باغیوں کو سزا مل گئی ، سردار مہتاب کی ن لیگ سے چھٹی

تحریک انصاف نے بھی 13 باغی رہنمائوں کو پارٹی سے نکال دیا

اسلام آباد : عام انتخابات کے بعد پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں ممسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نے اپنے باغی رہنمائوں کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے سردار مہتاب خان عباسی کو پارٹی سے نکال دیا۔ ایک نجی ٹی و کے مطابق سردار مہتاب خان عباسی کو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر جماعت سے نکالا گیا ہے، مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے مہتاب عباسی کو پارٹی سے نکالنے کا نو ٹیفیکیشن جاری کردیا گیا۔
خیال رہے کہ سردار مہتاب گروپ نے تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کیا تھا، مہتاب گروپ کے ترجمان جہانگیر خان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 17 سے مہابت خان کو ٹکٹ دے کر کارکنان کے ساتھ زیادتی کی جس پر مذکورہ فیصلہ کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ سردار مہتاب گروپ اب عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے مخالف، تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن لڑنے والے علی خان جدون کی حمایت کرے گا۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف نے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض، چیئرمین پبلک اکانٹس کمیٹی نور عالم خان سمیت مزید 13 ارکان کو پارٹی سے نکال دیاہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر راجہ ریاض اور نور عالم خان سمیت مزید 13 ارکان کو پارٹی سے نکال دیا، جن ارکان کو تحریک انصاف سے نکالا گیا ہے ان میں رمیش کمار وانکوانی، نزہت پٹھان، وجیہہ قمر، سردار ریاض محمود خان مزاری، رانا محمد قاسم نون، نواب شیر، مخدوم زادہ سید باسط احمد سلطان، افضل خان ڈھانڈلہ، محمد عبدالغفار وٹو، عامر طلال گوپانگ اور احمد حسین دہڑ شامل ہیں۔پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر سابق ایم پی اے خیبرپختونخوا ملک شوکت علی کو بھی شوکاز نوٹس جاری کر دیا
مذکورہ رہنماں کو کسی بھی طرح سے پارٹی کا نام اور عہدہ استعمال کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی، ملک شوکت علی کو مجاز اتھارٹی کے علم میں لائے بغیر دوسری پارٹی کے اجلاس میں شرکت پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، ان سے دو دن میں وضاحت طلب کی ہے۔