عمار علی جان کی کتاب رول بائی فیئر کی تقریب رونمائی

تقریب سے مصنف سمیت سنئیر صحافیوں حامد میر، ابصار عالم،عاصمہ شیرازی اور دیگر کا خطاب

اسلام آباد:نوجوان مصنف عمار علی جان کی کتاب رول بائی فیئر کی تقریب رونمائی نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ہوئی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف صحافی اور اینکر حامد میر کا کہنا تھا کہ عمار علی جان نہ صرف تاریخ لکھ رہے ہیں بلکہ وہ تاریخ بنا بھی رہے ہیں، انکی کتاب میں امید کی ایک کرن نظر آتی ہے، انہوں نے کیمرج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد وطن واپس آکر اپنے ہم وطنوں پر ہونے والے مظالم پر آواز اٹھانے کا فیصلہ قائداعظم اور علامہ اقبال والا راستہ اپناتے ہوئے کیا ہے، انہوں نے جنرل ڈائر کی روح کی شکل میں موجود طاقت ور حلقوں سے ٹکر لی ہے، یہ کتاب ایک مثبت پیش رفت ہے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی ابصار عالم نے کہا کہ کتاب انگریزی میں ہے اسکا اردو ترجمہ بھی ہونا چاہیئے تاکہ ہر پاکستانی اس سے مستفید ہو سکے، بلند حوصلے سے حالات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ دنیا بھر میں ہوتا ہے تو پھر پاکستان میں کیوں نہیں ہو سکتا، سینئر صحافی اور اینکر عاصمہ شیرازی نے کہا کہ گالی اور گولی کے راج میں سچ آج بھی زندہ ہے،خوف کیخلاف لڑنے کا جذبہ موجود ہے، پارلیمانی جمہوریت کیلئے پاکستان میں سب سے زیادہ جدوجہد ہوتی چلی آ رہی ہے، عمار علی جان کی کتاب میں نہ صرف ماضی کا بلکہ مستقبل کا خاکہ بھی موجود ہے، ریاست نے آئین کے ذریعے عوام کے حقوق کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ہے، ملک میں داروں کی بڑھتی تعداد میں محب وطن ڈھونڈنے پڑیں گے، جب تک قلم اور زبان ہے یہ تحریکیں چلتی رہیں گی، کتاب کے مصنف عمار علی جان نے کہا کہ اس کتاب کو بہت جلد اردو سمیت دیگر زبانوں میں بھی شائع کیا جائیگا۔ تقریب سے سماجی کارکن فرزانہ باری، اینکر پرسن عنبر شمسی، ڈاکٹر خالد جاوید جان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ کتاب میں آٹھ تھیسیز لکھے گئے ہیں۔