فوری طور پر پالیسی اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان ذیابیطس کی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا۔ ڈاکٹر شازیہ سومر

کروناکی طرح زیابیطس پر کنٹرول کے لئے بھی جنگی بنیادوں پر عمل کرنا ہو گا۔ میجر جنرل (ر) مسعود الرحمان کیانی
ذیا بیطس کو کنٹرول نہ کیا گیا تو 20245تک پاکستان میں 62ملین لوگ زیابیطس کا شکار ہوجاہیں گے۔ ڈاکٹر عبدالباسط،


اسلام آباد۔ پاکستان میں ذیابیطس کا مرض خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ پاکستان ذیابیطس کے ساتھ زندہ رہنے والے لوگوں کا دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے اور جس شرح میں ذیابیطس بڑھ رہی ہے پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ تیزی سے زیابیطس پھیلنے والا ملک بن چکا ہے۔ صرف دو سالوں میں ذیابیطس کے ساتھ رہنے والے لوگوں کی تعداد ایک کروڑ 94لاکھ سے بڑھ کر 3 کروڑ 30لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ مزید ایک کروڑ لوگ ابتدائی درجے کی زیابیطس مین مبتلا ہیں۔ اگر کوئی فوری پالیسی اقدام نہیں اٹھایا گیا تو 2045 تک ذیابیطس کے شکار لوگوں کی تعداد بڑھ کر 62 ملین ہو جائے گی۔میٹھے مشروبات ذیابیطس پھلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومت ان کی کھپت کو کم کرنے کے لیے فوری پالیسی اقدامات کرے۔ یہ بات پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (PANAH) کے زیر اہتمام اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ ”Dissemination of International Diabetic Federation Atlas 2021” میں صحت، پالیسی اور معاشی ماہرین اور اراکین پارلیمنٹ نے کہی۔ تقریب میں اراکین پارلیمنٹ، ماہرین صحت، حکومتی نمائندوں، سول سوسائٹی اور میڈیا نے شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی PANAH کے جنرل سیکرٹری ثنا اللہ گھمن نے کی۔ مہمانوں میں پروفیسر ڈاکٹر باسط علی، سیکرٹری جنرل ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان، ڈاکٹر قیصر سجاد، صدر، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، میجر جنرل (ر) مسعود الرحمان کیانی، صدر PANAH، جناب منور حسین، کنسلٹنٹ گلوبل ہیلتھ ایڈووکیسی انکیوبیٹر، ساجدہ ذوالفقار، ایم این اے ڈاکٹر۔ شہزاد علی خان، وی سی، ہیلتھ سروسز اکیڈمی، کرنل ڈاکٹر شکیل احمد مرزا لیڈ ٹیکنیکل ایڈوائزر پناہ، ڈاکٹر مظہر قیوم، ماہر امراض چشم، سینیٹر سردار شفیق ترین، ایگزیکٹو ڈائریکٹر راولپنڈی انٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی، محترمہ ثروت طاہرہ حبیب، مشیر سیلز ٹیکس اینڈ ایکسائز ایف ٹی او،، سول سوسائٹی کے نمائندے، ماہرین صحت اور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندگان شامل تھے۔ تقریب کی مہمان خصوصی ڈاکٹر شازیہ اسلم سومر، پارلیمانی سیکریٹری براہ صحت تھیں۔مہمان خصوصی نے کہا کہ اپنے عوام کی صحت کی حفاظت کسی بھی حکومت کی اولین ترجیع ہوتی ہے۔ IDFکی رپورٹ ہم سب کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ حکومت پاکستانی عوام کی صحت ہو بچانے کے لیے ہر ممکن حد تک جائے گی۔ ۔ انہوں نے پناہ کی کاوشوں کی تعریف کی اور یقین دلایا کہ وہ دیگر ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر میٹھے مشروبات پر ٹیکسوں میں اضافے پر اسمبلی میں آواز اٹھائیں گی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل (ر) مسعود الرحمن کیا نی نے کہا کہ پاکستان میں این سی ڈیز میں حالیہ خطرناک اضافے کی ایک بڑی وجہ ہماری غیر صحت بخش خوراک کا انتخاب ہے۔ اگر حکومت فوری طور پر موثر پالیسی اقدامات نہیں کرتی ہے جیسے میٹھے مشروبات کی کھپت کو کم کرنے کے لیے ان پر بھاری ٹیکس لگانا تو ہمیں اپنی عوام کی صحت کے لیے ایک شدید چیلنج درپیش ہو گا۔ انہوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے میٹھے مشروبات کے استعمال کو کم کرنے کے لیے موثر پالیسی اقدامات کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالباسط، جنرل سیکرٹری، ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان نے IDF اٹلس 2021 کے پاکستان کے حوالے سے اعداد،شمار بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے زیابیطس کے مرض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر ہم نے جنگی بینادوں پر کام نہ کیا تو2045 تک 62ملین لوگ زیابیطس کا شکارہو جاہیں گے۔ جناب ثنا اللہ گھمن نے کہا کہ PANAH عوام سے لے کر قانون ساز اداروں تک ہر سطح پر عوام کی صحت کے لیے مصروف عمل ہے۔ مشروبات کی صنعت ہر قدم پر پالیسی سازوں کو گمراہ کر رہی ہے اور پالیسی کے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کی طرف سے پیش کردہ اتنا اہم ہیلتھ کنٹریبیوشن بل کابینہ میں التوا کا شکار ہے۔ مشروبات کی صنعت اپنے کارپوریٹ مفاد کی وجہ سے ہر قدم پر بل کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور وزیر صحت پاکستان سے درخواست کی کہ وہ زاتی دلچسپی لے کر اس لائف سیونگ ہیلتھ کنٹری بیوشن بل کی جلد سے جلد منظوری دیں۔ جناب کرنل شکیل احمد مرزا نے کہا کہ گر میٹھے مشروبات ذیابیطس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شوگر والے مشروبات کا باقاعدہ استعمال ٹائپ II ذیابیطس ہونے کے خطرے کو 30 فیصدتک بڑھا دیتاہے۔ دنیا کے 50 سے زیادہ ممالک نے پالیسی اقدامات کے ذریعے شکر والے مشروبات کے استعمال کو کامیابی سے کم کیا ہے اور ذیابیطس کو کنٹرول کیا ہے۔ منور حسین نے کہا کہ بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق، 2021 میں پاکستان میں ذیابیطس کے انتظام کی سالانہ لاگت 2640 ملین امریکی ڈالر تک بڑھ گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذیابیطس صحت عامہ اور معیشت کے لیے ایک شدید خطرہ ہے جسکی ایک بڑی وجہ میٹھے مشروبات ہیں جنکی روک تھام کے لیے ٹیکس میں اضافہ سب سے پہلا اور موثر ہتھیار ہے پاکستان میں ان پر ٹیکس خطے اور دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے کافی کم ہیں۔ حکومت کو ان پر ٹیکس بڑھا کر ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری پالیسی اقدامات کرنے چاہئیں اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو فوری طور پر کم از کم 30% تک بڑھانا چاہیے۔سینیٹر سردار شفیق ترین ن کہا کہ IDFکی رپورٹ کے مطابق پاکستان زیابیطس کی دلدل میں دھنستا چلاجا رہا ہے اور اب بھی اگر ہم نے حالات کی سنجیدگی کو محسوس نہ کیاتو اس کے انتہائی خطرناک نتائج برامد ہوں گے۔ ڈاکٹر مظہر قیوم نے کہا کہ زیابیطس دنیا میں اندھے پن کی سب سے بڑی وجہ ہے جس کو کنٹرول کر کہ ہم اندھے پن کو بھی کم کر سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔