
بیجنگ(شِنہوا) چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ تائیوان کا مسئلہ یوکرین سے مختلف نوعیت کا ہے اور دونوں کا موازنہ بالکل نہیں کیا جا سکتا۔
ایک پریس کانفرنس میں وانگ نے کہا کہ سب سے بڑا فرق اس حقیقت میں ہے کہ تائیوان چین کی سرزمین کا اٹوٹ انگ ہے اور تائیوان کا معاملہ مکمل طور پر چین کا اندرونی مسئلہ ہے جبکہ یوکرین کا مسئلہ دو ممالک یعنی روس اور یوکرین کے درمیان تنازعہ سے پیدا ہوا۔انہوں نے کہا کہ یہ دوہرے معیار ایک واضح عملی مثال ہے کہ کچھ لوگ یوکرین کے مسئلے پر خودمختاری کے اصول پر آواز اٹھارہے ہیں لیکن انہوں نے تائیوان کے حوالے سے چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو مجروح کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے پار موجودہ کشیدگی تائیوان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) کے حکام کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے جنہوں نے ایک چین کے اصول سے انکار کیا اور اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کی کہ آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف ایک ہی چین ہے۔ وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ ڈی پی پی حکام کی یہ حرکتیں تائیوان کا مستقبل تباہ کر دیں گی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اس کے علاوہ امریکہ میں کچھ قوتوں نے "تائیوان کی آزادی کے لیے علیحدگی پسند قوتوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ایک چین کے اصول کو چیلنج کرنے اور کھوکھلا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف تائیوان کو ایک خطرناک صورتحال میں دھکیلیں گے، بلکہ امریکہ کے لیے ناقابل برداشت نتائج کا سبب بنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تائیوان کا مستقبل بیرونی طاقتوں کی طرف سے کئے گئے "خالی وعدوں کے بجائے آبنائے پار تعلقات کی پرامن ترقی اور ملک کے دوبارہ اتحاد میں مضمر ہے۔
انہوں نے کہا کہ انحصار حاصل کرنے کے لیے غیر ملکی حمایت کا حصول بے فائدہ ہے۔ چین کو محدود کرنے کے لیے تائیوان کو استعمال کرنے کی اسکیم ناکام ہونے والی ہے۔



