عثمان بزدار بھی گئے جس کے لئے خان نے سب کو چھوڑا اس نے بھی خان کو چھوڑ دیا
26 سال کی محنت رائیگاں ، عمران سیاسی ورکرز کی تربیت نہ کر سکے ،پنچھیوں کی اڑان کا سلسلہ جاری
تاحال اس بات کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے کہ کپتان کے ساتھ کھڑے کھلاڑیوں میں اخلاص ہے یا ان کے پاس کوئی متبادل نہیں
ابتدائی طور پر پنچھیوں کو جہانگیر ترین کی شاخ مہیا ء کی گئی ہے لیکن ماضی میں ترین کو خان سے دور کرنے والے اس ڈالی پر بیٹھنے میں ہچکچاہٹ کا شکا رہیں
حالات کا دیکھتے ہوئے خان نے بھی دانہ ڈال دیا جس نے شاہ صاحب کے پائوں میں بیڑیاں ڈال دی ہیں
اسلام آباد(تجزیہ:محمدرضوان ملک) پاکستان تحریک انصاف کی اٹھان جس تیزی سے ہوئی تھی اس کی تنزلی اس سے کہیں زیادہ تیزی سے ہورہی ہے اور آج کل یہ سوال صحافتی حلقوں میں زیر گردش ہے کہ اور کتنے پنچھے اڑ گئے اور کتنے اڑان بھرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ جانے والوں کو کون روک سکا ہے وہ تو جائیں گے اس وقت جو پنچھے تاحال تحریک انصاف کی شاخ پر بیٹھے ہیں اس کی وجہ پارٹی اور کپتان کے ساتھ اخلاص نہیں بلکہ فی الحال ان کے پاس کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔ جیسے ہی انہیں متبادل ملے گا وہ بھی پھر سے اڑ جائیں گے اور اس بات کا بھی امکان ہے کم ہے کہ آخر کو ہنس اکیلا ہے سدھارے
ذرائع کا بتانا ہے کہ پی ڈی ایم اور اس کے ساتھی اس وقت کوشش میں ہیں کہ پی ٹی آئی کی ڈال سے اڑنے والے پرندوں کو کوئی متبادل شاخ فراہم کی جائے جسے وہ تحریک انصاف سے زیادہ مضبوط اور مستقبل کے لئے زیادہ محفوظ تصور کرتے ہوئے اس پر بیٹھ جائیں ۔ اس کے لئے کوششیں جاری ہیں اور مختلف متبادل پر کام ہو رہا ہے جن میں سے جہانگیر ترین گروپ سامنے بھی آگیا ہے امید ہے کہ جیسے ہی جہانگیر ترین اور علیم خان کی کوئی نئی پارٹی سامنے آئے گی یا کوئی نیا گروپ بنے گا تو ڈال پر بیٹھے باقی پنچھے بھی اڑان بھرنے میں دیر نہیں کریں گے۔
ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ جہانگیر ترین کے پاس جانے یا ان سے ملاقات کرنے میں وہی لوگ ہچکچاہٹ کا شکا ر ہیں جنہوں نے ماضی میں جہانگیر ترین کو عمران خان سے دور کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔ ان کے لئے متبادل پلان پر کام جاری ہے۔
دوسری طرف عمران خان نے بھی حالات کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے باقی رہ جانیو الے پنچھیوں کو دانہ ڈال دیا ہے ان کے اس واضح اعلان نے کہ میرے بعد شاہ محمود قریشی پارٹی چلائیں گے شاہ صاحب کے پائوں میں بیڑیاں ڈال دی ہیں اب سوال یہ ہے کہ شاہ صاحب کیا کرامت دکھاتے ہیں کہ ان کی ڈالی کا وزن جہانگیر ترین کی ڈالی سے ہلکا نہ ہونے پائے ۔
حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ عثمان بزدار نے بھی سیاست چھوڑ دی ہے۔اسی کو حالات کی ستم ظریفی کہتے ہیں کہ جس کے لئے خان نے سب کو چھوڑ ا اس نے بھی خان کو چھوڑ دیا ۔جس پر پیپلز پارٹی کے منظور وسان نے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سیاست کی کب تھی جسے چھوڑ رہے ہیں ۔
اس ساری صورت حال میں خان صاحب کے لئے یہ سبق ہے کہ وہ اپنا اور پارٹی کا محاسبہ کریں کہ ان کی تربیت میں کہاں اور کیا کمی رہ گئی ہیں کہ ان کے ساتھی انہیں چھوڑ کر جارہے ہیں۔ کہیں انہوں نے 26 سال تک کارکنوں کو نعروں اور اپنی کرشماتی شخصیت کے سحر میں جکڑے رکھا اور ان کی تربیت پر کوئی توجہ نہ دی جس کی وجہ سے آج یہ حال ہے کہ پارٹی کے پاس ٹکٹ دینے کے لئے کھمبے ہی رہ گئے ہیں۔

