبکہ مجاز اتھارٹی اس دھندے سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود سب اچھے کی رپورٹ پر استفادہ حاصل کر رہی ہے۔ عوامی اطلاعات اور شکایات کیمطابق اسلام آباد کے مختلف ایریاز کے مشہور ترین پوائنٹس سے ڈی ایم اے افسران نے جون 2021سے مدت ٹھیکہ پبلک پارکنگ ختم ہوتے ہی مبینہ غیرقانونی طور پرلاکھوں روپے روزانہ کی بنیاد پر دیہاڑیوں کا سلسلہ شروع کررکھاہے، عوامی ذرائع کیمطابق ڈی ایم اے کے اکاونٹ برانچ کے افسران نے یہ سرکاری ٹھیکہ ا پنے خاص رشتہ دار اور دیگر گروپ کو مکمل اختیار دیکر مختلف پبلک پارکس جہاں سرے فہرست شکرپڑیاں،مونومنٹ جی نائن اڈہ ویگن سٹیشن فیصل مسجد پارکنگ دامن کہو پارکنگ سینٹورس مال پارکنگ اور سبزی منڈی تک جہاں ڈی ایم اے کیسرکاری اہلکاران ہونے چاہیئں واہاں اکانٹ برانچ ڈی ایم اے کیافسر نے مبینہ غیرقانونی اختیار سے پرائیویٹ اہلکاران جنکی سرپرستی خود اکانٹ افسر ڈی ایم اے کا قریبی رشتہ دار (شاہد)نامی شخص سریعام کررہاہے، جہاں متعلقہ تمام پارکنگ سے روزانہ دس لاکھ سے زائد رقم کی وصولی انڈر ہینڈ مبینہ ساز باز کیعوض بغیرسرکاری ریکارڈ کیخرد برد ہونیلگی، ڈی ایم اے کے متعلقہ اکانٹ افسر نے مو قف اختیار کیاکیصرف 3 پارکنگ شکرپڑیاں مونومنٹ، سینٹورس مال اور دامن کہو تک کی ذمہ داری ہمارے پاس ہے جہاں اہلکاران بھی ہمارے پرچی وصول کرتے ہیں جبکہ زیر بحث متعلقہ ہرپارکنگ میں پرائیویٹ اہلکاران ہی دیکھائی دئیے گئے جہاں روزانہ لاکھوں روپے سرکاری پرچی وصولی جوکہ عوام سے وصول کی جارہی ہے کتنے فیصد سرکاری خزانے میں جمع ہوتاہے روزانہ لاکھوں روپے پرائیویٹ اہلکاران کو دیئے جاتے ہیں سرکاری افسران کی جانب سے کسی حوالے سے معقول موقف طلب نہ ہوسکا بلکہ متعلقہ اکانٹ افسر نے کہاکے میں کسی میڈیا کے نمائندے کو یہ نہیں بتا سکتا کیسرکاری ٹیکس میں کس حدتک روزانہ دس لاکھ روپے کی رقم سے کتنی رقم جمع کرتاہوں، عوامی نمائندگان اور دیگر مختلف ذرائع کے مطابق ڈی ایم اے کے اکائونٹ افسر اور انکے خاص عزیز شاھد مرزا سے روزانہ لاکھوں روپے سرکاری پرچی وصولی کے حوالے سے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے فوری طور پرائیویٹ اہلکاران کو مختلف پارکنگ سے ہٹا کر ڈی ایم اے کیسرکاری اہلکاران کی ذمہ داری میں پارکنگ کاکنٹرول دیاجائے اور جون 2021 سے رواں ماہ تک لاکھوں روپے روزانہ پرچی وصولی کی انکوائری کی جائے۔


