میڈکل کالجز میں داخلے کے منتظر طلبہ کا ایم ڈی کیٹ کے رزلٹ کو دو سال کیلئے موثر قراردینے کا مطالبہ

قبل ایم ڈی کیٹ کا رزلٹ دو تین سال کیلیے کارآمد ہواکرتا تھا،یکدم پالیسی بدلنے سے بہت سے طلباء کا مستقبل تاریخ ہو جائے گا
اسلام آباد: میڈیکل کالجوں میں داخلے کے منتظر طلبہ و طالبات نے ایم ڈی کیٹ 2022, کے رزلٹ کو صرف ایک سال کے لیے کارآمد قرار دینے کی پی ایم ڈی سی کی پالیسی کو سخت ناانصافی قرار دیتے ہوئے اسے بدلنے کا مطالبہ کیا ہے۔
طلبہ و طالبات نے پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ جن طلبہ نے گزشتہ سال 2022 میں ایم ڈی کیٹ کا رزلٹ پاس کیا تھا لیکن کسی وجہ سے داخلہ نہ لے سکے کہ اگلے سال 2023 میں داخلہ لے لیں گے اسی وجہ بہت طلبا نے ایک سال کا قیمتی وقت ضائع کر کے ایف ایس سی کا امتحان اس سال Improve کیلئے بھی اپلائی کیا تھا ۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ایم ڈی کیٹ کا رزلٹ دو تین سال کیلیے کارآمد ہواکرتا تھا اور ایک سال رزلٹ پاس کرنے والے دوسال بعد بھی داخلہ لے سکتے تھے لیکن حیرت انگیز طور پر پی ایم ڈی سی نے صرف 2022 کے ایم ڈی کیٹ کے رزلٹ کی حد تک اس دفعہ پالیسی بدل ڈالی ہے اور ٹیسٹ پاس کرنے والوں سے ایک سال تاخیر سے داخلہ لینے کی سہولت ختم کر کے بے شمار طلبا جنھوں اس وجہ اپنا قیمتی سال ضائع کرکے اچھے ایگریکیٹ کیلئے اس سال ایف ایس سی Imbrove بھی کیا ھے ایسے میں ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ھے جس کی وجہ سے ان کا مستقبل تاریک ہوگیاہے اور والدین کو سخت مایوس کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے ۔متاثرہ طلبا اوران کے والدین نے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان , وفاقی وزیر صحت اور چیئرمین پی ایم ڈی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ سال کے ایم ڈی کیٹ کے رزلٹ کو دوسال کے لیے موثرقرار دیا جائے تاکہ ان کا مستقبل تاریک ھونے سے بچ سکے۔