حویلیاں طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی گئی

طیارے کا ایک انجن بند اور دوسرے کا بلیڈ ٹوٹا ہوا تھا، طیارے کے انجن کا بلیڈ پشاور سے چترال جاتے ہوئے ٹوٹا تھا

کراچی:پاکستان کی قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے ۔ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ نے حویلیاں طیارے حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ 4سال بعدجاری کر دی ،رپورٹ کے مطابق طیارے کا ایک انجن بند اور دوسرے کا بلیڈ ٹوٹا ہوا تھا۔ طیارے کے انجن کا بلیڈ پشاور سے چترال جاتے ہوئے ٹوٹا تھا۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دوران پرواز انجن بلیڈ، پن کے ٹوٹنے سے پنکھے کی رفتار کم ہوئی، پروپیلر کی رفتار کم ہونے سے اس کا الیکٹرانک پینل خراب ہوگیا تھاجبکہ طیارہ پائلٹ نے بھی پرواز سے پہلے انجن میں خرابی کی کوئی نشاندہی نہیں کی تھی۔ اے ٹی آر طیارے کی آخری بار مرمت کینیڈا میں ہوئی تھی۔اس سے قبل حویلیاں حادثے کی ابتدائی رپورٹ جنوری 2019کو جاری کی گئی تھی جس میں تکنیکی خرابیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔واضح رہے کہ حویلیاں طیارہ حادثہ چار سال قبل دسمبر 2016میں پیش آیا تھا جس میں معروف نعت خواں، مبلغ دین جنید جمشید سمیت 47افراد جاں بحق ہوئے تھے۔قومی ائیرلائن کے طیارے پی کے 661نے سات دسمبر 2016 کو چترال سے اسلام آباد کے لیے اڑان بھری تو مسافروں کے ہمراہ مبلغ جنید جمشید اور ان کی اہلیہ بھی موجود تھے۔طیارہ اپنی منزل پر پہنچے سے قبل ایبٹ آباد کے قریب حویلیاں کے مقام پرحادثے کا شکار ہو گیا تھا جس میں سینتالیس مسافر مارے گئے تھے۔