اردو کو دفتری ، تعلیمی اور عدالتی زبان بنانے سے ہی اکثریتی غریب و متوسط طبقے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے

اسلام آباد:متحدہ محاذ برائے نفاذ اردو پاکستان کے چئیرمین جاوید انتظار نے کہا ہے کہ نفاذ اردو کے قیام سے قومی ہنر زنگ آلود ہونے سے بچایا جا سکتا ہے اور ملک کے غالب اکثریتی غریب و متوسط طبقے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے . ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اردو کو دفتری، عدالتی اور تعلمی زبان بنانے کے مطالبے کا اب وقت ہے۔جبکہ قومی انتخابات کی اکتوبر نومبر میں باتیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے لاہور ،راولپنڈی اور اسلام آباد میں نفاذ اردو کی تنظیموں اور عہدیداران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نفاذ اردو کی تمام تحریکوں اور تنظیموں کو مشترکہ جدو جہد کی دعوت دے رہے ہیں۔جس پر اتفاق رائے قائم کرنے پر مشاورت ہو رہی ہے۔جلد گرئینڈ الائنس بنائیں گے۔

