عدلیہ سمیت تمام ادارے تباہ ہوچکے نظام کی اورہالنگ کی ضرورت ہے
اپوزیشن جماعتیں سی پی او کا استعفیٰ چاہتی تھیں حکومتی اراکین نے مطالبہ غیر ضروری قراردیا

سلام آباد(محمد رضوان ملک) ایوان بالا میںسانحہ موٹروے پر حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر نظر آئیں ایوان بالا کی تمام جماعتیں مجرمان کو سخت سے سخت سزادینے کے حق میں تھیں، حکومت اور مسلم لیگ ن کی جانب سے سانحہ موٹروے میں ملوث درندوں کی سرعام پھانسی کی حمایت کی گئی تاہم پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ان سزائوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ یہ جرائم بڑھ گئے۔تمام جماعتیں اس بات پر متفق تھیں کہ ملک میں عدلیہ سمیت دیگر ادارے تباہ ہوچکے ہیں اور نظام کی اور ہالنگ کی ضرورت ہے ۔ سینٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے تجویز کیا کہ انصاف کے معاملات میں خاص طور پر ججز کی تعیناتی کے حوالے سے ایوان بالا کی کمیٹی آن ہول (پورے ایوان کی کمیٹی )کا اجلاس بلایا جائے۔آصف کرمانی نے کہا حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو میجر سرجری کی آڑ میں کوئی طالع آزما بھی ملک پر مسلط ہو سکتا ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ اس واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ نئے پاکستان میں عورتیں اور بچے محفوظ نہیں ہیں۔ وزراء ایک گھٹیا پولیس افسر کا تین دن سے دفاع کر رہے ہیں جو کہتا ہے کہ عوام اپنی حفاظت خود کریں جو قابل افسوس ہے۔جس کے قصیدے گائے جارہے ہیں چار دنوں میں اس سے ایک مجرم تو پکڑا نہیں گیا ہے۔ مشاہد اللہ نے کہا حکومتی ارکان کا قصور نہیں ان کو جو لکھ کر دیا جاتا ہے یہاں آکر پڑھ دیتے ہیں آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ آپ کی ایجنسیاں غلط ہیں یا آپ کا چہتا افسر،انہوں نے کہا قوم حالت جنگ میں جبکہ حکومت حالت بھنگ میں ہے۔ جس پر حکومتی ارکان نے کہا ایسی باتیں نہ کریں تو انہوں نے کہا کیسی باتیں کروں حوروں والی یا بھنگ والی یا پھر جرمنی اور جاپان کو ملا دوں ۔ پورے ملک میں صف ماتم بچھی ہے اور حکومت سی سی پی او کو بچانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا اللہ کی لاٹھی آپ پر پڑنے والی ہے اور اسی افسر کے ہاتھوں آپ کو جوتے پڑیں گے۔ اعظم سواتی کا خطاب کافی جذباتی تھا۔ انہوں نے کہا ہمارے ملک میں بااثر مجرمان کو سزائیں نہیں ملتیںہم نے اس واقع کو پاکستان کی تاریخ کاآخری واقع بنانا ہے۔ عدالتوں پرپابندی ہونی چاہیے کہ وہ ایک ماہ میں ان کیسوں کا فیصلہ کریں۔ انہوںنے بھی اسلامی سزائوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا یہ سزائیں سرعام ہونی چاہیں یہ سزائیں سخت ضرور ہیں لیکن اس سے معاشرے کی اصلاح ہوگی اور مظلومین کے زخموں پر مرہم آئے گا۔ عثمان کاکٹر نے کہا یہ اس خاتون کا نہیں حکومت اور اخلاقیات کا ریپ ہوا ہے۔ پولیس کو درست کرنا ہے تو سپاہی سے نہیں افسران سے اس کا آغاز کریں۔کبیر محمد شاہی نے کہا جب تک آئین اور دستور پر عمل نہیں ہوگا ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔
اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے بڑی سرجری کی ضرورت پر زور دیا اور کہا سی پی او کے بیان سے بہت غلط پیغام گیاان سے استعفیٰ لیا جائے جبکہ حکومتی اراکین نے استعفیٰ کا مطالبہ غیر ضروری قراردیا کچھ حکومتی ارکا ن نے ان کے بیان کی مذمت کی لیکن کارکردگی کے حوالے سے ان کو ایک بہادر افسر قراردیا۔مسلم لیگ ن کے ارکان کا کہنا تھا کہ آپ نے اس افسر سے کوئی انتقامی کاروائی کرانی ہے اس لئے اس کا تحفظ کر رہے ہیں لیکن یہ کام کسی اور سے بھی لے سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حاکم وقت اس سوچ کے خلا ف دیوار نہ بنا تو اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہاکہ یہ ادارے پاکستان کے عوام کے مفاد کو پیش نظر رکھنے کیلئے وجود میں آتے ہیں ان کا کام پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرنا ہے اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی کررہے ہیں انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے عوام کا تحفظ کرنے والے اداروں کو کمزور کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ کے گھر میں آکر کوئی آپ کی ماں بہن کی عزت لوٹ رہا ہو اور آپ کہیں کہ میں پہلے کھانا کھا لوں یا جوتے
پالش کر لوں انہوں نے گلہ کیا کہ جناب چئیرمین آپ کو تمام رولز معطل کر کے اس معاملے پر بات کرنا چاہیے تھی۔انہوںنے کہاکہ مجھے دکھ ہوا ہے کہ ایوان میں اس کو اہمیت نہیں دی جارہی ہے انہوںنے کہاکہ جن کو ان مجرموں کو گرفتارکرنا چاہیے تھا وہ کہتے ہیں کہ اس عورت کو گھر سے نہیں نکلنا چاہیے تھا انہوں نے کہاکہ اگر ایسے سوچ والے افسروں کا احتساب نہ کیا جائے تو ہم قوم کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جس آفیسر نے مجرموں کو گرفتار کرنے بجائے
مظلوموں کی طرف انگلی اٹھائی ہے اس کو برطرف کیا جائے ۔سینیٹرآصف کرمانی نے کہاکہ کاش آج ایوان کی کاروائی کو معطل کرکے اس مسئلے پر بات کی جاتی تو بہتر ہوتا۔ انہوںنے کہاکہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ اپنے دائیں بائیں لوگوں کو بیٹھا کر میڈیا کو بتاتا ہے کہ ملزم عابد اپنی بیوی کو لیکر فرار ہوا ہے اور آج پتہ چلتا ہے کہ ملزم کی بیوی اور والد پولیس کی حراست میں ہے انہوں نے کہاکہ ریاست کو ماں کا درجہ حاصل ہے آج ملک میں اتنے بڑے سانحے کے باوجود کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا ہے اور ایک بدنام زمانہ کرپٹ سی سی پی او کو بٹھایا ہوا ہے جو کہتا ہے کہ خاتون اکیلی گھر سے کیوں نکلی ہے انہوںنے کہاکہ حکومت نے اپوزیشن کو دبانے کیلئے پنجاب میں عمر شیخ کی صورت میں نوری نت کو بٹھایا گیا ہے ہمیں سی سی پی او کی معافی قبول نہیں ہے ہمیں اس کا استعفی چاہیے آج پورا ملک اس کے خلاف سرپا احتجاج ہے مگر حکومت خاموش ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو میجر سرجری کی آڑ میں کوئی طالع آزما بھی ملک پر مسلط ہو سکتا ہے۔
بشکریہ:نوائے وقت




