جہاز کے پیچھے آسمان پر نظر آنے والی سفید لکیریں

کیوں بنتی ہیں؟ کتنی بلندی پر بنتی ہیں ؟ماہرین نے سائنسی حقیقت بتادی
کونٹریلز دراصل ہوائی جہاز کے انجن میں ایندھن جلنے سے پیدا ہونے والے آبی بخارات ہوتے ہیں

اسلام آباد:اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب ایک ہوائی جہاز زیادہ بلندی پراڑ رہا ہوتا ہے تو اس کے پیچھے سفید لکیریں (برف کے ذرات ) بنتی جاتی ہیں جو ہوائی جہاز گزرنے کے بعد بھی کچھ دیر تک باقی رہتی ہیں۔یہ لکیریں بنتی تو سارے ہوائی جہازوں کے پیچھے ہیں لیکن یہ ہمیں نظرتب آتی ہیں جب جہاز 40 سے 45 ہزار فٹ کی بلندی پرپرواز کر رہا ہو اور درجہ حرارت منفی 55 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہو ۔ڈومیسٹک فلائیٹس جو 30 سے 35 ہزار فٹ کی بلندی پر ہوتی ہیں ان کے پیچھے کم بلندی کی وجہ سے یہ لائیں نظر نہیں آتیں ۔
روزمرہ سفر کے دوران جب کوئی ہوائی جہاز ہمارے سروں کے اوپر سے گزرتا ہے تو اکثر لوگ آسمان پر باقی رہ جانے والی سفید سیدھی لکیروں کو حیرت سے دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ آخر یہ بنتی کیسے ہیں؟ ماہرین کے مطابق ان لکیروں کو کونٹریلز (Contrails) کہا جاتا ہے۔ کونٹریلز دراصل ہوائی جہاز کے انجن میں ایندھن جلنے سے پیدا ہونے والے آبی بخارات ہوتے ہیں۔ جہاز جب فضا میں انتہائی بلندی پر پرواز کرتا ہے تو وہاں درجہ حرارت منفی 55 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہوتا ہے۔ ایسی شدید سردی میں انجن سے نکلنے والے آبی بخارات فورا برف کے ننھے ذرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو کہ آسمان میں سفیدی کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فضا میں نمی زیادہ ہو تو یہ سفید لکیریں زیادہ لمبے عرصے تک آسمان پر قائم رہتی ہیں اور جہاز کے گزر جانے کے بعد بھی واضح نظر آتی رہتی ہیں۔
دلچسپ طور پر کئی مرتبہ یہ لکیریں سفید کی بجائے ہلکے گلابی، نارنجی یا سنہری رنگوں میں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کی وجہ سورج کی روشنی کا زاویہ ہے جو ان برفانی ذرات پر پڑ کر مختلف رنگ منعکس کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق کونٹریلز کا موسم اور ماحولیاتی تحقیق میں بھی استعمال ہوتا ہے کیونکہ ان سے فضا میں نمی، ہوا کی رفتار اور آب و ہوا کی تبدیلیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔