9 مئی کے آفٹر شاکس ،پی ٹی آئی سنبھل نہ سکی ، وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری

عمران خان کو اندازہ نہیں تھا کہ نو مئی کی وکٹ اس قدر خراب ہے ورنہ وہ ٹاس جیت کر کبھی پہلے بیٹنگ کا فیصلہ نہ کرتے
26 سالہ جدوجہد کے نتیجے میں بننے والی پارٹی چھ دنوں میں کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ،یہ ایک سوالیہ نشان ہے
عمران خان کا یہ کہنا کہ دبائو کے ذریعے پارٹی چھڑوائی جارہی ہے اس کا ثبوت ہے کہ ان کی پارٹی میں آمد بھی کسی دبائو کا نتیجہ تھی
فصلی بٹیرے جس تیزی سے پارٹی میں آئے تھے ان کی واپسی اس سے بھی زیادہ تیزی سے جاری ہے
پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ پر حملہ تو قابل قبول تھا لیکن لاڈلے بچھڑے نے بپھرے بیل کو اپنا باپ سمجھ کر ٹکر ماردی
لاڈلہ تو اب بھی لاڈلہ ہے لیکن اب اس کا لاڈ اٹھانے کے لئے صرف عدلیہ ہی اپنا کندھا دے رہی ہے
عمران خان کو گلہ بھی آرمی چیف سے ہے اور وہ سیاستدانوں کی بجائے مذاکرات بھی آرمی چیف سے ہی چاہتے ہیں
آج بھی کئی وکٹیں گری ہیں شیری مزاری نے تو صرف پارٹی چھوڑی جبکہ چوہان نے پارٹی اور قائد کا کچا چٹھا بھی کھول دیا

عمران اس پوزیشن میں ہیں کہ پرانے اور نظریاتی کارکنوں کو اکٹھا کر کے حقیقی عوامی جماعت بنا سکتے ہیں،لیکن اس کے لئے انہیں سیاستدان بن کر سوچنا ہوگا کھلاڑی بن کر نہیں

اسلام آباد:(تجزیہ :محمد رضوان ملک)پاکستان تحریک انصاف کے قائد کا دعویٰ تھا کہ یہ پارٹی ایک نظریاتی جماعت ہے اور وہ کوئی ایک دن میں نہیں بنی بلکہ اس کے پیچھے ان کی 26 سالہ جدوجہد ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو پارٹی 26 سالہ سیاسی جدوجہد کے نتیجے میںاس مقام پر پہنچی تھی وہ 6 دنوں میں کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ۔پی ٹی آئی کو جو ریورس گئیر لگ گیا ہے اس سے تو نہیں لگتا کہ یہ جماعت مزید 26 دن بھی گزار سکے گی۔
دوسری طر عمران خان کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ان کے لوگ پارٹی چھوڑ نہیں رہے بلکہ دبائو کے ذریعے ان سے پارٹی چھڑوائی جارہی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کی تربیت نہیں کر سکے اور وہ دبائو کے سامنے کھڑے ہوپاتے یا اس کا مقابلہ کر سکتے۔ان کے اس طرح جانے سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ان کی پارٹی میں آمد بھی کسی دبائو کا ہی نتیجہ تھی۔فصلی بٹیرے جس تیزی سے پارٹی میں آئے تھے ان کی واپسی اس سے بھی کہیں زیادہ تیزی سے ہورہی ہے۔ آج بھی پی ٹی آئی کی کئی وکٹیں گری ہیں جن میں ہر مشکل وقت میں کام آنے والے جلیل شرقپوری بھی شامل ہیں۔شیری مزاری نے تو صرف پارٹی چھوڑی جبکہ چوہان نے پارٹی اور قائد کا کچا چٹھا بھی کھول دیا۔
عمران خان کو اندازہ نہیں تھا کہ نو مئی کی وکٹ اس قدر خراب ہے ورنہ وہ ٹاس جیت کر کبھی پہلے بیٹنگ کا فیصلہ نہ کرتے لیکن اب تو غلط فیصلہ ہو گیا ہے اب کیا کیا جاسکتا ہے ،نو مئی کے آفٹر شاکس اس قدر تیز ہیں کہ کوشش کے باوجود پی ٹی آئی کی بیٹنگ لائن سنبھل ہی نہیں پارہی ۔اس مشکل صورت حال میں کپتان خود بھی بیٹنگ کرنے سے ہچکچارہے ہیں اگر انہوں نے مزید دیر کر دی تو پھر وکٹ پر ان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اب بھی وقت ہے کہ وہ سیاسی معاملے کو سیاستدان بن کر حل کریں کھلاڑی بن کر نہیں ۔کھلاڑی کبھی جیتتا اور کبھی ہار تا ہے لیکن سیاستدان کبھی نہیں ہارتا۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ عمران اب بھی مذاکرات آرمی چیف سے چاہتے ہیں سیاستدانوں سے نہیں ۔ایک طرف تو وہ آرمی چیف پر کھل کر تنقید بھی کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہ مذاکرات بھی آرمی چیف سے ہی چاہتے ہیں۔ یعنی بیمار ہوئے جس کے سبب اسی سے دوا چاہتے ہیں۔تاہم اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک طاقت کا منبہ اب بھی عوام نہیں بلکہ طاقتور حلقے ہیں۔حتیٰ کہ مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ سعد رفیق انہیں مذاکرت کی دعوت دے رہے ہیں لیکن وہ مذاکرات کے لئے آرمی چیف کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ آرمی چیف ان کی پارٹی ختم کرنا چاہتے ہیں۔
سابق وزیر اعظم نے انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے ایک دوسرے انٹرویو میں کہا کہ، میں سیاستدان ہوں،آرمی چیف، اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی سے بھی مذاکرات چاہتا ہوں، لیکن تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے اور مجھے خدشہ ہے یہاں بات کرنے کو کوئی ہے ہی نہیں۔ آرمی چیف کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ ہرصورت میری پارٹی ختم کردیں گے۔آخری چند دنوں میں یہ چیز سامنے آئی ہے۔تو پھر آپ کس سے بات کریں گے؟ وزیراعظم کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ یہ بس کٹھ پتلیاں ہیں۔اس کے باوجود مذاکرات کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ، ہاں، سیاستدان کو ہر وقت کسی کے بھی ساتھ مذاکرات کے لیے تیاررہنا چاہیے۔ کیوں کہ سیاستدان اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرتے ہیں نہ کہ بندوقوں کے ذریعے۔
انہوں نے کہا کہ ، آرمی چیف کے بیانات نے بدقسمتی سے اس معاملے کو ذاتی بنا دیا ہے۔ میں نے ان کیخلاف کوئی منفی بیان نہیں دیا، صرف یہ کہا تھا جب میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے اٹھایا گیا، اغوا کیا گیا، تو یہ پولیس نے نہیں آرمی نے کیا تھا۔ آرمی چیف کے حکم کے بغیرآرمی کوئی کام نہیں کر سکتی۔ میں نے صرف یہی کہا تھا کہ ان کی مرضی کے بغیر یہ نہیں ہوسکتا تھا، لیکن میں نے کوئی تضحیک آمیز بیان نہیں دیا۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ماضی میں وہ جس قدر دیدہ دلیری سے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ پر حملے کر تے رہے ہیں اس بار انہوں نے غلط جگہ ہاتھ ڈال دیا ہے ۔پی ٹی آئی کی مثال اسے لاڈلے بچھڑے کی ہے جس نے ایک بپھرے بیل کو اپنا باپ خیال کرتے ہوئے ٹکر مار دی ہے۔
پارٹی رہنمائوں کے اس تیزی سے پارٹی چھوڑنے پر تحریک انصاف حکومت کے اتحادی عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا تبصرہ کافی دلچسپ تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی چھوڑنے میں میراتھن ریس لگی ہے ،بزدل لوگ عدت بھی پوری نہیں کر ہے لوگ اس طرح پارٹی بدل رہے ہیں جیسے بلو کے گھر جارہے ہوں۔ انہوں نے کہا یہ جس پارٹی میں جائیں گے وہ پارٹی بھی ڈوب جائے گی۔ ہر دور میں ضرورت مندوں اور مفاد پرستوں کی پارٹی بنائی جاتی ہے۔ بکنے والوں کا جمعہ بازار لگا ہے۔
شیخ رشید نے سچ کہا کہ یہ لوگ عدت بھی پوری نہیں کررہے اور جس پارٹی میں جائیں گے وہ ڈوب جائے گی۔ سنا ہی اقتدار کے لئے عدت تو عمران خان نے بھی پوری نہیں کی تھی۔ کاش کے شیخ رشید یا عمران خان اس وقت سمجھ جاتے جب یہ لوگ ان کی پارٹی کو ڈبونے کیلئے اس میں آرہے تھے۔
بحرحال اس ساری صورت حال کے باوجود عمران خان کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی ہے اور وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ پرانے اور نظریاتی کارکنوں کو اکٹھا کر کے حقیقی عوامی جماعت بنا سکتے ہیں۔لیکن اس کے لئے انہیں سیاستدان بن کر سوچنا ہوگا کھلاڑی بن کر نہیں ۔