ان کا انتخاب بلامقابلہ ہوا وہ قومی اسمبلی کے 22 ویں سپیکر ہیں
ایوان نے بلقیس ایدھی کو خراجِ عقیدت اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر حملے کیخلاف قراردادمذمت کی بھی منظوری دی

اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف پاکستان کے ایوان زیریں (قومی اسمبلی ) کے 22 سپیکر منتخب ہو گئے ہیں۔منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیاہے۔ پینل آف چیئر ایاز صادق نے راجہ پرویز اشرف سے حلف لیا، جس کے بعد نومنتخب اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنی نشست سنبھال لی۔قبل ازیں قومی اسمبلی کا اجلاس ن لیگی رہنما، سابق اسپیکر اور پینل آف چیئرمین ایاز صادق کی زیرِ صدارت ہوا۔
پرویز اشرف کا بطور اسپیکر پہلا خطاب
ذمے داری سنبھالنے کے بعد راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی سے بطور اسپیکر پہلا خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے 22 ویں اسپیکر کے طور پر بلا مقابلہ منتخب کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اپنے قائد آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا شکر گزار ہوں، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور تمام اتحادیوں کا بھیمشکور ہوں۔اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ایوان کی تعظیم اور توقیر میں اضافہ اولین ترجیح ہو گی، فرض سمجھتا ہوں کہ ایوان میں اپوزیشن کی آواز نہ دبائی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام کو تقسیم نہیں کرنا، اداروں کو دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے دوسرے اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
استعفوں پر اسپیکر کی رولنگ
پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں کے معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے رولنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ رولنگ اور رولز کے تحت اراکینِ قومی اسمبلی کے استعفوں کو دیکھا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی ارکان کے استعفے میرے سامنے دوبارہ پیش کیے جائیں، استعفوں کے معاملے پر ہم قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔
اس سے قبل وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے تحت کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ لگائے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ 5 ہزار میگا واٹ کے ایل این جی پلانٹس بھی لگائے گئے، 1250 میگا واٹ کا پلانٹ 2019 میں چلنا تھا، جو بند پڑا ہے۔
وزیرِ اعظم کے خطاب سے قبل راجہ پرویز اشرف ایوان میں پہنچے تو قومی اسمبلی میں جئے بھٹو کے نعرے گونجنے لگے۔
بلقیس ایدھی کو خراجِ عقیدت کی قرارداد
ایوان میں بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بلقیس ایدھی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی قرار داد پیش کی گئی جو ایوان نے منظور کر لی۔
ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر حملے کیخلاف قرارداد
قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری پر حملے کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر حملے کے ذمے داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
قاسم سوری مستعفی
واضح رہے کہقبل ازیں ہفتے کو ہی قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کا استعفی سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر کو موصول ہو گیا ہے۔نو منتخب اسپیکر راجہ پرویز اشرف قاسم سوری کے استعفے کی منظوری کا فیصلہ کریں گے۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر آج ہفتہ کو ووٹنگ ہونی تھی، اس سلسلے میں قومی اسمبلی کا اجلاس آج 12 بجے پارلیمنٹ ہاوس میں سابق اسپیکر اور پینل آف چیئرمین ایاز صادق کی زیرِ صدارت ہونا تھا۔
حکومتی اتحاد کے 159 اراکین کی جانب سے قاسم سوری کے خلاف تحریک پیش کی گئی تھی، قومی اسمبلی کے قاعدہ 12 کے تحت ڈپٹی اسپیکر کی برطرفی کی کارروائی کی جانی تھی۔ڈپٹی اسپیکر کے استعفے کے بعد تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کی ضرورت نہیں رہی۔
وزیراعظم کا خطاب
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر آپ کو میری جانب اور پورے ہاس کی جانب سے مبارک ہو، آپ منجھے ہوئے سیاست دان ہیں اور وزارت عظمی پر بھی فائز رہے ہیں، امید کرتا ہوں آپ پورے ایوان کو ساتھ لے کر چلیں گے، میری اور ہاس کی دعائیں آپ کے ساتھ ہوں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں لوڈ شیڈنگ جاری ہے، ملک میں 35 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، بجلی پیدا کرنے کی کیپسٹی کافی ہے، سی پیک کے نتیجے پر لگنے والے پاور پلانٹس کوئلے اور ہوا سے چلنے والے لگے ہیں، ایک پاور پلانٹ 2019 میں چلنا تھا جو 1250 میگا واٹ کا ہے، اربوں روپے کا یہ منصوبہ بند پڑا ہے اور بجلی نہیں پیدا کرسکا، سابقہ حکومت کی اس منصوبے پر کوئی توجہ نہیں تھی۔نئے پاور پلانٹس گیس نہ ہونے سے بند ہیں اسی لیے لوڈ شیڈنگ ہے، وزیراعظم نے کہا کہ جو نئے پلانٹس لگے گیس نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے ہیں، اسی وجہ سے ملک میں لوڈ شیڈنگ ہے، اسی لیے سابقہ حکومت کو کرپٹ اور نااہل حکومت کہتے تھے۔وزیراعظم شہبازشریف نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر ایوان میں ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر ایوان میں حملہ شرم ناک ہے۔
وہ ادارے جو متنازع رہے اب آئینی کردار کی طرف بڑھ رہے ہیں، بلاول
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چند روز پہلے اس ایوان کی توہین کی گئی، کس طریقے سے آئین پاکستان سے کھیلا گیا، ہم تب تک پاکستانی نہیں کہلاسکتے جب تک ئین کا تحفظ نہ کریں، پاکستان کے سارے ادارے جو متنازع رہے ہیں اب وہ آئینی کردار کی طرف بڑھ رہے ہیں، اگر ادارے اپنا اپنا کام کریں تو پاکستان کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا، وزیراعظم صاحب تمام جماعتیں آپ کی طرف دیکھ رہی ہیں۔
اس موقع پر بلاول نے بلقیس ایدھی کے انتقال پر اظہار افسوس کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی جو منظور کرلی گئی۔ بلاول نے کہا کہ بلقیس ایدھی کی انسانیت کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، بلقیس ایدھی کو قومی اعزاز سے نوازا جائے۔
کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص پوری پارٹی کے استعفے قبول کرلے؟ اسعد محمود
اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے رکن مولانا اسعد محمود نے کہا کہ پورے دنیا جانتی ہے کہ پی ٹی آئی استعفے دے چکی ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک شخص پوری پارٹی کے استعفے قبول کرلے، انشا اللہ ہم پنجاب اسمبلی میں بھی جیتیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر صاحب پی ٹی آئی والوں کو بلا کر استعفوں سے متعلق پوچھیں، ایک ایک کر کے سب کو بلائیں، شیخ رشید ، شیری مزاری کو لازمی بلا کر پوچھیں کہ استعفی کیوں دیا ہے، جس نے یہاں فلور آف دی ہائوس پر کہا کہ استعفی دے رہا ہوں اسے پہلے بلائیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد ہمارے مدارس اور مساجد پر حملے کیے گئے، بدمعاشی اور دہشت گردی کریں گے تو ہم بازو کے زور پر اسے روکیں گے، وزیراعظم ہاس کی جو بھینسیں بیچی گئی ہیں اس کا ریکارڈ ایوان میں پیش کیا جائے،توشہ خانہ کے تحفوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کی جائیں۔
استعفی ارکان کی اپنی لکھائی میں نہیں، بلاکر پوچھا جائے، ایاز صادق
(ن) لیگی رکن اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے بطور قائم مقام اسپیکر غیر قانونی طور پر پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور کیے، تمام ارکان کو فردا فردا تصدیق کے لیے بلانا چاہیے تھا، قواعد کے لحاظ سے استعفی رکن کی اپنی لکھائی میں ہونا چاہیے، تحریک انصاف کے کئی ارکان نے مجھ سے رابطہ کرکے کہا کہ ہم استعفی نہیں دینا چاہتے ہم پر بیجا دبا ڈالا جارہا ہے۔
اسپیکر کا استعفی ڈی سیل کرکے پیش کرنے کا حکم
بعدازاں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے ارکان کے استعفے ڈی سیل کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ استعفی ڈی سیل کرکے مجھے دیں تاکہ میں قانون اور آئین کے مطابق انہیں دیکھ سکوں۔
پارلیمنٹ کا میڈیا سینٹر کھولنے کا حکم
مسلم لیگ (ن) کی رکن مریم اورنگزیب نے کہا کہ قومی اسمبلی کا میڈیا سینٹر گزشتہ چار سال سے بند ہے، پونے چار سال میڈیا بھی زیر عتاب رہا، پی آر اے کا بھی مطالبہ رہا ہے کہ میڈیا سینٹر کھولا جائے، فاشسٹ رویے کے خلاف ہم نے مل کر جدوجہد کی، پارلیمنٹ لاجز کو بھی میڈیا کے لیے کھولا جائے۔اسپیکر راجا پرویز اشرف نے پارلیمنٹ کا میڈیا سینٹر کھولنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو ہدایت کرتا ہوں کہ میڈیا سینٹر کو میڈیا کے لیے فوری کھولا جائے۔
صرف دو ارکان کی موجودگی میں انتخابات اصلاحات پر تحریک منظور
دریں اثنا انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی تحریک صرف دو ارکان کی موجودگی میں منظور کرلی گئی۔ تحریک میں کہا گیا ہے کہ شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے قوانین میں بہتری کی ضرورت ہے، کمیٹی تین ماہ میں اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے گی۔
کمیٹی ارکان کی نامزدگی کا اختیار اسپیکر کو دے دیا گیا۔ تحریک کی منظوری کے وقت ایوان میں صرف دو ارکان موجود تھے۔ بعدازاں قومی اجلاس کا اجلاس پیر کی دوپہر بارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔


