*جسٹس کارلینیس یا جسٹس منیر بننا ہے چیف جسٹس کے پاس موجود وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے
چیف جسٹس چئیرمین اور کارکنان PTI کی حقوق پامالیوں کے خلاف فیصلہ دے کر تاریخ میں نام لکھوا سکتے ہیں،عامرمغل

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلات عامر مغل نے کہا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے پاس10 دن باقی ہیں وہ اپنا نام جسٹس کارلینیس کی لسٹ میں لکھوانا چاہتے ہیں یا جسٹس منیر کی لسٹ میں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں پاکستان میں جس طرح انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہوئی ہے اس نے چنگیز اور ہلاکو خان کی روح کو بھی شرما دیا ہے پاکستان پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کو کراچی سے خیبر تک ہزاروں کی تعداد میں اغوا کیا گیا ہے ان کے گھروں میں لوٹ مار کی گئی ہے ان کو سیدھی گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے تحریک انصاف کی چلتی ہوئی حکومت کو پیسوں کے ذریعے دھونس دھاندلی کے ذریعے اور طاقت کے ذریعے ختم کیا گیا ہے پرمن احتجاج کرنے والوں پر دہشت گردی کے جھوٹے پرچے دیے جاتے ہیں عمران خان پر 200 کے قریب جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں۔ عمران خان پر قاتلانہ حملے کی FIR تک درج نہیں کی گئی ہے۔
اس سب کے باوجود چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی خاموشی بڑی معنی خیز ہے چیف جسٹس عمر عطا بندیال تاریخ میں رقم ہونا چاہتے ہیں یا تاریخ میں دفن ہونا چاہتے ہیں یہ فیصلہ کرنے کے لیے ان کے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے ۔
آج بھی اگر وہ تاریخ انسانی کی ان بدترین حقوق کی پامالیوں پر از خود نوٹس لیتے ہوئے یا عمران خان کی درخواست پر جو انہوں نے پہلے ہی سپریم کورٹ میں دے رکھی ہے کوئی فیصلہ دے جاتے ہیں اور ظلم اور ستم کرنے والوں کو ان کے انجام تک پہنچاتے ہیں اور بے گناہوں کو جیلوں سے آزادی دلاتے ہیں عمران خان پر قاتلانہ حملے سمیت ناحق مقتولین کے قتلوں پر ایف ائی ار دلواتے ہیں اور کارکنان اور عمران خان پر جھوٹے پرچوں کو ختم کرنے کا حکم دیتے ہیں تو ان کا نام جسٹس کارلینئس کی فہرست میں لکھا جائے گا ورنہ جسٹس منیر کی فہرست بھی کوئی چھوٹی نہیں ہے اس میں بھی بہت سارے ججوں کے نام ہیں۔
یہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی اپنی چوائس ہے اگر وہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کا بل جس کے ذریعے سپریم کورٹ کو ربڑ سٹیمپ بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور نیب ترامیمی بل پر فیصلہ دے جاتے ہیں اور ارمی عدالتوں پر فیصلہ دے جاتے ہیں اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت 10 ہزار سے زائد کر کارکنان پر جھوٹے پرچوں کے خلاف ان کے گھروں میں لوٹ مار کے خلاف عورتوں کو ظلم و ستم کے خلاف عورتوں کے اغوا کے خلاف اور عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ایف ائی آر کے آرڈر دے جاتے ہیں تو ان کا نام تاریخ میں رقم رہے گا ورنہ جسٹس عمر عطا بندیال کا نام جسٹس منیر کی فہرست میں لکھے جانے کا خدشہ ہے۔




