چین، سنکیانگ کے خنجراب پاس کو دوبارہ کھولنے کے لیے خدمات کو اپ گریڈ بھی کیا گیا

سی پیک کے خلاف فارن فنڈڈ فتنے کی سازش ناکام ہوگئی پاکستان تجارت اور آمد و رفت بحال ہونے پر چین اور پاکستان کی قیادت کو مبارک باد، مریم نواز


ارمچی (شِنہوا) چین کے سنکیانگ میں درہ خنجراب دوبارہ کھولا گیا ہے جس میں کسٹمز نے کلیئرنس کی کارکردگی بڑھانے کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔زرعی اور غذائی مصنوعات کے لئے خصوصی کائونٹرز اور زرعی مصنوعات کے لئے سبز راستے قائم کئے گئے ہیں۔ موقع پر موجود عملہ کلیئرنس رہنمائی ، فوری معائنہ اور ریلیز کو یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔ بڑے پیمانے پر اجناس کی درآمد کو آسان بنانے کے لئے مختلف کاروباری اداروں کی صورتحال کے مطابق پالیسی نافذ کی جائے گی۔
کسٹمز نے اپنے ذہین نگران پلیٹ فارم کو بھی اپ گریڈ اور تبدیل کیا ہے تاکہ مینوئل کام کو کم کرتے ہوئے کلیئرنس کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکے۔اس سے "پری ڈیکلریشن” اور "دو مراحل ڈیکلریشن ” جیسے ڈیکلریشن ماڈلز کی تشہیر اور فروغ میں بھی اضافہ ہوگا۔
کسٹمز کے ڈپٹی ڈائریکٹر لی جنگ لونگ نے کہا ہے کہ چین نے نوول کرونا وائرس بارے اقدامات کو کم کرکے دوسرے درجے کی متعدی بیماریوں کی روک تھام کے اقدامات میں تبدیل کردیا ہے جبکہ کاشغر خود کو شاہراہ ریشم اقتصادی راستے کے مرکزی علاقے کے ایک اہم مرکز میں تبدیل کررہا ہے۔ ان تمام سازگار عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے درہ خنجراب پر مال برداری حجم میں رواں سال نمایاں اضافہ متوقع ہے۔سنکیانگ کی غیرملکی تجارت 2022 کے دوران نوول کرونا وائرس وبا اور مغربی جبر کے باوجود بڑھی تھی۔ درہ خنجراب کسٹمز نے سال بھر میں 22 ہزار 600 ٹن درآمدی اور برآمدی سامان نمٹایا جو گزشتہ برس کی نسبت 358.9 فیصد زائد ہے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ایک اہم گیٹ وے کے طور پراس بندرگاہ سے 2016۔2020 کے دوران 2 لاکھ ٹن سے زائد درآمدی اور برآمدی سامان گزرا ہے۔
دوسری طرف مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر مریم نواز نے 3 سال بعد چین پاکستان تجارت اور آمد و رفت بحال ہونے پر چین اور پاکستان کی قیادت کو مبارک باد دی۔
مریم نواز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ’ فارن فنڈڈ ایجنٹ نے سی پیک اور چین کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں میں کرپشن کے بے بنیاد الزامات لگائے تھے ،سی پیک کے خلاف فارن فنڈڈ فتنے کی سازش ناکام بنادی ، الحمداللہ’۔
دونوں ممالک کے عوام کو مبارک باد کے پیغام میں مریم نواز نے کہا کہ چین پاکستان تعلقات قومی سلامتی کی سرخ لکیر ہیں،ن لیگ کے دور کی رفتار سے سی پیک اور پاک چین تجارت جاری رہتی تو آج عوام بدحال نہ ہوتے،پی ٹی آئی نے پاک چین تجارتی سرگرمیوں اور سی پیک کی رفتار متاثر کی۔ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں بندش کے بعد اب 2023 میں خنجراب پاس کا دوبارہ کھلنا بڑی خوشی کی خبر ہے ، نومبر 2016 سے سی پیک فریم ورک کے تحت یہ ارینجمنٹ بہترین جا رہا تھا جسے نومبر 2019 میں بند کر دیا گیا۔
مریم نے کہا کہ خنجراب پاس دوبارہ کھلنے سے دونوں طرف کے عوام کی مشکلات ختم کرنے میں مدد ملیگی، وزیراعظم شہباز شریف اور صدر شی جن پنگ پاک چین آہنی بھائی چارے کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان تین سال کی بندش کے بعد خنجراب پاس راہداری کھلنے سے تجارتی اور سفری سہولیات دوبارہ بحال ہو گئی ہیں۔