جو جتنی بار وزیراعظم بنا وہ اتنی بار جیل گیا،نوازشریف تین بار وزیراعظم بنے اور تین بار جیل بھی گئے
اگر عمران ملک بدر کیا جاتاہے تو اہم بات یہ ہے کہ کیا کوئی اسلامی ملک ان کی میزبانی کے لئے تیار ہوگا

اسلام آباد: (تجزیہ :محمد رضوان ملک ) پاکستان میں بڑے حکومتی عہدوں پر فائض رہنے والوں کو گرفتار کیے جانے کی روایت نئی نہیں بلکہ سابق وزیراعظم عمران خان سے پہلے بھی سابق وزرائے اعظم کو حراست میں لے کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔
موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو تاریخ اپنے آپ کو دھرانے جارہی ہے۔عمران خان کی گرفتار ی تو یقینی ہے ۔یہ خبریں بھی ہیں کہ شائید ان کو ملک بدر کرتے ہوئے باہر بھیج دیا جائے لیکن یہ اس حوالے سے مشکل ہے کہ کوئی بھی اسلامی ملک ایسا نہیں ہے جو ان کو اپنے پاس رکھنے کیلئے راضی ہو ۔اگر وہ ملک بدری میں امریکہ یا انگلینڈ کا انتخاب کرتے ہیں تو لوگ سوال کریں گے نہ ان میں اور نوازشریف میں کیا فرق ہے اور پارٹی کا نظریہ بھی دفن ہو جائے گا۔
اگر ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بنتا ہے تو انہیں پھانسی بھی دی جاسکتی ہے کیونکہ ماضی میں ایک وزیراعظم کو پھانسی بھی دی جاچکی ہے حالانکہ ان کی عوام میں جڑیں بہت گہری تھیں اور وہ خود بھی یہ تصور نہیں کر رہے تھے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ۔ ان کے ساتھیوں اور کارکنوں نے ان کی اور پارٹی کی خاطر قربانیاں بھی دیں اور سختیاں بھی سہیں لیکن عمران کے کارکن تو کافی نازک مزاج ہیں اور پارٹی رہنمائوں کے آئے روز پارٹی سے لاتعلقی کے اعلانات سے بھی یہ واضح ہو گیا ہے کہ ان کی پارٹی پر گرپ بالکل نہیں ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ ماضی میں کون کون سے وزرائے اعظم جیل گئے ۔ ملکی تاریخ میں گرفتار کیے گئے وزرائے اعظم کو یا تو عہدے پر فائض ہونے سے پہلے یا بعد میں حراست میں لیا گیا۔ ان وزرائے اعظم کی فہرست میں یہ نام شامل ہیں:
حسین شہید سہروردی: پاکستان کی تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کرنے والے حسین شہید سہروردی ملکی تاریخ کے پہلے وزیرِ اعظم تھے جو گرفتار ہوئے، انہیں جنرل ایوب خان کی حکومت میں 30 جنوری 1962 کو گرفتار کر کے کراچی کی جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، انہیں 01 سال 10 ماہ بعد رہا کیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو: دوسرے سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے، جو ستمبر 1977میں قتل کے الزام میں گرفتار ہوئے، تقریبا ڈیڑھ سال بعد لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے سزائے موت پانے کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 4 اپریل 1979 کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔
بینظیر بھٹو: ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بینظیر دو مرتبہ پاکستان کی وزیرِ اعظم رہیں، اپنے والد کی پھانسی کے بعد سب سے پہلے چھ ماہ کے لیے جیل میں اور پھر 6 ماہ کے لیے اپنے گھر میں نظر بند رہیں، مارچ 1981 میں ضیا حکومت نے انہیں ایک بار پھر گرفتار کیا اور سکھر جیل میں رکھا، بینظیر بھٹو کو تین سال بعد 1984 میں رہا کیا گیا۔
نواز شریف: تین مرتبہ پاکستان کے وزیرِ اعظم رہنے والے نواز شریف بھی کئی دفعہ جیل گئے، پہلی دفعہ اکتوبر 1999 میں حکومت جانے کے بعد نواز شریف کو 425 دن اڈیالہ جیل میں رکھا گیا، 13 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں انہیں پاکستان واپس لوٹنے پر ایئرپورٹ سے گرفتار کر کے اڈیالہ جیل بھیجا گیا، جہاں انہیں دو ماہ رکھا گیا۔ دو ماہ گزارنے کے بعد عدالت نے ان کی سزا معطل کی مگر 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ ریفرنس میں انہیں دوبارہ گرفتار کرکے پہلے اڈیالہ پھر کوٹ لکھپت جیل بھیجا گیا، جہاں تقریبا 239 دن بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پر ان کی سزا کی معطلی کی اور قید سے رہا کیا۔
شاہد خاقان عباسی: 18جولائی 2019 کو نیب نے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی درآمد کیس میں گرفتار کیا اور اڈیالہ جیل بھیج دیا، انہوں نے 223 دن جیل میں گزارے اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت منظور ہونے پر رہا ہوئے۔
شہباز شریف: پاکستان کے 23ویں اور موجودہ وزیراعظم شہباز شریف بھی وزیراعظم بننے سے پہلے گرفتاری کا سامنا کرچکے ہیں۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے 28 ستمبر 2020 کو لاہور ہائیکورٹ کے احاطے سے شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت مسترد ہونے پر گرفتار کیا تھا۔ 7 ماہ بعد ضمانت ملنے کے بعد 23 اپریل 2021 کو وزیراعظم شہباز شریف کو کوٹ لکھپت سینٹرل جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔ عمران خان: پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان گرفتار ہونے والے وزرائے اعظم کی فہرست کی تازہ ترین مثال ہیں۔ عمران خان کو 9 مئی 2023 کو رینجرز کی مدد سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ نیب کے اعلامیے کے مطابق عمران خان کو القادر ٹرسٹ سکینڈل کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد احتساب عدالت اسلام آباد کی طرف سے عمران خان کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ بھی منظور کیا گیا لیکن سپریم کورٹ نے انہیں اگلے ہی روز رہا کر دیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی ان مقدمات میں بھی ضمانت قبول کر لی جو ابھی قائم ہی نہیں ہوئے تھے۔



