نئی حکومت کے آنے تک آرمی چیف کی تعیناتی موخر کی جائے ،عمران خان

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی کوئی بات نہیں کی تاہم یہ فوری انتخابات سے مشروط ہوسکتی ہے
گرفتاری کا کوئی خوف نہیں ہے، میں نے جیل میں پڑھنے کے لیے کتابیں بھی بیگ میں رکھ لی ہیںصحافیوں سے گفتگو


اسلام آباد: سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ نئی حکومت کے آنے تک آرمی چیف کی تعیناتی موخر کی جائے۔انہوں نے کہا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع فوری انتخابات کی تاریخ اور اعلان سے مشروط ہے ۔بنی گالہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ میں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی کوئی بات نہیں کی تاہم یہ فوری انتخابات سے مشروط ہوسکتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں نئے انتخابات کا اعلان کیا جائے اور نئی حکومت کے انتخاب تک آرمی چیف کی تعیناتی مخر کی جائے۔انہوں نے کہا کہ چند لوگوں نے اپنے مفادات کی خاطر ملکی سلامتی کو دائو پر لگایا ہوا ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ میں ان تمام لوگوں کے نام سب کو بتا دوں، میں نے ہمیشہ پاکستان کی بات کی اور جو ادارہ ملکی مفاد کے ساتھ کھڑا ہے میں اس کے ساتھ ہوں۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے تو میرٹ کی بات کی آج بھی کہتا ہوں میرٹ کے بغیر کوئی ادارہ نہیں چل سکتا، فوج اس لیے مضبوط ہے کہ میرٹ کا نظام بہتر ہے۔
عمران خان نے کہا کہ قوم کو آخری کال دینے کا معاملہ ستمبر سے آگے نہیں جائے گا، ان کو سمجھ نہیں آرہی کہ میرے ان سونگ یارکر کو کیسے کھیلیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اتنا کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر ہو لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اس پر آئی ایس پی آر نے کیوں بیان جاری کیا؟
عمران خان نے کہا کہ مسلسل 5 مہینے جلسے کرکے قوم کا ٹمپریچر چیک کر لیا ہے، بوائلنگ پوائنٹ سے بس ذرا ہی نیچے ہے، آج سب سے کہہ رہا ہوں یہ مجھے دیوار کے ساتھ لگا کر اسی طرف دھکیل رہے ہیں، جہاں میرے پاس کال دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا، مجھے گرفتاری کا کوئی خوف نہیں ہے، میں نے جیل میں پڑھنے کے لیے کتابیں بھی بیگ میں رکھ لی تھیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ الیکشن کو مارچ تک لے جانے کے بالکل حق میں نہیں ہوں، جو کوئی پاکستان کے مفاد کے خلاف جائے گا میں اسکے خلاف کھڑا ہوں گا، یہ لنگڑی لولی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے بغیر تو کچھ بھی نہیں، میں نہیں چاہتا اسٹیبلشمنٹ کی آڑ لے کر کوئی ملک کو نقصان پہنچائے، بہت ضروری ہے ججز کی تعیناتی بھی میرٹ پر ہو، عدلیہ کو ججز کی تعیناتی پر میرٹ پر مبنی میکنزم بنانا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں میرٹ کا کوئی نظام نہیں ہے، مریم نواز کا چوہدری نثار سے کیا مقابلہ ہے؟ چوہدری نثار کا سارا سیاسی تجربہ ایک طرف رہ گیا اور پارٹی مریم کے حوالے کردی گئی ۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پنجاب حکومت کے خلاف سازشیں شروع ہوگئیں ہیں، جو لوگ پنجاب حکومت گرانے کا سوچ رہے وہ ملک کے مخلص نہیں ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مخالفین بارے کہایہ میرے ہوتے میچ نہیں جیت سکتے اس لئے مائنس ون کی بات کر رہے ہیں
۔۔۔۔۔