عمران خان نے اپنا اقتدار میں رہنا پاکستان کی سلامتی سے مشروط کر دیا
میچ ہاتھ سے نکل چکا ،کپتان بضد ہیں کہ وہ آخری بال پر 172 رنز بنا کر میچ جیتے گے
عالم اسلام کو ایک لڑی میں پرونے کا خواب دیکھنے والے 172 ارکان کو اپنا ہمنوا نہ بنا سکے
صرف آپ ہی پاکستان اور اسلام کو بچا سکتے ہیں خوشامدیوں نے وزیراعظم کو ذہنی مریض بنادیا
ڈرون حملوں پر ماضی کے حکمرانوں کو کوسنے والا کشمیر پر بھارتی قبضے کو خاموشی سے دیکھتا رہا
صرف میں ہی محب وطن صادق اور امین باقی سب چور ہیں،وزیرا عظم میں خود پسندی اپنی انتہاء پر نظر آئی
مغر ب کو سب سے زیادہ سمجھنے کے دعویدار آخر کیسے مغرب کے جال میں پھنس کر حکومت گنوا بیٹھے
ساڑھے تین سال تک مخالفین کے لئے فرعون بنے رہے شکر ہے خدائی کا دعویٰ نہیں کر دیا
خطاب اور کرکٹ میچ ایک ساتھ ہونے کے باعث ناظرین خطاب کی ٹینشن میچ دیکھ کر دور کرتے رہے
اپنے ارکان کو مستعفیٰ ہونے کا مشورہ دینے والے خود اس پر عمل کرنے کو تیا نہیں ،کیا آپ کے آئیڈیل ممالک میں جمہوری وزرائے اعظم کا روئیہ یہی ہے۔

اسلام آباد:جمعرات کی رات وزیراعظم عمران خان نے عوام کو ایک او ر سرپرائز خطاب سے نوازا ، اس خطاب سے ساتھ ہی یہ عقد بھی کھلا کے دن رات خوشامدیوں کے گھیرے میں رہنے والے وزیراعظم نفسیاتی مریض بن چکے ہیںوہ کسی صورت یہ تسلیم کرنے کو تیار ہیں نہیں ان کے علاوہ بھی کسی دوسرے مسلمان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ پاکستان اور عالم اسلام کو ان بحرانوں سے نکال سکے۔
وزیراعظم اپنے آخری خطاب میں بھی ورکروں کے لئے ترپ کا کوئی پتہ تو سامنے نہ لاسکے البتہ انہوں نے اقتدار بچانے کے لئے ارکان اسمبلی کی خوب منتیں کیں اور یہ باور کرانے کی کوششیں کرتے رہے کہ میں گیا تو سمجھو پاکستان بھی گیا۔ وہ قوم اور ارکان اسمبلی کو یہ بتانے کی کوشش کرتے رہے کہ ان کا اقتدار دنیا میں اسلام کی نمو اور بقا کا ضامن ہے اور تحریک عدم اعتماد میں ان کے خلاف ووٹ دینے والے کبھی بخشے نہیں جائیں گے۔
جمعرات کی رات وزیراعظم کا خطاب ایک خود پسند اور انا پرست شخص کا خطاب تھا جس کے نزدیک دنیا میں صرف وہی ایک انسان ہے جو پاکستان اور عالم اسلام کے مسائل حل کر سکتا ہے۔ وہ اپنے خطاب کے دوران عوام کو یہ تو بتاتے رہے کہ ان کے سیاست میں آنے کا مقصد کیا تھا لیکن وہ یہ نہ بتاسکے کے ساڑھے تین سالوں میں انہوں نے قوم کو ڈلیور کیا کیا۔ وہ قوم کو پچھلے 27 سالوں سے بتا رہے ہیں کہ وہ دنیا میں سب سے اچھے ، سب سے سچے اور سب سے محب وطن ہیں لیکن عملا وہ اپنے چند ساتھیوں پر بھی اپنی یہ سچائی اور ایمانداری ثابت نہ کر سکے کہ وہ آج ان کو تحریک عدم اعتماد کی ذلت آمیز شکست میں ان کی مخالفت کی بجائے ان کے ساتھ کھڑے ہوتے۔
تین سال پہلے جب وہ برسراقتدار آئے تھے تو حالات ایسے نہ تھے وہ تو برطانیہ اور امریکہ کے نظاموں کی تعریف کرتے تھے اور ان کا یہ دعویٰ تھا نہ ان سے زیادہ کوئی مغرب کو نہیں جان سکتا۔پھر ان کو اس قدر جاننے کے بعد آ خر ان سے ان تین سالوں میں ایسی کیا غلطی ہوئی کہ وہ مغرب کو سمجھ نہ سکے اور اس کے ہاتھوں بلیک میل ہوگئے ۔آخر ان سے کیا غلطی ہوئی کہ مغرب کو خارجہ پالیسی میں مداخلت کا موقع ملا ۔
خوشامدیوں نے وزیراعظم کو اس حد تک ذہنی طور پر مفلوج کر رکھا ہے کہ رات وہ یہ کہتے کہتے رک گئے کہ اگر ان کی والدین کی قربانیاں شامل نہ ہوتیں تو قائداعظم کبھی پاکستان بھی نہ بناسکتے۔
کھیل ختم اور میچ وزیراعظم کے ہاتھ سے قریبا نکل چکا ہے لیکن وہ اب بھی بضد ہیں کہ میچ وہی جیتے گے اور آخری گیند تک لڑیں گے اب کوئی اس خود پسند اور اپنی ذات کے خول میں بند شخص کو کیسے بتائے کہ کبھی آخری گیند پر 172 رنز بھی بنے ہیں۔
ڈورن حملوں پر ماضی کے حکمرانوں کو الزام دینے والے وزیراعظم عوام کو بتانا پسند کریں گے کہ بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے خلا ف انہوں نے کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں کیوں بند کر رکھی ہیں۔ ماضی کے حکمران تو ڈرون حملوں پر مناسب احتجاج نہ کرتے تھے آپ نے توپاکستان کی شہ رگ ہی خاموشی سے دشمن کے حوالے کر دی۔ جب قائد حزب اختلاف نے ایوان میں آپ کی توجہ اس جانب دلائی تو آپ نے زچ ہو کر جواب دیا کہ کیا میں بھارت پر حملہ کر دوں ۔جناب وزیراعظم اگر آپ عالم اسلام کے لیڈر بننا چاہتے ہیں تو دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں پر ہونے والے مظالم بند کرائیں۔آپ ذہین آدمی ہیں حکمت عملی بنائیں اور مسئلہ حل کریں۔
بدقسمتی سے وزیراعظم کو خوشامدیوں نے اس نفسیاتی مرض میں مبتلاء کر دیا ہے جس میں ایک شخص خوشامد سن سن کر خود کو سب سے اچھا، قابل اور اہل تصور کرنے لگتا ہے اور اس کو اس بات سے سخت کوفت ہوتی ہے کہ لوگ اس کی بات کیوں نہیں سن اور سمجھ رہے۔وہ یہ خیال کرنے لگتا ہے کہ خدا صرف اس کے ساتھ ہے اور وہ اس سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے۔ ایسے شدید ڈپریشن میں آکر وہ خود کو بھی کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔



