ہائوسنگ اتھارٹی کی کھلی کچہری،اہلیان علاقہ اتھارٹی کی ناقص اور انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف پھٹ پڑے

2022 ء میں 2005 ء کا معاوضہ کیوں لیں، گوگل نان گوگل کا موجودہ ریٹ پر ایوارڈ کریںیا ڈورن حملہ کر کے سب کو مار دیں
جب غیر قانونی مکانات بن رہے تھے تو اتھارٹی کہاں تھی ،2005 ء میں زمین کے معاوضے کے ساتھ ہی مکانات کا معاوضہ کیوں نہ دیا گیا
ایک گھر میں چار چار نمبر کیسے لگ گئے اہلیاں علاقہ کے شدید احتجاج پر کھلی کچہری آمدن ،گفتن ، نشستن برخاستن ثابت ہوئی
میجر نوادت ، واجد گیلانی اور رفاقت شاہ کا اور دیگر کا دبنگ خطاب،اہل علاقہ ہائوسنگ اتھارٹی کا کوئی عذر ماننے کو تیار نہیں


اسلام آباد:سیکٹر ڈھوک کھوکھراں ، سادات کالونی میں سیکٹر G/14/1 کے متاثرین کے سامنے ہائوسنگ اتھارٹی کی کھلی کچہری آمدن ، گفتن ، نشستن ، برخاستن ثابت ہوئی ۔ سب سے پہلے تو اہلیاں علاقہ اس بات پر سخت نالاں تھے کہ شدید گرمی میں ہائوسنگ اتھارٹی کے ذمہ داران مقررہ وقت سے دو گھنٹے تاخیر سے موقع پر پہنچے ۔جس پر شدید گرمی میں انتظار کرتے متاثرین کا پارہ ہائی ہو گیا۔
اس موقع پر میجر نوادت، واجد گیلانی ، رفاقت شاہ اور دیگر مقررین نے سخت الفاظ میں ہائوسنگ اتھارٹی کی انسان دشمن اور عوام دشمن پارلیسیوں کی مذمت کی ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ آپ کا عملہ کرپٹ ہے اتھارٹی کی پالیسیاں غریب دشمن ہیں جس سے عام آدمی متاثر ہورہا ہے اور آپ کے کام میںبھی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ متاثرین کسی صورت 2022 ء میں 2005 ء کا طے کردہ معاوضہ لینے کو تیار نہ تھے۔ ان کا موقف تھا کہ ہمیں موجودہ مہنگائی کے تناسب کو دیکھتے ہوئے معاوضہ ادا کیا جائے ایک بزرگ نے جذباتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے مطالبات تسلیم کریں یا ڈرون حملہ کر کے ہم سب کو مار دیں۔ میجر نوادت نے کہا کہ آپ نے 2005 ء میں مکانات کا معاوضہ کیوں نہ دیا اور 2005 ء میں قبضہ کیوں نہ لیا۔ جس وقت غیر قانونی مکانات بن رہے تھے ہائوسنگ کہاں سوئی ہوئی تھی۔ پورے ملک میں کبھی سی ڈی اے نے یا کسی دوسرے نے گوگل والا فارمولہ نہیں دیا۔آپ 2005 ء سے پہلے معاوضہ دے دیتے سترہ سال تاخیر کیوں کی انہوں نے کہا یہاں باتیں بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔جنہوں نے 2005 ء میں پیسے نہ لئے انہیں بھی موجودہ ریٹ کے مطابق زمینوں کا معاوضہ دیا جائے ۔
اس موقع پر ہائوسنگ کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ ہم نے صرف کورٹ کو بتانا ہے کہ کون کون سے مکانات 2005 سے پہلے کے بنے ہوئے ہیں اور کون سے بعد میں بنے ہیں ۔پھر جو فیصلہ عدالت کرے گی اس کے مطابق عمل کریں گے۔ بعد ازاں کھلی کچہری شور شرابے میں ختم ہوگئی۔