مرتضی وہاب 173 ووٹ لے کر میئر کراچی منتخب، آرٹس کونسل کے باہر کارکنان میں تصادم، 8 زیر حراست

حافظ نعیم نے انتخابی عمل کو مسترد کر دیا، سندھ ہائی کورٹ نے جماعت اسلامی کے حکم امتناع کی درخواست بھی مسترد کردی

کراچی:پاکستان پیپلز پارٹی کے مرتضیٰ وہاب 173 ووٹ لے کر مئیر کراچی منتخب ہو گئے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل جماعت اسلامی کے حافظ نعیم نے 160 ووٹ حاصل کئے ۔تحریک انصاف فارورڈ بلا کے 33 ارکان اس دوران غیر حاضر رہے ، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم نے انتخابی عمل کو مسترد کر دیا۔انہوںنے مئیر کے انتخاب کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا لیکن عدالت نے بھی ان کی طرف سے حکم امتناع کی درخواست مسترد کر دی۔
میئر کراچی کے انتخاب کے بعد حریف سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان گھمسان کا تصادم ہوا جس میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔تصادم کے بعد 8 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولنگ کا عمل کچھ تاخیر کے ساتھ 11 بجے کے بعد شروع ہوا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیسکے مطابق پیپلز پارٹی کے بیرسٹر مرتضی وہاب کے انتخابات جیتنے کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد جھڑپیں شروع ہوئیں۔ریٹرننگ افسر (آر او) نذر عباس کے مطابق میئر کی نشست کے لیے مرتضی وہاب 173 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جب کہ جماعت اسلامی کے امیدوار نعیم الرحمن 160 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔نذر عباس نے صحافیوں کو بتایا کہ صبح 9 بجے ہاتھ اٹھا کر ووٹنگ کی گئی اور پھر رجسٹر میں تصدیق کی گئی، میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کے لیے یہ عمل چار مرتبہ کیا گیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے فردوس شمیم نقوی نے اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔
میئر کے انتخاب کے بعد آرٹس کونسل کے باہر جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کے درمیان گھمسان کا تصادم ہوا، اس دوران پولیس پر بھی پتھرا کیا گیا جبکہ گاڑیوں کے شیشے بھی توڑے گئے۔
صورتحال کشیدہ ہونے پر پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری طلب کی گئی، بعد ازاں پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس سے کارکنان منتشر ہوگئے۔سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی کے مطابق جماعت اسلامی کے کچھ حامیوں نے اپنے حریفوں کے خلاف نعرے بازی شروع کی جس کے نتیجے میں دونوں جماعتوں کے درمیان تصادم ہوا اور امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی۔سینئر پولیس افسر نے کہا کہ پولیس نے مشتعل حامیوں کے خلاف لاٹھی چارج کرکے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی، اس دوران جماعت اسلامی کے دو سے تین کارکن زخمی ہوئے۔ڈی آئی جی نے مزید کہا کہ دونوں جماعتوں کی قیادت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ایسی کوئی صورت حال پیدا نہیں کریں گے جس سے امن و امان کے حوالے سے مسائل پیدا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ آرٹس کونسل کی جانب جانے والی تمام سڑکوں کو اب کلیئر کر کے عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
سٹی کونسل میں پیپلز پارٹی کے 155 اور جماعت اسلامی کے ارکان کی تعداد 130 ہے جبکہ پی ٹی آئی 62، مسلم لیگ (ن) 14، جے یو آئی 4 اور تحریک لبیک کی ایک نشست ہے۔میئر کے انتخاب کے لیے پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ایف) جبکہ جماعت اسلامی کو پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل تھی۔اس طرح پیپلز پارٹی اور ان کے اتحادی ارکان کی تعداد 173 ہے جبکہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے مشترکہ اراکین 192 ہیں۔تاہم میئر کے انتخاب کے قبل اس وقت ڈرامائی صورتحال دیکھنے میں آئی جب پی ٹی آئی کے 30 منحرف یو سی چیئرمینز کے گروپ نے اسد امان کو اپنا پارلیمانی لیڈر نامزد کردیا۔پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی ہدایات اور چیئرمین کے بجائے پارلیمانی لیڈر کے فیصلے کو ترجیح دیں گے اور پارلیمانی لیڈر جسے کہے گا اسے ووٹ دیں گے، منع کرنے کی صورت میں ووٹ کاسٹ نہیں کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ حافظ نعیم الرحمن ناظم آباد سے الیکشن جیت کر سٹی کونسل پہنچے ہیں جبکہ مرتضی وہاب منتخب رکن نہیں ہیں، جنہیں میئر منتخب کرانے کے لیے پیپلز پارٹی نے بلدیاتی قانون میں ترمیم بھی کی تھی۔مذکورہ ترمیم کے خلاف حافظ نعیم الرحمن نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت میئر کراچی کے الیکشن پر حکم امتناع جاری کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے مرتضی وہاب کو میئر کراچی اور سلمان عبداللہ مراد کو ڈپٹی میئر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک تاریخی کامیابی ملی ہے، یہ کامیابی پورے پاکستان کی فتح ہے، یہ کامیابی کراچی کے جیالوں کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کا ثمر ہے، ملک کے معاشی حب میں نفرت اور تقسیم کی سیاست اپنے منطقی انجام کو پہنچی، جمہوریت بہترین انتقام ہے۔انہوں نے کہاکہ شہرِ قائد کو حقیقی معنوں میں عروس البلاد بنائیں گے، کراچی اب ترقی، امن اور بھائی چارے کا گہوارہ بنے گا، کراچی کی ہر گلی، محلے اور علاقے کے بلدیاتی مسائل بلامتیاز حل کریں گے، مرتضیِ وہاب اور سلمان عبداللہ مراد سمیت پیپلز پارٹی کے تمام منتخب نمائندوں کے کندھوں پر اب بھاری ذمیداریاں ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے، ماضی میں کٹھن ترین حالات کا مقابلہ کرنے والے جیالے اب کی بار بھی سرخرو ہوں گے۔
سابق صدر نے مرتضی وہاب کو کراچی کا میئر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔انہوں سندھ میں تمام میئرز اور ڈپٹی میئرز، ڈسٹرکٹ کونسلز اور ٹان کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کو بھی مبارکباد دی۔آصف علی زرداری نے میئرز، ڈپٹی میئرز، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کو ہدایت کی کہ آج ہی سے اپنا کام شروع کریں۔
قبل ازیں میئر کے الیکشن کے لیے پولنگ اسٹیشن پہنچنے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے دعوی کیا تھا کہ میئر کے انتخاب میں جماعت اسلامی جیتی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ جماعت اسلامی کے 193 نمبرز اور پیپلز پارٹی اور ان کے اتحادی 173 نمبرز پر ہے۔حافظ نعیم کا مزید کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے چئیرمینز کو ووٹ ڈلوانے کے لیے حاضر نہیں کیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ پی ٹی آئی کے تمام نومنتخب چیئرمینز کو ووٹ ڈالنے کے لیے پیش کیا جائے۔
جماعت اسلامی نے چیف الیکشن کمشنر کے نام خط لکھا جس میں کہا کہ سندھ حکومت کے چاق و چوبند دستوں نے پی ٹی آئی کے 29 ارکان کو اغوا کرکے ووٹ ڈالنے سے روک دیا۔اس میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن اس فراڈ عمل کو کالعدم قرار دے اور نیا شیڈول جاری کرے، الیکشن کمیشن پاکستان کا بنیادی مقصد صاف و شفاف الیکشن کروانا ہے، الیکشن کمیشن انصاف و شفاف انتخابات کروانے میں مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پیپلز پارٹی شاید جیت گئی ہو لیکن جمہوریت ضرور ہار گئی ہے۔
صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ کراچی حیدرآباد کے شہریوں کو مبارکباد کہ پیپلز پارٹی نے سندھ بھر میں کلین سوئپ کرلیا، جو ہار گئے وہ اپنی شکست تسلیم کریں۔
میئر کراچی کے انتخاب کے بعد صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن نے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کی۔
شرجیل میمن نے دعوی کیا کہ کراچی پورے پاکستان میں بہترین طبی سہولیات دینے والا شہر ہے، اب نفرت ختم ہونی چاہیے، جماعت اسلامی کو چاہیے ساتھ مل کر ترقیاتی کاموں میں ساتھ دیں، افسوس جماعت اسلامی نے نتائج کے بعد جو افراتفری کی وہ قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے امن کا مظاہرہ کیا، ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ جماعت کی بسیں بھر کر غنڈے بلائے گئے جنہوں نے ہمارے کارکنان اور پولیس پر پتھرا کیا، جو ہار گئے وہ اپنی شکست تسلیم کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج جماعت نے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جماعت اسلامی والے واپس گھروں کو لوٹ جائیں، گڑ بڑ اور غنڈہ گردی کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم جماعت اسلامی کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں، آپ کو ہمارے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے، جن پی ٹی آئی اراکین نے جماعت کو ووٹ نہیں دیا انہوں نے پیپلزپارٹی کو بھی ووٹ نہیں دیا، اب جماعت الزام تراشیوں سے باہر آجائے۔اس موقع پر صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ ان کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، پیپلز پارٹی کے ایم سی میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے اور ٹی ایل پی نے بھی آج پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ میئر کراچی کے لیے کیا گیا، 30 افراد نے پی ٹی آئی کی طرز سیاست کی وجہ سے ووٹ نہیں دیا۔
سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ میئر کراچی کے انتخاب کے نتائج جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی درخواست پر ہوئے فیصلے سے مشروط ہوں گے۔ جاری کردہ تحریری حکم نامے میں عدالت نے قرار دیا کہ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ کے خلاف جماعت اسلامی کی درخواست منظور ہوئی تو براہ راست میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب کالعدم قرار دیا جائے گا۔عدالت نے کہا کہ درخواست منظور ہونے کی صورت میں میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب پرانے قانون کے تحت دوبارہ ہوگا۔
جسٹس یوسف سعید کی سربراہی میں عدالت عالیہ کے دو رکنی بینچ نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔حکم نامے میں قرار دیا گیا کہ میئر اور ڈپٹی میئر کے الیکشن کا شیڈول جاری ہونے کے بعد الیکشن ملتوی نہیں کیا جاسکتا، میئر کا الیکشن ملتوی کرنے سے متعلق جماعت اسلامی کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔