ایشینز گیمز میں پاکستانی ایتھلیٹس کی ناکامی ،انٹرنیشنل ٹینس سٹار نے فیڈریشن کا کچا چھٹا کھول دیا

کھلاڑیوں کا شیڈول کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے ،پاکستان سے صرف چار کھلاڑی بھیجے گئے ، نہ کوئی مینیجر ہے نہ کوچ

چین ہانگزو (انٹرویو: خرم شہزاداعوان) پاکستان کے انٹرنیشل ٹینس سٹار اعصام الحق نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کا شیڈول کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے ،پاکستان سے صرف چار کھلاڑی بھیجے گئے ، نہ کوئی مینیجر ہے نہ ہی کوئی کوچ سارے کام ہم خود ہی کر رہے ہیں ، میڈلز جیتنے کے لیے سہولیات فراہم کرنا ہونگی ۔
چین کے شہر ہانگزو میں جاری انیسویں ایشین گیمز کے موقع پر روزنامہ سی پیک سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انٹرنیشنل ٹینس سٹار اعصام الحق نے کہا کہ پوری دنیا کے اندر جتنے بھی ایتھلیٹ ایونٹس کے لیے جاتے ہیں ان کو ایونٹ شروع ہونے سے کافی دن پہلے بھجوا دیا جاتا ہے تاکہ وہ وہاں پر جا کر کنڈیشنز کے مطابق اپنی تیاری کر سکیں جبکہ پاکستان میں سارا سسٹم الٹا ہی چل رہا ہے ہم یہاں پر ائے تو اس کے اگلے دن ہی ایشن گیمز کی افتتاحی تقریب تھی جس میں جانے کے بعد ہمارے چھ گھنٹے ضائع ہو گئے ہمیں ٹریننگ کرنے کا موقع ہی نہیں ملا پاکستانی ٹیم کے ساتھ نہ کوئی کوچ ہے نہ کوئی مینیجر ہے مجھے سارے کام کرنے پڑ رہے ہیں۔
پاکستان سے صرف دو خواتین اور دو مرد کھلاڑیوں کو چین بھجوایا گیا ہے ہم سنگل بھی کھیل رہے ہیں ڈبلز بھی کھیل رہے ہیں اور مکس ڈبلز بھی کھیل رہے ہیں اس طرح ایک بندہ جب اتنے زیادہ میچز کھیلے گا تو اس سے ہم کیا توقع کریں گے پوری دنیامیں پانچ رکنی ٹیم ہوتی ہے سنگلز والے سنگلز کھیلتے ہیں ڈبلز والے ڈبلز کھیلتے ہیں اور مکس والے اسی طرح کھیلتے ہیں اسطرح کھلاڑی فریش رہتے ہیں اور ریسٹ بھی ملتا ہے اگر میڈلز جیتنا ہے تو پوری ٹیم کو بھیجنا ہو گا اسطرح کھلاڑی ہر فارمیٹ میں کھیل کر نہیں جیت سکتے۔
اعصام الحق نے کہا کہ پاکستان کی خواتین کھلاڑی فزیکل فٹنس کے مقابلے میں پوری دنیا سے پیچھے ہیں ہمارے پاس سہولیات کی کمی ہے مناسب ٹریننگ کا بندوبست نہیں ہے ہمارے پاس کوئی B ٹیم نہیں ہوتی پوری دنیا کے اندر ایک B ٹیم بھی ہوتی ہے جو سینیئر کھلاڑیوں کے ساتھ تربیت حاصل کرتی ہے تاکہ ان کے جانے کے بعد وہ سینئر کی جگہ لے سکیں لیکن یہاں پر ایسا کوئی سسٹم ہی نہیں ہے پاکستانی کھلاڑیوں کی ہارنے کی ایک بڑی وجہ فلائٹ شیڈیول بھی ہے جب ہمارا شیڈول بنایا جاتا ہے تو ہم سے پوچھا ہی نہیں جاتا بس ایک دم بتا دیا جاتا ہے کہ اپ کا ٹکٹ اگیا ہے اپ نے کل جانا ہے اس طرح جب یہاں پر پہنچتے ہیں تو تھکے ہوتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں جانے کے لیے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہاں ایونٹ سے پہلے پہنچا جائے تاکہ کھلاڑی اس جگہ سے مطابقت رکھ کر اپنے اپ کو کنڈیشنز کے مطابق ڈھال سکیں ہمارا کوئی ٹرینر بھی نہیں بھیجا گیا سب کچھ ہم خود ہی کر رہے ہیں پاکستان کی طرف سے کھیلنا ایک اعزاز ہے ہم پوری کوشش کریں گے کہ باقی میچوں میں پاکستان کے لیے میڈلز جیت سکیں۔