کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے اپنے رول 5 میں بھی ترمیم کردی

اسلام آباد:سپریم جوڈیشل کونسل نے مستعفیٰ متنازع جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو برطرف کرنے کی سفارش کرتے ہوئے اپنی رائے منظوری کیلئے صدر مملکت کو بھجوا دی ہے۔ اس طرح کسی بھی ممکنہ تادیبی کاروائی سے بچنے کے لئے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ بھی ان کے کسی کام نہ آیا۔
کونسل کے اعلامیے میں بتایا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا 29 فروری اور یکم مارچ کو اجلاس ہوا، جس میں جسٹس مظاہر نقوی پر بطور جج سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ لگائے گئے الزامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں شریک ججز نے ان الزامات اور صفائی پیش نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔اعلامیے کے مطابق جسٹس مظاہر نقوی آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی کرکے مس کنڈکٹ کے مرتکب ٹھہرے۔ مذکورہ جج کے خلاف 6 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے پانچ پر معزز اراکین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کر کے 14 روز میں جواب جمع کرانے کی مہلت دی۔
سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے یہ بات آئی کہ مظاہر نقوی آئین کے آرٹیکل 209 (6) کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں اور مجرم قرار دیے گئے لہذا صدر مملکت انہیں عہدے سے برطرف کریں۔
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت زیرِسماعت تھی جس میں ان پر اثاثوں سے متعلق الزامات تھے، اس کے علاوہ ان کی ایک مبینہ آڈیو بھی سامنے آئی تھی۔جسٹس مظاہر نقوی کاروائی کے دوران ہی سزا سے بچنے کے لئے مستعفیٰ ہو گئے تھے تاکہ کسی بھی ممکنہ کاروائی سے بچ سکیں۔
تاہم کونسل نے اپنے رول پانچ میں ترمیم کرتے ہوئے مستعفیٰ ہونے کے باوجود ان کے خلاف کاروائی جاری رکھی۔ گزشتہ ہفتے سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس (ر) مظاہر نقوی کے خلاف شکایت پر کارروائی مکمل کی تھی۔
سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کونسل نے اپنے رول 5 میں ترمیم کی ہے، رول 5 میں ترمیم کے بعد الزامات پر وضاحت دینے کا حق ججز کو دے دیا گیا ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز پر الزامات لگا کر ان کی تشہیرکی گئی،کئی ججز نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر تشویش کا اظہار کیا۔
اعلامیے کے مطابق ججز کا مقف ہے کہ بے بنیاد الزامات پر جواب سے ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5 کی خلاف ورزی ہوگی، کونسل مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ بے بنیاد الزامات کا جواب دینے سے شق 5 کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، ججز کی تشویش کے باعث ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5 میں ترمیم کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال 10 جنوری کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استعفا دے دیا تھا، تاہم، سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ یا مستعفی ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی جاری رکھنے یا نہ رکھنے سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ استعفا دینے سے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی نہیں رکے گی۔
ذرائع کے مطابق دوسری جانب جسٹس (ر) مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی کو چیلنج کرنے کا اعلان کیاہے۔
استعفیٰ کام نہ آیا،سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو برطرف کرنے کی سفارش کردی



