
اس مرتبہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے رات جب تقریباً ساڑھے دس بجے عید کے چاند نظر آنے کا اعلان کیا تو عوام کی اکثریت نماز تروایح ادا کر کے اگلے دن کے روزے کی نیت کر چکی تھی، آج کل چونکہ جزوی لاک ڈائون کے باعث مارکیٹیں اور بازار شام پانچ بجے اور بعض شہروں میں رات دس بجے تک بند ہورہے ہیں، اس لیے مجھ جیسے سست رو جو عید کی شاپنگ آخری وقت تک موخر رکھتے ہیں ، ان کے لیے یہ صورت حال غیر متوقع اور ہنگامی تھی ، نتیجہ یہ نکلا کہ جہاں جہاں دکانیں کھلی تھی وہاں اتنا رش پڑا کہ ایس او پیز جیسی نازک جنس عوام کے پائوں تلے آکر کرچی کرچی ہوگئی۔۔ ویسے بھی حکومت نے گزشتہ ایک ماہ سے کرونا وائرس کے حوالے سے جو مبہم اور غیر یقینی صورتحال بنا رکھی ہے اس سے عوام بہت ذیادہ غیر محتاط ہوگئے ہیں حالانکہ گزشتہ کچھ روز سے پاکستان میں کرونا سے جاں بحق افراد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ، تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کرونا سے متاثر ہونے والے ان 25ممالک میں شامل ہوچکا ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے اوپر ہوچکی ہے ، اسکا مطلب کہ صورت حال بہتر ہونے کی بجائے بگڑ رہی ہے ، لیکن حکومت اور عوام دونوں غیر سنجیدہ لگ رہے ہیں۔
خیر بات ہو رہی تھی عید کے چاند کی تو اس مرتبہ اچھی خبر یہ تھی کہ پہلی بار پورے پاکستان کیساتھ گلف اور یورپ امریکا میں بھی بیشتر مسلمانوں نے ایک ہی روز عید منائی،حتی کا خیبرپختونخواہ میں بھی عید اتوار کے روز ہی منائی گئی کیونکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان سے ایک روز بیشتر پشاور کی مسجد قاسم علی خان کی غیر سرکاری کمیٹی نے بھی چاند نظر نہ آنے کا اعلان کردیا تھا ، البتہ خیبرپختون خوا والوں نے چونکہ روزہ ایک روز قبل رکھا تھا اس لیے انھوں نے 30 اور باقی پاکستان نے 29 روزوں کے بعد عید منائی ، اب یا تو باقی پاکستان ایک روزہ کھا گیا ہے یا پھر مفتی پوپلزئی نے خیبر پختونخوا کے عوام سے ایک روزہ اضافی رکھوا لیا ہے ، دونوں باتوں میں سے ایک بات تو ضرور ہے ورنہ ایک ہی ملک میں دو دو چاند کیسے ہو سکتے ہیں ؟
یورپ ،امریکا اور وہ تمام ممالک جہاں غیر مسلم حکومتیں ہیں ، وہاں چونکہ چاند کی رویت کے لیے کوئی سرکاری اہتمام نہیں اس لیے وہاں کے مسلمانوں کا سعودی عرب کیساتھ روزہ رکھنا اور عید منانا انکی مجبوری ہے البتہ ٹائم زون اور دن رات کا فرق انکو سعودی عرب کیساتھ سحر و افطار کی اجازت پھر بھی نہیں دیتا ، اب جو لوگ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں رہنے کے باوجود سعودی عرب کیساتھ رمضان اور عید منانے کا شوق رکھتے ہیں وہ سحر و افطار بھی پھر سعودی عرب کیساتھ ہی کر لیا کریں۔۔
مزے کی بات یہ ہے کہ اکثر رویت ہلال کا مسئلہ رمضان اور عید الفطر پر ہی پیدا ہوتا ہے ، عید قربان اور سال کے باقی مہینوں میں نہ یہ صورت حال پیش آتی ہے نہ ہی یہ غیر سرکاری کمیٹی کہیں نظر آتی ہے، حیرت اس بات پر ہے کہ جب فوج کے ہوتے ملک میں پرائیویٹ ملایشیا اور نجی لشکروں کی اجازت نہیں تو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے ہوتے ایسی نجی کمیٹیوں کو کیوں کھلی چھوٹ دی گئی ہے ؟ اگر بندوق اٹھا کر یا خود کش جیکٹس پہن کر سیکورٹی فورسز اور سرکاری املاک پر حملہ کرنے والے دہشتگرد اور قابل سزا ہیں تو عید اور دیگر تہواروں پر قوم کو تقسیم کرنے والے اور قومی ہم آہنگی کو پارہ پارہ کرنے والے کون ہیں؟ جب پیمرا کے ایک نوٹس پر سیاسی قیادت کی میڈیا کوریج رک سکتی ہے تو مفتی پوپلزئی جیسوں کو کیوں میڈیا پر آکر قوم کو سرعام تقیسم کرنے کا موقع دیا جاتا ہے؟
کیا یہ سلسلہ قومی وحدت و سلامتی کے منافی نہیں ؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر کئی سالوں سے اس تقسیم کا بیج کیوں بویا جا رہا ہے؟
رویت ہلال کے مسئلے پر پہلے دو فریق ہوا کرتے تھے ،مفتی منیب اور مفتی پوپلزئی ۔۔ اب خیر سے فواد چوہدری بھی شامل ہوگئے ہیں، یعنی۔۔۔
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ۔۔
دنیا میں سیکنڑوں، ہزاروں سال مذہب اور سائنس ایک دوسرے سے فاصلے پر رہے ، مسلمان سائنسدانوں کو تو خاص طور پر مذہبی استحصال کا سامنا کرنا پڑا اور اپنی سائنسی فکر اور ایجادات پر کفر کے فتووں کے ساتھ سزائیں بھی پانا پڑیں ، گزشتہ نصف صدی سے مگر ہمارے ہاں ڈاکٹر طاہر القادری ، جاوید غامدی، بھارت میں ذاکر نائیک اور مولانا وحید الدین اور اس قبیل کے دیگر صاحب بصیرت علماء کی بدولت مذہب اور سائنس میں ایک موافقت پیدا ہوتی نظر آئی ہے، ان علماء کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی فکر کی بدولت مذہب اور سائنس میں موجود دوری کو نہ صرف ختم کیا بلکہ کئی معاملات میں سائنس کو مذہب کے تابع بھی ثابت کردیا ، ان کی تعلیمات اور فہم دین کو جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق پیش کرنے کی جدوجہد کا نتیجہ ہی ہے کہ آج علماء کی ایک کثیر تعداد سائنس کو مذہب کیخلاف سمجھنے کی سوچ اور نظریہ سے رجوع کر چکی ہے تاہم محترم فواد چوہدری صاحب نے ایک بار پھر اپنے غلط طریقہ ابلاغ کی بدولت علماء کو صرف اپنے ہی نہیں سائنس اور سائنسی فکر کے بھی خلاف کھڑا کردیا ہے ، رویت ہلال سے متعلق ان کی سائنسی سوچ اور اس مسئلے پر سائنٹیفک طریقہ کار اپنانا بالکل درست ہوسکتا ہے لیکن محترم وزیر صاحب کا اپنا ما فی الضمیر بیان کرنے کا طریقہ کار بالکل مناسب نہیں ، اپنی پریس کانفرنسز اور نجی محافل میں وہ علماء کا ٹھٹہ اڑاتے نظر آتے ہیں ، انکے اس رویے کی ہی بدولت علماء بھی اشتعال میں آجاتے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ سائنس اور مذہب ایک بار پھر ایک دوسرے کیخلاف صف آرا ہیں ۔۔



