مسلم لیگ ق کو راضی کرنے کے لئے حکومت کے پاس وقت بہت کم رہ گیا

ق لیگ کی ایم کیو ایم اور باپ کے ساتھ مل کر چلنے کی پالیسی نے حکومتی مشکلات مزید بڑھا دیں
حالات اس طرف جارہے ہیں کہ وزیراعظم کو عدم اعتماد سے بچنے کی بجائے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینا پڑھ سکتا ہے
ا تحادیوں کی جانب سے کسی بھی وقت مشترکہ پریس کانفرنس آسکتی ہے اور وزیراعظم کو لینے کے دینے پڑھ سکتے ہیں

اسلام آباد(محمدرضوان ملک )اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد سے عمران خان کی مشکلات کسی صورت کم ہونے میں نہیں آرہی ہیں اور وہ کوشش کے باوجود اپنے اتحادی کو تاحال اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں ۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ ق ، ایم کیو ایم اور دیگر اتحادی گو شروع سے حکومت کے ساتھ چل رہے ہیں لیکن وہ ان تین سالوں کے دوران گاہے بگاہے اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار بھی کرتے رہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ان کے تحفظات پر وہ توجہ نہ دی گئی جس کی وہ توقع کرتے رہے تھے۔اب اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کے بعد عمران خان اپوزیشن کا مقابلہ اسمبلی میں کرنے کی بجائے عوامی میدان میں کرنا چاہ رہے ہیں اور ملک بھر میںجلسے کر رہے ہیں ۔حتیٰ کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے بھی وزیراعظم عمران خان نے ڈی چوک میں دس لاکھ افراد اکٹھا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس کے جواب میں اپوزیشن نے بیس لاکھ افراد کو سڑکوں پر لانے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان کے دس لاکھ افراد اسلام آباد لانے پر مولانا فضل الرحمان نے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال آپ دس لاکھ نے لائیں اور اسمبلی میں 172 پورے کریں ۔
مسلم لیگ ق کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ وہ حکومت کے دیگر اتحادیوں ایم کیوایم اور باپ کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں اس اعلان نے حکومتی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے کیونکہ اتحادی ہونے کے باوجود یہ تینوں جماعتیں حکومت سے خوش نہیں ہیں ۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے کسی بھی وقت یہ تینوں جماعتیں حکومت کے خلاف مشترکہ پریس کانفرنس کر کے ایسے مطالبات حکومت کے سامنے رکھ سکتی ہیں جن کا پورا کرنا اس کے بس میں نہیں ہوگا اور اگر ایسی صورت حال ہوتی ہے تو وزیراعظم کو عدم اعتماد سے بچنے کی بجائے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینا پڑھ سکتا ہے۔
کئی دن گزرنے کے باوجود اور کئی ملاقاتوں کے باوجود حکومت تاحال اتحادیوں کو راضی نہیں کر سکی ہے کوئی ایسا پیکج انہیں آفر نہیں کیا گیا جس سے وہ مطمئن ہوتے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ حکومت اور اتحادیوں میں فاصلے کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں۔
اس سب کے علاوہ حکومت کو اتحادیوں کی جانب سے اس طعنے کا بھی سامنا ہے کہ آپ کے اپنے اندر کئی گروپ بن چکے ہیں پہلے انہیں تو اکٹھا کریں اور ابھی تک وہ بھی نہیں ہو پایا ہے۔ اوپر سے اتحایوں کے تیور بھی بدلے ہوئے ہیں ۔اب حکومت کے پاس اپنے اتحادیوں اور ناراض دوستوں کو راضی کرنے کے لئے وقت بہت کم رہ گیا ہے۔
اس ساری صورت حال سے مایوس ق لیگ نے حکومت کی بجائے اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اشارہ بھی دے دیا ہے۔گو چودھری برادران مروت والے آدمی ہیں لیکن ان کے ساتھی ق لیگ کے زیادہ تر رہنما حکومتی رویے سے نالاں ہیں، جس پر انہوں نے اپوزیشن کی پیشکش کا مثبت جواب دینے پر زور دیا ہے اور دیگر اتحادی دھڑوں کے ساتھ مل کر چلنے کا فیصلہ کیا گیاہے
سربراہ ق لیگ چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو تندو تیز الفاظ استعمال کرنے اور سیاسی قیادت کو ایک دوسرے کے خلاف برے القابات سے گریز کرنا چاہیے۔انہوں نے وزیراعظم کو یہ مشورہ بھی دے ڈالا کے وہ ریاست مدینہ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے سورة الحجرات پڑھیں ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان سور الحجرات پڑھ لیتے تو سیاستدانوں کے نام نہ بگاڑتے۔ چوہدری شجاعت حسین نے مسلم لیگ ق کے اراکین پارلیمنٹ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے سیاست دانوں کو سخت بیانات سے درگزر کرنے اور شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے کی تلقین کی۔چوہدری شجاعت حسین نے آیت کا مفہوم پیش کیا کہ اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑا ممکن ہے کہ وہ تم سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے پر عیب نہ لگا اور نہ کسی کو برے لقب دو، ایمان کے بعد فسق برا نام ہے، جو توبہ نہ کریں وہی لوگ ظالم ہیں۔سابق وزیراعظم شجاعت حسن نے مزید کہا کہ میرا تمام سیاست دانوں کو مشورہ ہے کہ سیاست میں شائستگی اور رواداری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے اپوزیشن کی جانب جھکا ئوکا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حزب اختلاف کا ساتھ دیا تو وزارتوں سے مستعفی ہوں گے، اپوزیشن سے اسمبلیوں کی مدت مکمل ہونے پر اتفاق ہوا ہے جبکہ یہ بھی طے پایا کہ اسپیکر اسمبلی اپنی مدت پوری کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر (شہباز شریف) کے ساتھ کسی بھی وقت ملاقات متوقع ہے، مسلم لیگ (ن) کے صدر کی جانب سے پارلیمانی جماعتوں کے عشائیہ میں شرکت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، اگلے دو دن حکومتی اتحادیوں سے مشاورت کے بعد آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان مشترکہ کریں گے۔
دوسری طرف اپوزیشن نے مسلم لیگ ق کو تخت پنجاب کی آفر کر دی ہے ۔بھی تک اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) اسپیکر پنجاب اسمبلی اور مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلی پنجاب بنانے پر متفق ہوگئی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ چوہدری پرویز الہی کو اپوزیشن کی جانب سے پنجاب میں وزیراعلی کا امیدوار نامزد کر دیا گیا ہے، اور اس کے بدلے حکومتی اتحادی ق لیگ، ایم کیو ایم اور باپ پارٹی تینوں مشترکہ طور پر وفاق میں عدم اعتماد کی تحریک میں اپوزیشن کی حمایت کریں گی۔ اس حوالے سے تینوں اتحادی جماعتیں کل آصف علی زرداری کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گی۔
ن لیگ کی جانب سے ق لیگ کو وزارت اعلی دینے پر ممکنہ رضامندی کے بعد ترین گروپ اور علیم گروپ پنجاب میں وزارت اعلی کے حصول کی دوڑ سے باہر ہوگیاہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے بڑھتے رابطے اور (ن) لیگ کی جانب سے مسلم لیگ (ق) کو وزارت اعلی دینے پر ممکنہ رضا مندی کے بعد اب جہانگیر ترین گروپ اور علیم خان گروپ پنجاب میں وزارت اعلی کے حصول کی دوڑ سے باہر ہوگیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ چند روز قبل ترین گروپ کو پنجاب میں ممکنہ تبدیلی کی صورت میں وزارت اعلی ملنے کا قوی امکان تھا، اور علیم خان کی ترین گروپ میں شمولیت کی خبر نے اپوزیشن کے اشتراک سے عثمان بزدار کی کرسی کوخطرے میں ڈال دی تھی، تاہم ترین گروپ میں شامل طاقتور ارکان کے مخالفانہ رویے نے علیم خان کو ناراض کرکے گروپ کی طاقت کو کمزور بنا دیا، اور دونوں جانب سے صلح کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔
ذرائع کے مطابق لندن میں مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کے ساتھ ملاقات میں علیم خان نے خود کو وزیرا علی پنجاب کا امیدوار نہ ہونے کے حوالے سے آگاہ کردیا تھا، ن لیگ کے جاوید لطیف نے لندن میں ہونے والی ملاقات جب کہ احسن اقبال علیم خان اور ترین کی ن لیگ میں ممکنہ شمولیت کی تصدیق کر چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی مصلحت کی وجہ سے ترین اور علیم گروپ کے چند لوگ اپنی نئی وابستگیوں کا باضابطہ اقرار نہیں کررہے، تاہم ذرائع نے بتایا کہ علیم خان کے مسلم لیگ(ن) کے ساتھ معاملات طے ہونے کے قریب ہیں، اور ترین گروپ کے متعدد ارکان بھی (ن) لیگ سے ڈیل کر چکے ہیں، تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ سے چند روز قبل دونوں گروپ اپنی سیاسی وابستگیوں کا باضابطہ اعلان کریں گے۔
اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکومت کے پاس معاملات سدھارنے کے لئے وقت بہت کم رہ گیا ہے ۔عمران خان کو اپنی حکومت بچانے کے لئے جو کچھ کرنا ہے جلد کرنا ہوگا کہیں دیر نہ ہوجائے ۔