مسئلہ جوناگڑھ اورحکومت پاکستان

تحریر:بلال شفیق
15 ستمبر 1947 کو الحاق کی دستاویز پرنواب آف جوناگڑھ نواب سر محمد مہابت خانج نے اور گورنر جنرل پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے دستخط کرکے جونا گڑھ ریاست کاپاکستان کے ساتھ باقاعدہ الحاق کیا اور پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ریاست جوناگڑھ کے قومی پر چم کے طور پر جونا گڑھ میں لہرانے کا معاہد ہ کیا ۔یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو آج بھی اتنا ہی مستند اور قانونی ہے جتنا اس دن تھاجب یہ طے کیا گیااور یہ معاہدہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے وہ تمام چارٹرز جو بین الاقوامی معاہدوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں کے مطابق ایک قانونی طور پر درست معاہدہ ہے ۔ریاست جونا گڑھ کا الحاق پاکستان سے ہونابھارت کو کسی بھی صورت گوارا نہ تھا اور اس فیصلے کے ماننے کی بجائے بھارتی حکومت اوچھے ہتھکنڈو پر اتر آئی اور ریاست کی زمینی و آبی اور فضائی حدود کو فوجی طاقت استعمال کرکے بند کردیا اس کے ساتھ ہی ریاست میں بھارتی افواج داخل ہوگئیں اور 9 نومبر 1947 کو ریاست جونا گڑھ پر ناجائز قبضہ کرلیا جوکہ الحاق کی دستاویز پر دستخط ہونے کے بعد پاکستانی سرزمین کی خلاف ورزی تھی ۔اس وقت سے آج تک بھارت پاکستان کی اس ریاست پر ناجائز قابض ہے اور یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں ابھی تک عالمی امن کے علمبرداروں کی توجہ کا منتظر ہے ۔
اسی حوالے سے نمل یونیورسٹی راولپنڈی کیمپس میں جوناگڑھ کے عنوان پر شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے زیر اہتمام سیمینار منعقد ہوا جس میں مقررین عالیجاہ نواب آف جوناگڑھ نواب محمد جہانگیر خانجی ، دیوان آف جوناگڑھ و چیئر مین مسلم انسٹیٹیوٹ صاحبزادہ سلطان احمد علی تھے۔پرو ریکٹر نمل جناب بریگیڈیئر ابراہیم نینواب صاحب اور دیوان صاحب کا شکریہ ادا کیا۔
مقررین نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے سر سٹیفورڈ کرپس کو درست کہا تھا کہ متحدہ ہندوستان ایک افسانہ تھا- ہندستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک خطہ ہے جو بہت سی اقوام پر مشتمل ہے- بیسویں صدی کا سب سے بڑا سیاسی دھوکہ متحدہ ہندوستان کا نعرہ تھا جبکہ اس جھوٹے نعرے کے خلاف سب سے بلند آواز آل انڈیا مسلم لیگ اور قائداعظم محمد علی جناح کی تھی- عزت مآب نواب سر مہابت خانجی کی سربراہی میں 15 ستمبر 1947 کو جوناگڑھ ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق بھی اس سیاسی دھوکے کے خلاف مضبوط آواز تھی- ہم عزت مآب نواب سر مہابت خانجی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں- پاکستان کا جوناگڑھ کا مقدمہ تحریکِ آزادی کشمیر کو بھی مدد دیتا ہے-اس لیے حکومت پاکستان کو کشمیر اور جوناگڑھ دونوں مسائل کو تمام ممکنہ پلیٹ فارمز پر اکٹھے اجاگر کرنا چاہیے- ہندوستان کے دوہرے معیارات کو بے نقاب کرنے کے لیے قانونی طور پر جوناگڑھ کا کیس بہت زیادہ مضبوط ہے اس لیے ہمیں اس مسئلہ کو ہر پلیٹ فارم میں اس کو اجاگر کرنا چاہیے۔
نواب آف جوناگڑھ نواب محمد جہانگیر خانجی کا کہناتھا کہ آج وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نواب لیاقت علی خان کی جوناگڑھ پر پالیسی کی دوبارہ تصدیق کرتے ہیں- جوناگڑھ ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق اور اس کے بعد بھارتی غیر قانونی قبضے کے بعد بھارت نے ایک نام نہاد ریفرنڈم کرایا جو بھارتی فوجی ہتھیاروں کے سائے تلے منعقد ہوا- وزیر اعظم لیاقت علی خان نے واضح طور پر کہا کہ ہم ریفرنڈم کو کبھی قبول نہیں کریں گے اور آج میں کہتا ہوں کہ میں اس ریفرنڈم کو کبھی قبول نہیں کروں گا-
مقررین نے مزید کہا کہ تقسیم ِ ہند کے وقت کے نواب جناب نواب سر محمد مہابت خانجی نے شعوری طور پرمختلف عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا- ان عوامل میں سے ایک رعایا کی مرضی بھی تھی- ریاست کے پاس ایک ایسا نظامِ حکومت موجود تھا جو لوگوں کی خواہشات کا مکمل احترام کرتا تھا- اس امر کو یقینی بنانے کیلئے کونسل قائم کی گئی تھی جو مختلف مذاہب اور علاقوں کی نمائندگی کرتی تھی-اس کونسل کو پاکستان یا ہندوستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کے فیصلے کی ذمہ داری سونپی گئی- متواتر مباحث اور مکالموں کے بعد بالآخر کونسل نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا- لارڈ مانٹ بیٹن نے نوابین کو الحاق کے حوالہ سیرعایا کی خواہش کا خیال رکھنے کی تاکید کی تاکہ الحاق کیاس عمل کو ہموار بنایا جاسکے- الحاق کا فیصلہ جمہوری تھا جس میں تمام گروہوں کے لوگ شامل تھے-
پاکستان کے مقف کا ایک اہم حصہ ہندوستان کی دھمکی بھری حکمتِ عملی کے متعلقہ ہے کیونکہ بھارت نے ریاست کے خلاف معاشی ناکہ بندی کی جنہوں نے اقتصادی سرگرمیوں کو بہت برے طریقے سے متاثر کیا- جس نے گھمبیر ماحول کو جنم دیا جس میں ہندوستان کی طرف سے بندرگاہیں سیل کر دیئے جانے نے مزید اضافہ کیا- سپلائی لائنوں کی خرابی کی وجہ سے لوگوں کے درمیان خوراک کا بحران پیدا ہو گیا- جیسا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ ایسے ماحول میں مایوسی اور تشدد جنم لیتا ہے، اسی طرح ریاست میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی اور لوٹ مار شروع ہوگئی- پاکستان کا کہناہے کہ الحاق کے دو ماہ بعدیعنی اگست سے اکتوبر تک ریاست میں مکمل امن تھا اور اس مکمل وقت میں پاکستان کا پرچم جوناگڑ ھ میں لہراتا رہا- اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ نواب کا فیصلہ رعایا کی مرضی کے مطابق تھا-
مزید یہ کہ ہندوستان کے اعلی حکام کی جونا گڑھ جاکر نواب کو فیصلہ تبدیل کروانے کی کوشش کے دستاویزی شواہد موجود ہیں-ہندوستان کے پہلے نائب وزیرِاعظم ولبھ بھائی پٹیل نواب کو ملنے خود گئے لیکن ان کی ملاقات نہ ہوسکی-پاکستان کے مطابق ہندوستان کی طرف سے دھمکیوں کی یہ ایک واضح مثال ہیجو کہ 1947 کے قانونِ آزادیِ ہند کے طے کردہ اصول کے خلاف ہے جو شاہی ریاستوں کو آزادانہ الحاق کی مکمل اجازت فراہم کرتاہے-لہذا پاکستان کا جونا گڑھ سے الحاق ان ٹھوس بنیادوں پر قانونی ہے-
پاکستان کا یہ بھی مقف ہے کہ ہندوستان اس وقت چند شر پسندوں کے ہاتھوں میں کھیل رہا تھا جو جوناگڑھ کاپاکستان کے ساتھ الحاق نہیں چاہتے تھے- لیکن یہ فیصلہ صرف ان کے لئے نہیں تھا بلکہ نواب نے تمام رعایا کے حقوق کو مجموعی طور پر مدِنظر رکھا- کچھ سازشی عناصر نے ہندوستان کا دورہ کیا اور ریاستِ جونا گڑھ میں پاکستانی فوجوں کے ظلم کی جھوٹی کہاوتیں سنائیں جس کی بنیاد کسی بھی ٹھوس شواہد سے نہیں ملتی -ان سازشی عناصر کے دہلی جانے کا مقصد خاص طور پر وہاں کے فیصلہ سازوں کے درمیان خوف کی فضا کو قائم کرنا تھا- یہ تمام اقدامات ہندوستان کے حق میں سونے پر سہاگہ ثابت ہوئے جو پہلے سے ہی ریاستوں میں فوجیں بھیجنے کے لئے تیا ر بیٹھا تھا- ان تما م ثبوتوں کی بنا پر پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ تما م اقدامات محض اتفاق سے ممکن نہیں ہوئے بلکہ ہندوستان کی سوچی سمجھی سازش تھی کہ جونا گڑھ کو پاکستان میں شامل ہونے سے روکا جا سکے-
مسلم انسٹیٹیوٹ پاکستان کا واحد ادارہ جس کے اندر جوناگڑھ کے اوپر ایک ڈیسک قائم ہے اور جو مسلسل جوناگڑھ کے اوپر تحقیق کر رہا ہے۔ مسلم انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام جوناگڑھ کے حوالے سے بہت زیادہ سمینار اور کانفرنسیں ہوئی اور ریسرچ پیپرز لکھے گئے۔
اختتامیہ:
بھارت کا یہ دعوی کہ شاہی ریاست جوناگڑھ ہندوستان کا حصہ ہونا چاہیئے فقط اکثریت آبادی کا ہندو ہونے کی وجہ سے ہے جوکہ 1947 کے قانونِ آزادیِ ہند کے اصولوں پر مبنی نہیں کیونکہ شاہی ریاست میں نواب یا مہاراجہ کی حیثیت خود مختار تھی – ہندوستان نے اس بات کو درست ثابت کرنے کے لئے رائے شماری منعقد کروانے کا ڈھونگ رچایاجس کی شفافیت پر عالمی اداروں بلکہ پاکستان نے بھی سوال اٹھایا اور اسے مسترد کیا- ہندوستان کا یہ دعوی کہ جوناگڑھ کی سر حد پاکستان سے ملی ہوئی نہیں مشکوک ہے- یہ عالمی طور پر تسلیم شدہ مسلمہ حقیقت ہے کہ سمندری سرحدیں ایک حقیقت ہیں اور دنیا کے بہت سے ممالک سمندری سرحد کو آپس میں بانٹتے ہیں جو آپس میں زمینی طور پرمتصل نہیں ہیں امریکہ کی ریاست الاسکہ اس کی واضح مثال ہے- مانٹ بیٹن کے مطابق الحاق کی دستاویز کی منظوری کے بعد جوناگڑھ پاکستان کا حصہ ہے- جوناگڑھ نے 14 اگست کو پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا جوکہ 15 ستمبر کو پاکستان نے منظور کیا- اس طرح یہ پاکستان کا حصہ ہے اور اس کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کو یقینی طور پرریاستِ پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ ہو گا-
ان تمام ثبوتوں اور بحث سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان کے مقف میں صداقت ہے اور اس کو عالمی میڈیا کوریج بھی حاصل ہے-جبکہ دوسری طرف ہندوستان کا موقف اپنے اندر خامیوں کو سموئے ہوئے ہے اور اس کی اساس فقط زمینی ربط اور اکثریت ہندو آبادی پر ہے- مندرجہ بالا دونوں نکات اپنے اندرنقص رکھتے ہیں اور 1947 کے قانونِ آزادی ہند کے بالکل خلاف ہیں کیونکہ پاکستان کی سمندری سرحدیں جوناگڑھ سے جڑی ہیں اور جوناگڑھ کی رعایا کی نمائندگی کرنے والی کونسل اور خود مختار شاہی حکمران نے پاکستان کے حق میں فیصلہ کیا-
سیمینار کے آخر میں پروریکٹر نمل راولپنڈی جناب بریگیڈئیر ابراہیم صاحب نے عالیجاہ جناب نواب محمد جہانگیر خانجی اور دیوان آف جونا گڑھ چئیرمین مسلم انسٹیٹیوٹ صاحبزاہ سلطان احمد علی صاحب کا شکریہ ادا کیا۔