عمران دھرنا دینے آئے تھے جلسہ بھی نہ کر سکے ،جب دوچار ہاتھ لب بام رہ گیا تو کمر ٹوٹ گئی

چھ دن کی ڈیڈ لائن کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی مترادف نکلی ،حکومت نے بھی دھمکی کو بالکل سنجیدہ نہ لیا
پی ٹی آئی کا عوامی پریشر ختم ہوتے ہی حکومت شیر ہوگئی ، پٹرول مہنگا، بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کی بھی تیاریاں ۔ترقیاتی بجٹ محدود کر دیا گیا

اسلام آباد(محمد رضوان ملک ) سلام آباد کے ڈی چوک میں نئے انتخابات کی تاریخ تک دھرنے دینے کے اعلان کے ساتھ اسلام آباد میں داخل ہونے والا پی ٹی آئی کا آزادی مارچ غیر متوقع طور پر دھرنے میں تبدیل ہونے اور مقررہ مقام تک پہنچنے کی بجائے آدھے راستے ہی میں اختتام پذیر ہوگیا۔
حکومت نے سخت کریک ڈائون کرتے ہوئے خیبر پختون خوا کے علاوہ دیگر شہروں سے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنمائوں کو اسلام آباد نہ پہنچنے دیا۔خیبر پختون خوا سے بھی عمرا ن کارکنوں کی خاطر خواہ تعداد کو اسلام آباد لانے میں کامیاب نہ ہوسکے بعد میں سپریم کورٹ کے حکم پر رکاوٹیں بھی ہٹا دی گئی تھیں اور سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو ایچ نائن اور جی نائن کے درمیان جلسہ کرنے کی بھی اجازت دے دی تھی تاہم اس کے باوجود عمران کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کی ہدایت کرتے رہے لیکن نہ جانے کیوں عین اس وقت جب لب بام دو ہاتھ رہ گیا تو کمر ٹوٹ گئی اور عمران خان ڈی چوک سے چند گز دور پہنچ کر الوداعی خطاب کر کے چلتے بنے اس الوداعی خطاب میں انہوں نے حکومت کو مزید چھ دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ چھ دن کے اندر اگر انتخابات کی تاریخ نہ دی گئی تو وہ تیس لاکھ لوگوں کے ساتھ اسلام آباد آئیں گے ۔
تاحال یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ آخر عین وقت پر وہ کیا بات ہوئی کہ عمران جس دھرنے کے لئے کئی دنوں سے تیاریاں کر رہے تھے اچانک بیچ چوراہے میں کارکنوں کو رہنمائوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر کیوں چلتے بنے ۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دھرنے اور ایک قابل عزت جلسے کے لئے درکار کارکنوں کی تعداد کو نہ پا کر عمران خان مایوس ہوگئے اور انہوں نے عافیت اسی میں جانی کہ وہ حکومت کو ایک نئی ڈیڈ لائن دے کر دھرنا ختم کر دیں
تاہم حکومت نے بھی دوسری طرف ان کے دھرنے کو بالکل سنجیدہ نہ لیا۔ پی ٹی آئیکے دھرنے کا عوامی پریشر ختم ہونے کی دیر تھی کہ حکومت شیر ہوگئی ، اگلے ہی دن نہ صرف پٹرول مہنگاکردیا گیا بلکہ بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کی بھی تیاریاں ہیں اور حکومت کی طرف سے ترقیاتی بجٹ بھی محدود کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کا عوامی پریشر ختم ہونے کا عوام کو پہلا نقصان اٹھانا پڑا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرد یا گیا ۔ حکومتی اقدامات سے لگتا ہے کہ اب وہ پی ٹی آئی کی جانب سے بالکل بے فکر ہوگئی ہے جس کا نقصان بہر حال عوام کو ہی ہوگا ۔ دیکھئیے آگے آگے ہوتا ہے کیا۔
۔۔۔۔