بڑھتی مہنگائی :وزیراعظم کے ہائوسنگ منصوبے بھی تعطل کا شکار،پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر رک گئی

اگست 2021 ء میں سرئیے اور سیمنٹ کی قیمت میں بے تحاشا اضافے کے باعث ٹھیکیداروں نے کام روک دیا تھا،سیکرٹری ہائوسنگ کی پی اے سی کو بریفنگ


اسلام آباد:پارلیمنٹ کی پبلک اکانٹس کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ ٹھیکیداروں نے مہینوں پہلے لاگت میں اضافے کے باعث سرکاری فنڈ سے چلنے والے تمام ہاسنگ منصوبوں پر کام روک دیاہے، یہ پیش رفت بے گھر افراد کو گھر فراہم کرنے کے وزیر اعظم کے وژن کے لیے بڑا دھچکا ہے۔چیئرمین پی اے سی رانا تنویر حسین نے ہاسنگ منصوبوں پر ہونے والی اس پیش رفت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا جن ٹھیکیداروں نے کام روکا ہے ان کے ٹھیکے ختم کیے جائیں
سیکریٹری ہائوسنگ ڈاکٹر عمران زیب نے کمیٹی کو فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) اور پاکستان ہاسنگ اتھارٹی فانڈیشن کے جاری منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور میں شروع ہونے والی ہائوسنگ اسکیموں پر کام حکومت نے گزشتہ سال اگست میں سریے اور سیمنٹ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد روک دیا تھا۔انہوںنے بتایا کہ سرکاری ہاسنگ منصوبوں پر تعمیراتی کام شیڈول کے مطابق جاری تھا لیکن اگست 2021 میں سریے کی قیمت ایک لاکھ 40 ہزار روپے فی ٹن سے بڑھ کر غیر معمولی اضافے کے بعد 2 لاکھ 10 ہزار روپے تک ہوگئی، انہوں نے مزید کہا کہ اسی عرصے کے دوران سیمنٹ کی قیمت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا۔اس غیر معمولی اضافے کے نتیجے میں ٹھیکیداروں نے اخراجات میں نظر ثانی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم، کیونکہ بڑھے ہوئے چارجز پی اے سی اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ ساتھ متعلقہ قواعد کے تحت مقرر کردہ حد سے کہیں زیادہ تھے، اس لیے ہاسنگ منسٹری نے ان کے مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔
ڈاکٹر عمران زیب نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل اور گورنمنٹ کنٹریکٹرز کی ایسوسی ایشن نے بھی وزیر اعظم کو خطوط لکھے جس میں موجودہ اخراجات پر کام جاری رکھنے سے قاصر رہنے کا اظہار کیا گیا، وفاقی کابینہ نے اس معاملے کا جائزہ لیا اور اسے پلاننگ کمیشن کے سپرد کردیا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ پلاننگ کمیشن اس وقت اس بات پر غور کر رہا ہے کہ وزارت کیسے کنٹریکٹرز کو لاگت میں اضافے کے فرق کو ادا کر سکتی ہے۔انہوں نے پی اے سی کو مزید بتایا کہ ٹھیکیدار اس وقت تک منصوبوں پر کام دوبارہ شروع نہیں کریں گے جب تک کہ کوئی ایسا قانونی حکم جاری نہیں کیا جاتا جو وزارت کو منصوبے کی لاگت میں ہونے والے اضافے کے فرق کو ادا کرنے کے قابل بنائے۔
چیئرمین پی اے سی رانا تنویر حسین نے ہائوسنگ منصوبوں پر ہونے والی اس پیش رفت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن ٹھیکیداروں نے کام روکا ہے ان کے ٹھیکے ختم کیے جانے چاہیے تھے اور جن لوگوں نے تعمیراتی کام روکا تھا انہیں بلیک لسٹ کیا جانا چاہیے۔چیئرمین پی اے سی کے ریمارکس کے جواب میں ڈاکٹر عمران زیب نے جواب دیا کہ وہ ٹھیکوں کے خاتمے کے نوٹس دے چکے ہیں۔
رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ ٹھیکے ایسے ٹھیکداروں کو دیے جانے چاہتے تھے جو اپنے وسائل سے کم از کم 25 فیصد کام کر سکتے جبکہ ٹھیکیدار عام طور پر حکومت کے فنڈز سے چلنے والے کسی بھی منصوبے پر اپنی جیب سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کرتے۔
اٹارنی جنرل آف پاکستان (اے جی پی) محمد اجمل گوندل نے پی اے سی کو بتایا کہ لاگت میں اضافے کی وجہ سے ہونے والے فرق کی ادائیگی کا طریقہ قوانین میں بیان کیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ کہ تاخیر کی وجہ کوئی نہیں سمجھ سکتا، مزید تاخیر سے منصوبوں کی لاگت میں مزید اضافہ ہوگا۔ہاسنگ سیکرٹری کا کہنا تھا کہ ٹھیکیداروں نے وزارت کو سریے اور سیمنٹ کی قیمت براہ راست بیچنے والے کو ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔
یاد رہے کہ
وزیراعظم عمران خان نے اپریل 2019 میں اسلام آباد کے جی۔13 سیکٹر میں ہائوسنگ اتھارٹی کے کشمیر ایونیو اپارٹمنٹس منصوبے کا افتتاح کیاتھا لیکن اس پر بھی کام رکا ہوا ہے ۔گزشتہ دنوں وزیراعظم نے
منصوبے ک مقام کا اچانک دورہ کیا تھا اور اس وقت وہاں کوئی موجود نہیں تھا، اس کے بعد پروجیکٹ ڈائریکٹر کو وزیراعظم کو بریفنگ دینے کے لیے طلب کیا گیا تھا لیکن کام تاحال شروع نہیں ہوسکا ہے۔