ڈپٹی سپیکر نے مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت کی جانب سے لکھے گئے ایک خط کی بنیاد پرچودھری پرویزالہٰی سمیت مسلم لیگ ق کے دس ووٹ مسترد کر دئیے

لاہور:پنجاب اسمبلی میں وزیرا علیٰ پنجاب کے انتخابات کے لئے ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اپنی وزارت اعلیٰ بچانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار پرویز الہی سمیت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے تمام 10 ووٹ مسترد کردئیے جس کے بعد حمزہ شہباز ووٹوں کی برتری کی بدولت بدستور وزیراعلی پنجاب رہیں گے جہاں مسلم لیگ (ن) کو 179 ووٹ پڑے جبکہ 10 ووٹ مسترد ہونے کے بعد پرویز الہی کو 176 ووٹ ملے۔
ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے ووٹوں کی گنتی کے بعد ایوان کو بتایا کہ مجھے چوہدری شجاعت کی طرف سے خط موصول ہوا ہے۔دوست محمد مزاری نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا خط پڑھتے ہوئے کہا کہ پارٹی سربراہ کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کے تمام اراکین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وزیراعلی پنجاب کے لیے ووٹنگ جو 22 جولائی کو شیڈول ہے پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے تمام اراکین صوبائی اسمبلی کو احکامات دے رہا ہوں وہ حمزہ شہباز شریف کے حق میں ووٹ دیں۔انہوں نے کہا کہ اس خط کی کاپی پارٹی کے تمام اراکان کو بھیجی گئی ہے۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اس خط کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت جتنے بھی پاکستان مسلم لیگ(ق) کے ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں وہ مسترد ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حافظ عمار یاسر، شجاع نواز، محمد عبداللہ وڑائچ، پرویز الہی، محمد رضوان، سجاد ساجد احمد خان، احسان اللہ چوہدری، محمد افضل، بسمہ چوہدری اور خدیجہ عمر وہ اراکین ہیں جن کے ووٹ شمار نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کے 10 ووٹ مسترد ہوتے ہیں اور یہ 10 ووٹ ختم ہوگئے ہیں۔
وزیراعلی پنجاب کے انتخاب کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار پرویز الہی کو 186 ملے تھے لیکن 10 ووٹ مسترد ہونے کے بعد ان کے 176 ووٹ رہ گئے جبکہ حمزہ شہباز کو 179 ووٹ ملے اور یوں انہیں 3 ووٹوں کی برتری حاصل رہی۔
ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے رکن راجا بشارت نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ میں 63 اے کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ ووٹ کی ہدایت دینے کے لیے کس کو حق حاصل ہے۔راجا بشارت کے سوال پر ڈپٹی اسپیکر نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق پارٹی کے سربراہ کو حق حاصل ہے، اور اس پر راجا بشارت نے کہا کہ پارلیمانی لیڈر کو حق حاصل ہے اور آئینی شق پڑھ کر سنائی۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے سربراہ چوہدری ساجد ہیں اور حکم انہوں نے دینا تھا تاہم ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ عدالت کا حکم پڑھیں لیکن راجا بشارت نے کہا کہ کل مسلم لیگ(ق) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے فیصلہ کیا ووٹ چوہدری پرویز الہی کو دیا جائے گا۔اسپیکر کو مخاطب کرکے ان کا کہنا تھا کہ اب آپ کے فیصلے کے مطابق امیدوار کی حیثیت ختم کر رہے ہیں اور چوہدری پرویز الہی خود اپنے آپ کو ووٹ نہیں دے سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کو اختیار حاصل نہیں ہے تاہم ڈپٹی اسپیکر نے کہا اس خط کے مطابق میں نے چوہدری شجاعت سے فون پر پوچھا تو انہوں نے 3 مرتبہ کہا صحیح ہے اور انہوں نے پارٹی کے سربراہ کے طور پر یہ خط لکھا ہے۔ڈپٹی اسپیکر نے اس کے بعد اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا۔
جیو نیوز سے منسلک معروف صحافی حامد میر نے پاکستان مسلم لیگ(ق) کے رہنما مونس الہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین نے پرویز الہی کے بطور پی ٹی آئی امیدوار حمایت کرنے سے انکار کیا۔مونس الہی نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ(ق) اور پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں متفقہ طور پر اتفاق کیا گیا تھا کہ پرویز الہی ان کے امیدوار ہوں گے۔
تاہم پنجاب اسمبلی میں موجود چوہدری پرویز الہی سمیت پاکستان مسلم لیگ(ق) کے اراکین نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
معاملہ عدالت میں جانے کا امکان ہے، سابق اٹارنی جنرل
سابق اٹارنی جنرل اور قانونی ماہر انور منصور خان نے چوہدری شجاعت کی جانب سے مبینہ خط کے تناظر میں اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی پارلیمانی پارٹی ووٹنگ میں گئی اور اگر ان کے پاس کوئی واضح ہدایات موجود نہیں تو پھر قانون سازوں کے پاس انتخاب کرنے کا حق ہوگا جس کے بعد پارلیمانی لیڈر کی ہدایات بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
تاخیر پر ڈپٹی اسپیکر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے، فواد چوہدری
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اجلاس میں تاخیر پر تنقید کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر کو خبردار کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ ‘صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں غیر ضروری تاخیر سپریم کورٹ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی ہے، وکلا کو توہین عدالت کی کارروائی کے لیے کہہ دیا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اب سے کچھ دیر بعد ڈپٹی اسپیکر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی جارہی ہے’۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اراکین صوبائی اسمبلی صبا صادق اور عظمی قادری کووڈ-19 سے متاثرہ ہونے کی وجہ سے پرسنل پروٹیکٹیو ایکوپمنٹ (پی پی ای) کے ساتھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آئیں۔دونوں اراکین کورونا کٹس میں ملبوس ہو کر پہنچیں تو ان کے ساتھ صحت کا عملہ بھی موجود تھا۔


