چین، خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ میں پاکستانی رضاکار شامل

رضاکاروں کی کوششوں سے چالیس سال بعد دریائے یانگسی کی مسکراہٹ بغیر پر والی مچھلیاں دوبارہ نمودار ہوئیں


نان چھانگ (شِنہوا) "بغیر پر والی مچھلیاں 40 برس بعد دوبارہ شہر میں داخل ہو گئیں!” پاکستانی طالب علم اعتزاز احسن اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے شہر نان چھانگ میں دریا پر تقریبا آدھے گھنٹے تک سیر کے بعد بغیر پر والی مچھلیوں کو پہلی بار دیکھا۔ ایک سابق ماہی گیر نے جوش میں آکر کہا ” دیکھو! بغیر پر والی مچھلیاں نمودار ہوگئیں”۔گشت کرنے والی ٹیم کے ساتھ دریائے یانگسی کا دورہ کرتے ہوئے اعتزاز نے چینی حکومت کے عزم اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے مقامی رضاکاروں کی کوششوں کو بھی سمجھا۔
اعتزاز احسن شہر نان چھانگ میں واقع جیانگ شی یونیورسٹی آف فنانس اینڈ اکنامکس کے طالب علم ہیں اور یونیورسٹی کی بین الاقوامی رضاکار سروس ٹیم کے رکن بھی ہیں۔فارغ وقت میں وہ رضاکارانہ خدمات خاص کرماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں میں حصہ لینا پسند کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ” میں اکثر دیگر رضاکاروں کے ساتھ نان چھانگ کے اردگرد خوبصورت مقامات اور آبادیوں میں جاتا ہوں، جہاں ہم ماحولیاتی تحفظ بارے خدمات انجام دیتے ہیں”۔اس مرتبہ وہ بغیر پر والی مچھلیوں کے تحفظ میں شامل ہوئے۔ یہ انتہائی خطرے سے دوچار نسل ہے، اسے چین میں عام طور پر "دریائے یانگسی کی مسکراہٹ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔
حال ہی میں انہوں نے نان چھانگ شہر کے دریائے گان جیانگ میں بغیر پر والی مچھلیوں کو دیکھا تھا، جس نے بہت سے شہریوں کو اپنی جانب راغب کیا۔40 برس بعد بغیر پر والی مچھلیاں نان چھانگ کے شہری پانیوں میں واپس آگئیں۔یہ جاننے کے بعد کہ کئی بغیر پر والی مچھلیاں صوبہ کی ہوکو کانٹی میں دریائے یانگسی کے پانی میں جمع ہوتی ہیں، تو اعتزاز نے وہاں جا کر بغیر پر والی مچھلیوں کے نشانات کھوجنے کا فیصلہ کیا۔
ہوکو کانٹی میں وہ گشت کرنے والی ایک ٹیم سے ملے، جو بغیر پر والی مچھلیوں کی آبادی پر نگاہ رکھے ہوئے تھی۔ یہ ٹیم سابق ماہی گیروں پر مشتمل ہے، ٹیم کے 16 ارکان میں سے زیادہ تر نسل در نسل دریائے یانگسی میں ماہی گیری کرتے رہتے تھے۔
ایک سابق ماہی گیر اور بغیر پر والی مچھلیوں کے تحفظ کے لئے گشت کرنے والے رضاکار 70 سالہ ژانگ چھوان گو نے اعتزاز کو بتایا کہ کہ دریائے یانگسی میں کئی دہائیوں سے ماہی گیری کے بعد وہ اس کا ماحولیاتی قرض ادا کر رہا ہے۔ٹیم کے ایک اور رکن شو این آن نے کہا کہ ٹیم گزشتہ 5 برس سے ہفتے میں کم از کم 5 روز گشت کرتی ہے، جو یومیہ اوسطا 20 کلومیٹر پر محیط ہوتا ہے۔55 سالہ شوین آن نے بتایا کہ "میں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کشتیوں پر گزارا ہے ،اور پانی سے بے انتہا لگائو رکھتا ہوں۔ بغیر پر والی مچھلیوں کو خطرے سے دوچار انواع میں شامل کئے جانے کے بعد میں اس کی حفاظت کے لئے تیار ہوں”۔شو 2017 میں یانگسی دریا پر گشت کرنے والی ٹیم کا حصہ بنے۔ ان کا کام بغیر پر والی مچھلیوں کی آبادی پر نگاہ رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ٹیم پانی میں پلاسٹک کا فضلہ صاف کرنے ،غیر قانونی ماہی گیری یا ریت نکالنے کی اطلاع بھی دیتی ہے۔شو نے بتایا کہ حکومت ہر رضاکار کو 2 ہزار 600(تقریبا 408امریکی ڈالر) یوآن ماہانہ معاوضہ دیتی ہے، اس کے علاوہ طبی دیکھ بھال اور ہمارے بچوں کو تعلیم بھی مہیا کرتی ہے۔ ہم اپنے رضاکارانہ کام میں بہت سکون محسوس کرتے ہیں ،اور آس پاس کے دیہاتی فن لیس مچھلیوں کی حفاظت کرنے پر ہمارا احترام کرتے ہیں۔شو کے مطابق علاقے میں مچھلی کے شکار پر پابندی سے قبل نایاب بغیر پر والی مچھلیاں کبھی کبھار نظر آتی تھیں، لیکن حیاتیاتی ماحول میں بہتری کے بعد یہ اکثر نظر آتی ہیں۔
جیانگ شی کے علاوہ دریائے یانگسی کے ساتھ آباد دیگر صوبوں نے بھی بغیر پر والی مچھلیوں کے تحفظ کے لئے ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ اب 100 سے زائد ایسے ر ضاکار گروپ سرکاری طور پر گشت کررہے ہیں۔
اعتزاز نے کہا کہ "جہاں تک میں نے دیکھا کہ دریائے یانگسی میں ماہی گیری نہیں ہوتی ،یہ حکومت کی بڑی کوشش ہے جس سے گشت کرنے والی ٹیمیں اس قابل ہوسکیں کہ وہ غیرقانونی سرگرمیاں روک سکے۔ میں اس علاقے میں حیاتیاتی ماحول کی بحالی کو پہلے ہی محسوس کرسکتا ہوں۔ میں فن لیس مچھلیوں میں صحت مند اضافے کا منتظر ہوں، تاکہ ہماری آ ئندہ نسل اس منظر کو دیکھ سکے جسے میں نے آج دیکھا ہے۔
اعتزاز نے کہا کہ پاکستان حیا تیاتی تحفظ پر بھی بہت توجہ دے رہا ہے جس کی زندہ مثال ہوبارا بسٹرڈ ہے۔ حکومت پاکستان اجازت نامہ کی سخت پالیسی پر عمل پیرا ہے جس میں پرندے کے کسی بھی قسم کے غیرقانونی شکار پر پابندی عائد کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ” میرے خیال میں پاکستانی اور چینی حکومت کو ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں تعاون کو مستحکم کرنا اور ایک دوسرے کے تجربے سے سیکھنا چاہئے”۔
یانگسی فن لیس مچھلی، فن لیس مچھلیوں کے گروہ کی میٹھے پانی کی واحد نسل ہے، جسے چین میں جنگلی حیات کے تحفظ کے اول درجے میں رکھا گیا ہے۔ یہ دریائے یانگسی کے درمیانے اور نچلے بہا میں پائی جاتی ہے۔
چین نے 2021 کے آغاز سے دریائے یانگسی کے اہم پانیوں میں 10 سال تک ماہی گیری پر مکمل پابندی عائد کردی تھی۔