ایل پی جی کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ،قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

فی کلو 13روپے، گھریلو سلنڈر میں 157روپے اور کمرشل سلنڈر میں 606 روپے کا اضافہ
گزشتہ 2سال سے جے جے وی ایل بندش کی وجہ سے سرکاری خزانے کو50ارب کا نقصان ہوچکا
گرین پاکستان کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کی جائے۔ایل پی جی انڈسٹری کو ٹیکس فری قرار دیا جائے۔ایل پی جی پالیسی ہم نہیں مانتے اسے فوری ختم کیا جائے،عرفان کھوکھر


لاہور:پی ٹی آئی حکومت نے جاتے ہوئے عوام کو مہنگائی کا ایک اور تحفہ دے دیا۔2سال میں ایل پی جی کی صارفی قیمت میں 173 فیصد اضافہ۔ نئے پاکستان میں 2 سال پہلے90 روپے فی کلو میں بکنے والی ایل پی جی اب 247 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی۔ 1067 روپے پر بکنے والا گھریلو سلنڈر2,916روپے اور4,106 روپے پر بکنے والا کمرشل سلنڈر 11,220 روپے پر فروخت ہو گا۔گزشتہ 2سالوں میں گیس کی صارفی قیمت میں 157 روپے فی کلو، گھریلو سلنڈر میں 1853 روپے اور کمرشل سلنڈر میں 7128 روپے کا اضافہ ہوا۔ غریب ایل پی جی صارفین کا معاشی قتل جاری۔ایل پی جی غریب عوام، رکشہ ڈرائیور اور گھریلو استعمال کا اندھن ہے جو ایل پی جی کی روز بروز کی بڑھتی قیمت کی وجہ سے غریب عوام کی پہنچ سے بہت دورہو گیا ہے۔جے جے وی ایل کی بندش کی وجہ سے ماہانہ 15000 میٹرک ٹن کے شاٹ فال کا سامنہ کرنا پڑ رہا ہے۔ 750,000 گھروں کی سپلائی کوجے جے وی ایل پوراکر رہا تھالیکن ایس ایس جی سی کی ہڈدھرمی کی وجہ سے جون 2020سے بندپڑا ہے۔مہنگی ایل پی جی کی درآمد کی وجہ سے سرکاری خزانے کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ جس سے فارن ایکسچینج سیونگ ضائع ہو رہی ہے۔فری پیدا ہونے والی ایل پی جی کی لوکل پروڈیوسروں کی طرف سے بین القوامی قیمت پرفروخت جاری۔ لوکل پروڈیوسروں کے پاس 370 فیصد اضافی مارجن ہونے کے باوجودغریب صارفین کو ریلیف نہ دیا گیا۔ چئیرمین ایل پی جی ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر کے مطابق موجودہ ایل پی جی پالیسی بری طرح ناکام ہو چکی۔ گرین پاکستان کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ایل پی جی کی قیمت نچلی سطح پر قائم کرنابہت ضروری ہے۔پہاڑی و پسماندہ علاقوں میں قدرتی گیس کی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے درخت کاٹ کر لکٹریوں کا استعمال کیا جاتاہے۔اگر قیمت کم نہ کی گئی تو گرین پاکستان کا خواب پورا نہ ہو سکے گا۔ وزیر اعظم پاکستان سے گزارش ہے کہ وزیر اعظم رلیف پیکچ میں ایل پی جی کو بھی شامل کیا جائے۔ جے جے وی ایل فوری چلایا جائے۔ ایل پی جی پر لگے تمام ٹیکس ختم کیے جائیں تاکہ غریب صارفین کو سستی ایل پی جی دستیاب رہے۔