وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری اور مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے سمیت کئی امور زیر غور آئے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی پر فیصلہ نہ ہوسکا۔اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر پر اپوزیشن سے مل کر ہم آہنگی پیدا کرنے کی ہدایت کی۔ذرائع کے مطابق مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر کابینہ نے ذیلی کمیٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے ن لیگی نائب صدر کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔کابینہ اجلاس کے دوران اکثریتی ارکان نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کی تجویز دی اور ساتھ ہی کہا کہ وہ کسی دوسرے فورم سے رجوع کرنا چاہیں تو کوئی اعتراض نہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا تذکرہ بھی ہوا، کابینہ اراکین نے موقف رکھا کہ نواز شریف علاج کی غرض سے لندن گئے تھے مگر اب تک ان کا علاج ہی شروع نہیں ہوسکا ہے۔
کابینہ کے اجلاس میں ایل او سی کے قریب مقیم آبادی کےلیے ریلیف پیکیج کی منظوری دے دی گئی، انہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ریلیف دیا جائے گا۔
کابینہ نے فیڈرل لینڈ کمیشن کے سینئر ممبر، نیشنل کمیشن فار ہیومین رائٹس کی چیئرپرسن اور ممبران کی تقرری کی منظوری دی۔کابینہ نے نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی بھی منظوری دی۔



