
نگران وزیراعظم بحرانوں پر قابو پانے میں عملا بے بس نظر آتے ہیں معاملے پر چیف جسٹس آف پاکستان از خود نوٹس لیں
ماضی میں چینی بحران کی تحقیقات کے لئے قائم کی جانے والی کمیٹوں کی رپورٹس کو منظر عام پر لایا جائے،صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان محمد کاشف چوہدری کی چینی بحران پر پریس کانفرنس
اسلام آباد:صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان محمد کاشف چوہدری نے کہا ہے کہ چینی کا بحران ھر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رھا ھے،چینی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار 80 لاکھ تاجر نہیں بلکہ مافیاز ھیں جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھا ہے اور ان کا کسی نا کسی سیاسی جماعت سے گہرا تعلق ہے،ملک میں چینی وافر مقدار میں موجود ہونے کے باوجود انہی مافیاز نے اڑھائی لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرائی اور اربوں روپے کمائے،نگران وزیراعظم بحرانوں پر قابو پانے میں عملا بے بس نظر آتے ہیں لہذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ چینی بحران کے معاملے پر چیف جسٹس آف پاکستان از خود نوٹس لیں جبکہ سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر ،قوم کو ریلیف دینے کیلئے چینی سمیت دیگر بحرانوں کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ماضی میں چینی بحران کی تحقیقات کے لئے قائم کی جانے والی کمیٹوں کی رپورٹس کو منظر عام پر لایا جائے اور موجودہ چینی بحران کی ایف آئی اے اور نیب سے تحقیقات کرا کے ذمہ داروں کو منظر عام پر لایا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ترجمان مرکزی تنظیم تاجران ضیا احمد راجہ سمیت تاجر رہنما شیخ عبد السلیم ،شیخ شبیر انصاری ،خرم شکیل،افتخار شہزادہ و دیگر بھی موجود تھے۔محمد کاشف چوہدری نے کہا کہ ملک میں چینی کا بحران ہر گزرتے دن شست اختیار کرتا جا رہا ہے ،چینی کوئٹہ میں 230 روپے کلو،لاہور میں 200روپے،ملتان میں 190روپے، پشاور 220 روپے کلو،راولپنڈی /اسلام آباد میں 180 تا 200 روپے کلو تک جا پہنچی ہے۔ایک ایسے وقت میں چینی بحران آیا جب قوم کی جانب سے پہلے ہی بجلی،بجلی کی چیخیں سنائی دی جا رہی ہیں،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے،بڑھتی مہنگائی نے پہلے ہی عوام کا جینا دو بھر کر رکھا ہے ایسے میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے قوم کو شدید پریشان اور اضطراب کا شکار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں گنے کی فصل وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کریشنگ سیزن کے دوران 73لاکھ میٹرک ٹن چینی موجود تھی اور اس وقت 9لاکھ ٹن گزشتہ سال کے ذخائر بھی موجود تھیاب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ چینی موجود ہونے کے باوجود بحران کیوں آتا ہے؟ اور ہر سال کیوں چینی کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت کی وجہ سے یہ بحران آیا اور اس سیقبل پی ٹی آئی دور حکومت میں بھی چینی کا بحران پیدا ہوا اس وقت تحقیقاتی کمیٹیاں بنی لیکن ان کی رپورٹس منظر عام پر نہ آئیں اور نہ ہی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی اگر اس وقت ذمہ داروں کو قرار واقعی سزائیں دی جاتی تو اج یہ بحران نہ ہوتا کیا وجہ ہے کہ آج چینی آسمانوں کی حدوں کو چھونے لگی ہے.پنجاب کے شوگر کمشنر کی بات کریں تو وہ کہتے ہیں کہ چینی بحران کی ذمہ دار صوبائی حکومتیں ہیں اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتیں دوسری جانب وفاقی حکومت کو خود سمجھ نہیں آ رہی کہ چینی بحران پر کیسے قابو پایا جائے اور کیسے ان مسائل کو حل کیا جائے حالانکہ وزارت خزانہ کے مطابق اس وقت 22لاکھ ٹن چینی کے ذخائر موجود ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان یہ سمجھتی ہے کہ چینی بحران کی بنیادی وجہ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں ،نا اہلی،سمگلنگ اور سٹہ بازی ہے اور یی وجوہات ہمیشہ رہتی ہے اور کوئی ان کے خاتمے پر توجہ نہیں دیتا۔جنوری 2023میں حکومت کو چینی مافیاز نیبتایا گیا کہ ملک میں چینی وافر مقدار میں موجود ہے لہذا اسحاق ڈار کی سربراہی میں اڑھائی لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی اور اگست 2023تک 2لاکھ 40ہزار میٹرک ٹن چینی بدآمد کی گئی اور اربوں روپے کمائے گئے اور اب مہنگی چینی درآمد کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چینی بحران پر نگران حکومت نے اس کا ذمہ دار پی ڈی ایم حکومت کو قرار دیا جبکہ سابق ن لیگی وزیر احسن اقبال نے اس کا ملبہ پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر پر ڈال دیا اور نوید قمر نے جواب میں کہا کہ پی ڈی ایم میں یہ ان کا اپنا فیصلہ نہیں تھا بلکہ حکومت کا تھا ۔مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے سابق وزرا ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر بری الذمہ نہیں ھو سکتے ۔کاشف چوھدری نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ اسمگلنگ اور سٹہ بازی بھی ھے اور ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان میں چینی دھڑے سے اسمگل کی جا رہی ہے ،چینی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے قوم کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگا دیا گیا چینی بحران کے ذمہ داروں کو بے نقاب کرنے کیلئے ایف آئی اے ،نیب تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو بے نقاب کریں ۔کاشف چوھدری نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان چینی کے بحران پر ازخود نوٹس لیں جبکی مسلح افواج کے سربراہ ان بحرانوں کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے احکامات جاری کریں اور چینی کے بحران کے ذمہ داروں کو عبرتناک سزائیں دے کرمنطقی انجام تک پہنچایا جائے ۔کاشف چوھدری نے کہا کہ چینی کے معاملے پر وفاق اور صوبائی حکومتوں کی کوآرڈینیشن بہتر بنانے کی ضرورت ھے ۔چینی کی ھمسایہ ملک اسمگلنگ کے خاتمے کیلئے اسکی الگ ایکسپورٹ قیمت اور ٹیکسز کا نفاذ کیا جائے ۔کاشف چوھدری نے کہا کہ چینی کے بحران کا ذمہ دار ھول سیلر یا پرچون فروش نہیں ۔چینی کی قیمتیں کریانہ کی دکانوں پر چھاپے مارنے سے کم نہیں ھو سکتیں پرچون فروشوں و کریانہ دوکانوں پر چھاپے صرف رسمی کاروائیاں اور قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ھیں ۔حکومت رسمی کاروائیوں کی بجائے معاملات پر سنجیدہ ایکشن کرے کیونکہ چینی بحران کے ذمہ دار پرچون فروش نہیں بلکہ ایوانوں میں بیٹھے مافیاز ییں جن کی شوگرز ملیں ہیں اور ان کا کسی نا کسی سیاسی جماعت سے خاص تعلق ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی کو مانیٹر کرنے کا پورٹل غیر فعال ہے اور اسے فعال نہیں کیا جا رہا اور یہ کام حکومت کا ہے نہ کہ پوچون فروش کا۔




