عمران خان نے بالآخر حقیقی آزادی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا، آغاز ہفتے سے ہوگا

لند میں ایک سزا یافتہ شخص دوسرے سزا یافتہ شخص سے مشاورت کر رہا ہے کہ اگلا آرمی چیف کون ہوگا
سو شیروں کا لیڈر گیدڑ ہو تو وہ جیت نہیں سکتے اور اگر سو گیدڑوں کا لیڈر شیر ہو تو وہ جیت جاتے ہیں،عمران خان
یوتھیوں کو مبارک ہو ان کے لیڈر نے انہیں گیدڑ بنادیا ہے مسلم لیگ ن کے رہنماء سینٹر،پرویز رشید کا جوابی طنز


لاہور:سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے بالآخر حقیقی آزادی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے جس کا آغاز ہفتے سے ہوگا۔لاہور میں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب سے امپورٹڈ حکومت آئی ہے ملک دلدل میں جارہا ہے، آج عالمی مالیاتی ادارہ(آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کہہ رہا ہے پاکستان سری لنکا جیسی صورت حال میں جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکی حالات سماجی افراتفری کی طرف جارہے ہیں, ہفتے سے حقیقی آزادی تحریک شروع کر رہا ہوں۔انہوں نے وکلاء سے بھی کہا کہ وہ حقیقی آزادی کی تحریک میں ان کا ساتھ دیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف معیشت سکڑتی جا رہی ہے بے روزگاری برھتی جارہی ہے اور دوسری طرف مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے اور اس وقت ملکی تاریخ میں مہنگائی 50 سال کی بلندی پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر حالات سماجی افراتفری کی طرف جارہے ہیں، جب تک انصاف کا نظام ٹھیک نہیں ہوتا معیشت ٹھیک نہیں ہوگی، اس قوم کو قانون کی بالادستی کی ضرورت ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ جس کو سزا ہونی تھی وہ وزیراعظم بنا ہے اور لندن میں جاکر ایک سزا یافتہ شخص سے مشورہ کر رہے ہیں کہ پاکستان کا آرمی چیف کون ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ جو ملک کی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا عہدہ ہے، وہ ایک مفرور اور جھوٹ بول کر باہر جانے والے فیصلہ کریں گے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے سب سے اہم عہدے کے لیے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کے باوجود جو معیشت ٹھیک چل رہی تھی، اسے انہوں نے تباہ کردیا، آج بے روزگار بڑھ رہی ہے، 20 فیصد ٹیکسٹائل بند ہوگئی ہے اور کسان اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ٹیوب ویل اور کھادوں کے ریٹ آسمانوں پر ہیں، پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ بنا ہوا ہے لیکن انہوں نے آتے ہی نیب کا قانون ختم کردیا اور اب اپنے مقدمے ختم کر رہے ہیں۔
عمران خان نے وکلا سے کہا کہ میں اس تحریک میں نکل چکا ہوں، ہفتے سے یہ تحریک شروع ہوجائے گی اور جب کال دوں تو میرے ساتھ نکلنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوم سے کہہ رہا ہوں جو بھی آپ کو دھمکیاں دے، اس کو واپس دھمکی دو یہ کہتے ہوئے کہ میرا آئین میرے بنیادی حق اظہار آزادی کا تحفظ کرتا ہے۔
مخالف جماعتوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ الیکشن سے یہ بھاگ رہے ہیں، ان کو پتا ہے یہ الیکشن جیت نہیں سکتے اور پاکستانی قوم کہاں کھڑی ہے، اس لیے یہ سارے مل کر کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح کرسی پکڑ لیں ملک بے شک نیچے جائے۔ روپیہ 33 فیصد گرا ہے اور ملک کی دولت کم ہوئی ہے، یہاں لوگ غریب ہوئے ہیں۔
دو روز قبل چکوال میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کارکنوں سے کہا تھا کہ سب تیاری کرو، میری کال کے لیے تیار رہو، خواتین بھی اس جنگ میں شرکت کریں گی، جب میں آپ کو کال دوں گا تو سب نکلیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ دھمکیاں دینے کے لیے گم نام نمبر سے ٹیلی فون آتے ہیں، ان کو واپس دھمکیاں دو، جو ڈراتا ہے، اس کو واپس ڈرا، جو مسٹر ایکس اور وائی دھمکیاں دے رہے ہیں ان کو واپس دھمکیاں دو، یہ ہوتے کون ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر سو شیروں کا لیڈر گیدڑ ہو تو وہ جیت نہیں سکتے اور اگر سو گیدڑوں کا لیڈر شیر ہو تو وہ جیت جاتے ہیں۔
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنماء سینٹر پرویز رشید نے کہا کہ یوتھیوں کو مبارک ہو ان کے لیڈر نے انہیں گیدڑ بنادیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔