عدالت کے سخت ریمارکس پر حبسِ بیجا کیس میں ایک شہری عارف گل کو گرفتاری کے 3 سال بعد حراستی مرکز سے سپریم کورٹ پہنچا دیا گیا

اسلام آباد:چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کے سخت ریمارکس کے بعد منگل کو عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا ۔اس دوران سپریم کورٹ میں عارف گل حبس بے جا کیس کی سماعت کرنے والا بینچ تبدیل ہوگیا، جسٹس جمال مندوخیل اورجسٹس محمد علی مظہر اب بینچ کاحصہ نہیں رہے ، جس کے بعد چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں نیا بینچ تشکیل دے دیا گیا، تین رکنی بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن اورجسٹس قاضی امین شامل ہیں ۔

عدالتی حکم پر خیبرپختونخوا پولیس نے عارف گل کو عدالت میں پیش کیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ بتائیں آپ کے ساتھ کیامسئلہ ہے ؟
عارف گل نے کہا کہ وہ ہوٹل پرکام کرتا تھا، کسی کی شکایت پرگرفتار کرلیا گیا، جسٹس قاضی امین کیاستفسارپرایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عارف گل افغان شہریت رکھتا ہے، اس پرالزامات کی دستاویز ریکارڈ پر موجود ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ عارف گل پر سکیورٹی پوسٹ پر حملے کا الزام ہے ، حراستی مراکز کا معاملہ لارجر بینچ میں زیر التوا ہے، اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ معاملہ نمٹا دیں یا لارجر بینچ کیساتھ یکجا کردیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ عارف گل کے اہلخانہ سے ملاقات کے لیے وہی طریقہ کار رکھا جائے جو باقی افراد کے لیے ہے، حراستی مرکز میں مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے ۔عدالت نے عارف گل حبس بے جا کیس حراستی مراکز کیس کیساتھ منسلک کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ عدالت کے طلب کرنے کے باوجود پیر کو عارف گل کو عدالت میں پیش نہیں کیاگیااور حکومت کی جانب سے موقف اپنایا گیا تھا کہ وہ حراستی مرکز میں ہیں اور انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا ، جس پر چیف جسٹس نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عارف گل کو پیش نہ کیا گیا تو وزیراعظم کو طلب کر یں گے تاہم انہیں منگل کو عدات میں پیش کر دیا گیا۔